روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بلوچستان: غیرت کا داغ

بلوچستان: غیرت کا داغ

اکبر نوتزئی

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ’غیرت‘ کے نام پر ایک جوڑے کے لرزہ خیز قتل کے بعد افسردگی اور غصے کی فضاء چھائی ہوئی ہے۔یہ واقعہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ایک ہولناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک مرد اور عورت کو انتہائی قریب سے گولیاں مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں اس جوڑے کی شناخت احسان سمالانی اور نور بانو ستاکزئی کے طور پر ہوئی، جنہیں کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں قتل کیا گیا ۔یہ واقعہ ویڈیو منظر عام پر آنے سے تقریباً2ماہ قبل جولائی کے آخر میں پیش آیا تھا۔

الجھی ہوئی قبائلی اقدار

ڈیگاری ستاکزئی قبیلے کے افراد پرمشتمل علاقہ ہے اور کوئٹہ اور مچھ کے درمیانی پہاڑیوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے دیہات کی صورت میں بسا ہوا ہے۔ اس علاقے میں جاتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ وہاں ایک گہری خاموشی طاری ہے۔ دیہات کے اندر ایک مختلف نوعیت کا غصہ پایا جاتا ہے۔

یہاں کے قبائلی افراد خاص طور پر اپنے قبائلی سردار شیرباز ستاکزئی کی گرفتاری اور دیگر گرفتاریوں پر برہم ہیں۔مسئلے کی حساسیت کے باعث اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر نور نامی ایک قبائلی نوجوان نے بتایا کہ ’ان دونوں کو قبائلی اصولوں کے مطابق سزا دی گئی۔‘ اس نے کہا کہ ’ان دونوں کے بچوں کے باوجود ان کے درمیان ناجائز تعلق تھا، اس لیے ان کو سزا دی گئی کہ انہوں نے نہ صرف اپنے قبیلوں بلکہ اپنے خاندانوں کی بھی بدنامی کی۔‘نور کی طرح دیگر قبائلی افراد نے بھی یہی جذبات دہرائے۔

ان میں مقتولہ کی والدہ گل جان بی بی بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایک ویڈیو میں اس قتل کو جائز قرار دیا۔ ویڈیو میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سردار کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ویڈیو کے بعد پولیس نے انہیں بھی گرفتار کر لیا۔

بدقسمتی سے اس طرح کی سوچ بلوچستان کے قبائلی حلقوں میں عام پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے قتل بڑی آسانی سے اور بغیر کسی خوف کے کیے جاتے ہیں، جبکہ ریاست ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ 2023 میں ضلع بارکھان میں پیش آیا، جہاں ایک کنویں سے تین گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک عورت اور دو نوجوان مردشامل تھے۔ یہ کنواں سردار عبد الرحمان کھیتران کے گھر کے قریب تھا۔ مقتولین کے ایک رشتہ دار نے سردار کھیتران پر الزام لگایا کہ وہ ان کے رشتہ داروں کو قید میں رکھے ہوئے تھے اور انہیں قتل کر دیا۔

کھیتران ماضی میں بھی متنازعہ الزامات کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں 2006 میں نجی جیلوں میں لوگوں کو قید رکھنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ تاہم وہ ’ناکافی ثبوت‘ کی بنیاد پر ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج بھی وہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی کابینہ میں ایک وزیر کے طور پر شامل ہیں۔عام تاثر یہی ہے کہ کھیتران اور ان جیسے دیگر افراد کو ریاستی اشرافیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے مکمل تحفظ حاصل ہے۔

محدود روک تھام

ڈیگاری کا واقعہ بلوچستان میں ہونے والا پہلا اور آخری لرزہ خیز قتل نہیں ہے۔ ڈیگاری واقعے کی ویڈیو سامنے آنے سے صرف چند دن پہلے ہی جعفرآباد ضلع میں ایک اور عورت کو نام نہاد غیرت کے نام پر اس کے ماموں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔

لیکن جعفرآباد کے اس واقعے نے ملک بھر میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کی، کیونکہ یہ واقعہ ڈیگاری واقعے کے برخلاف صرف ایک پولیس رپورٹ تک محدود رہا، اورڈیگاری واقعہ کی خوفناک ویڈیو نے ہماری اجتماعی یادداشت پر نقش چھوڑ دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان جیسے دورافتادہ علاقے میں رونما ہونے والے ان واقعات کا کیا ہوگا، جن کی اطلاع ہی نہیں ملتی؟

اسلام آباد میں قائم ایک خودمختار ادارے سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے مطابق 2024 میں پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 32ہزارسے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 547 ’’غیرت کے نام‘‘ پر قتل کے واقعات شامل تھے۔ان واقعات میں سے 32 بلوچستان میں پیش آئے، لیکن صرف ایک کیس میں سزا سنائی گئی۔

فوزیہ شاہین ماضی میں بلوچستان کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کے کئی مقدمات سے نمٹ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایسے واقعات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’اب غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات رپورٹ ہوتے ہیں اور میڈیا میں اجاگر ہوتے ہیں، جبکہ ماضی میں نصیرآباد جیسے علاقوں میں ان پر بات کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اب میڈیا رپورٹ کرتا ہے، پولیس کارروائی کرتی ہے اور لوگ بھی ایسے قتل کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔‘

ایک سست رفتار تبدیلی

شاہین کا کہنا درست ہے کہ حالات اب شاید تھوڑا بہت بدل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2008 میں بلوچستان میں تین لڑکیوں کو غیرت کے نام پر زندہ دفنا دیا گیا تھا۔ اس وقت کے سینیٹر میر اسرار زہری نے ایوان بالا میں کھڑے ہو کر صاف الفاظ میں کہا کہ یہ قتل ان کی روایات کا حصہ ہیں۔ آج کوئی اس طرح کے قتل کی حمایت کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

شاہین کہتی ہیں کہ ’غیرت کے نام پر قتل سے متعلق وفاقی سطح پر پہلے ہی قانون موجود ہے۔‘ان کا اشارہ 2016 میں ہونے والی قانون سازی کی طرف تھا، جو سوشل میڈیا سلیبریٹی قندیل بلوچ کو ان کے بھائی کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے بعد کی گئی تھی۔ یہ قانون قاتل کو تاحیات ، یعنی 25 سال قید کی سزا دیتا ہے، چاہے مقتول کے لواحقین اسے معاف ہی کیوں نہ کر دیں۔

تاہم کوئٹہ میں خواتین کے حقوق کی کارکن قمرالنسا کا ماننا ہے کہ قبائلی روایات قانون سے بالاتر رہتی ہیں،جن میں عورت کو نام نہاد غیرت کے نام پر مار دیا جاتا ہے ۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب ایسے کیسوں میں گرفتاریاں ہوتی بھی ہیں، تو جیسے ہی وقت گزر جاتا ہے، لوگ رہا ہو جاتے ہیں۔ایسے جرائم کو روکنے کے لیے سخت قوانین، موثر روک تھام اور سزا ضروری ہے۔‘

ڈیگاری میں پیش آنے والا وہ اندوہناک واقعہ، جس میں احسان سمالانی اور نور بانو سٹک زئی کی جانیں لی گئیں، شاید کچھ وقت بعد لوگوں کی یادداشت سے محو ہو جائے، لیکن ہمیں ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے، جو اس ویڈیو میں نظر آتی ہے:

نور بانو اپنی موت سے چند لمحے قبل اپنے بھائی کو ہمت اور یقین سے کہتی ہے:

’تمہیں صرف مجھے گولی مارنے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

جب اس کا بھائی اسے 7گولیاں مارتا ہے، اور وہ زمین پر گر پڑتی ہے، تو اس کی بے جان لاش اس نام نہاد’غیرت‘کے تصور پر سوالیہ نشان بنا کر چھوڑ جاتی ہے، وہ غیرت جو بار بار ہماری عورتوں اور بچیوں کو مار دیتی ہے۔

(بشکریہ: ’ڈان‘، ترجمہ : حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں