روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

’ایران: پھانسیوں پر ٹرمپ کا بیان بائیں بازو کیلئے بھی باعث رسوائی ہونا چاہئے‘ - روزنامہ جدوجہد

’ایران: پھانسیوں پر ٹرمپ کا بیان بائیں بازو کیلئے بھی باعث رسوائی ہونا چاہئے‘ - روزنامہ جدوجہد

سیاوش شہابی

ایک یونانی فیمن اسٹ کارکن سے ہونے والی ایک گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایران میں سزائے موت کے خلاف جاری ایک بیان جاری کیا۔ ان کے بقول،انہوں نے اس بیان کے لئے تحقیق کی نیز جنگ، ٹرمپ اور نیتن یاہو،تینوں کے خلاف واضح موقف لیا، ایران میں سزاؤں اور”زن، زندگی، آزادی“ تحریک کے آغاز کے بعد سے لاپتہ کی جانے والی خواتین کے خلاف احتجاج کیا، اسلامی جمہوریہ کے سفارتخانے کے باہر جمع ہوئیں، اور سزائے موت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ کھڑی رہیں۔فیمن اسٹ کارکن کے مطابق،بعد میں ان پر ایک یا ایک سے زائد افراد نے رکیک حملے کئے۔معترضین کو کا ردعمل صرف کسی رپورٹ پر شکوک کا اظہار نہیں تھا۔۔۔بلکہ روایتی بد زبانی پر مبنی اور گھٹیا تھا، وہی نسل پرستانہ منطق جس میں ایرانی زندگی کو ہمیشہ مشروط سمجھا جاتا ہے۔

مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ کوئی رپورٹ درست ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اسے درست ہونا چاہیے، مگر ایران میں پھانسیاں کوئی افواہ نہیں ہیں۔ ایران کی پھانسیاں دینے والی مشین ہر روز کام کرتی ہے۔ جھوٹے مقدمات میں یا بغیر مقدمات کے سیاسی قیدی، مظاہرین، عورتیں، مرد، نوجوان، بوڑھے سب ایک ایسی ریاست کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جس نے اپنے لیے انسان کو مارنے کا حق محفوظ رکھا ہوا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگوں کو رپورٹ کی جانچ میں احتیاط کرنی چاہیے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے ایران میں پھانسیوں کے خلاف احتجاج کرنا کس طرح فوراً”مغربی پروپیگنڈے کا ساتھ دینے“میں بدل جاتا ہے، جبکہ اصل پھانسی، یعنی ریاست کا انسانی جان لینے کا دعویٰ اچانک ثانوی چیز بن جاتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں اخلاقیات دم توڑ جاتی ہیں اور نظریہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔

اس منطق میں ایرانی متاثرہ شخص کو پہلے یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس کی موت ٹرمپ کے فائدے کے لیے استعمال نہیں ہوگی، اور صرف تب شاید وہ ہمدردی کے لائق ٹھہرے۔ اسے اپنی معصومیت اسلامی جمہوریہ کی عدالت میں نہیں بلکہ مغربی جغرافیائی سیاست کی عدالت میں ثابت کرنی پڑتی ہے۔ اسے دکھانا پڑتا ہے کہ وہ اتنا”قابل قبول“ہے کہ اس کے قتل پر غم و غصہ غلط تاثر پیدا نہیں کرے گا۔

دوسرے لفظوں میں انسانی جان اصول نہیں رہتی،وہ ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس کا انحصار پروپیگنڈہ کرنے والے پر ہوتا ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اورینٹل ازم اینٹی سامراجیت کی زبان میں بولتی ہے۔ یہ وہی گندہ نسل پرستی پر مبنی تصور ہے جو ایک انسان کی جان کو بنیادی قدر دیتا ہے اور دوسری کو صرف مشروط قدر۔

ایک مغربی شخص کو اس سے کہیں زیادہ محتاط ہونا چاہیے، کیونکہ جب وہ ایران کے بارے میں بات کرتا ہے، تو وہ”باہر“سے بات نہیں کرتا، یا کم از کم ایک غیرجانبداربیرون میں نہیں رہ رہا ہوتا۔ وہ ایک پوری تاریخ کے اندر سے بولتا ہے: نوآبادیات، ذلت، مشرقیت پسندی، جنگ، اور دوسروں کی آوازوں کو دبا دینے کی تاریخ سے۔اگر اس پوزیشن میں اس کا ٹرمپ اور جنگ پر کی گئی تنقید ایران کی عوامی جدوجہد کو شک، حقارت یا الزام کا نشانہ بنا دے، تو پھر وہ تنقید آزاد کرنے والی نہیں رہتی۔ وہ صرف اسی نوآبادیاتی تکبر کی ایک زیادہ مہذب شکل بن جاتی ہے۔

میری تنقید مغربی فیمن ازم اور مغربی بائیں بازو کے ان حصوں پر بہت واضح طور پر ہے جو ایران میں برسوں سے جاری جبر پر خاموش رہے، یا اس کے بارے میں جھوٹ بولتے رہے، یا ثقافتی تفاوت کے نام پر اسے نظرانداز کرتے رہے۔ انہوں نے اس معاشرے کو اتنے عرصے تک دھتکارا، خواتین، قیدیوں، اور پھانسی پا جانے والوں کے خاندانوں کی آوازوں کو اتنے عرصے تک پس پشت ڈالا کہ آج ٹرمپ اور نیتن یاہو بے شرمی سے جھوٹ بول سکتے ہیں اور ایران میں پھانسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا ڈرامہ کر سکتے ہیں۔

یہ صرف ان کی رسوائی نہیں، یہ آپ کی بھی ہے۔

وہ ثقافت جو انسانی جان کو بے وقعت بناتی ہے، وہ ہماری نہیں۔ سزائے موت کی ثقافت، قبضے کی ثقافت، کیمپوں کی ثقافت، قیدخانوں کی ثقافت، اجتماعی قتل عام کو جائز ٹھہرانے کی ثقافت آپ کی ثقافت ہے۔ ایران کے لوگ جو سزائے موت، مذہبی آمریت، قید اور جبر کے خلاف لڑ رہے ہیں، وہ نہ مغربی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں اور نہ اس کا آلہ۔ وہ ایک زندہ معاشرہ ہیں جو جینے کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں