روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کی بڑھک بازی

بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کی بڑھک بازی

ذوالفقار علی زلفی

پاکستان کی سب سے بڑی ’جمہوری جماعت‘ ہونے کا دعوی کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نواب ثنا اللہ زہری کی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے خضدار سے ایک بچی کو اغوا کرلیا۔ قبل ازیں سردار عبدالرحمن کھیتران کی نجی جیل میں خواتین کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ بلوچستان میں جب بھی ایسا کوئی سانحہ سامنے آتا ہے تو بلوچ شہری مڈل کلاس فوراً سرداری نظام کے خاتمے کا نعرہ لگانا شروع ہوجاتی ہے۔ اب بھی یہ نعرہ شہری مڈل کلاس طبقے کی جانب سے پوری شدت کے ساتھ لگایا جارہا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ قبائلی نظام ایک فرسودہ ادارہ ہے،جس نے بلوچ تہذیب و تمدن کے ارتقا کی رفتار کو سست کر رکھا ہے۔ اس نظام کا مکمل خاتمہ مگر جذباتی نعرے بازی اور کسی مخصوص سانحے کے خلاف احتجاج سے ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی سیاسی و سماجی نظام کی تخریب اس کے متبادل کی تعمیر سے مشروط ہوتی ہے۔ قبائلی نظام کا متبادل کیا ہے؟ کیا نوآبادیاتی نظام اس کا متبادل ہوسکتا ہے،جیسا کہ نیشنل پارٹی کے بعض ’دانش ور‘ مسلسل ملٹری کنٹرولڈ ڈیموکریسی کو متبادل بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

تماشا یہ ہے کہ بلوچستان میں یہ دونوں نظام ایک دوسرے کے سہارے چل رہے ہیں اور مسلسل پیش آنے والے سانحات ان دونوں نظاموں کو عوام دشمن ثابت کر چکے ہیں۔

قبائلی نظام دراصل بلوچستان کی قبائلی معیشت اور اس سے بننے والے پیداواری رشتوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس نظام کے موجودہ ڈھانچے کی سرپرستی نوآبادکار کرتے ہیں۔ قبائلی معیشت کی وجہ سے عام بلوچ کی وفاداری سب سے پہلے اپنے قبیلے اور اس کے سردار سے ہوتی ہے، اس کے بعد وہ قوم و وطن کا سوچتا ہے۔ وطن کا تصور بھی جدید قوم پرست سیاست کی دین ہے،وگرنہ عام قبائلی کے نزدیک اس کا وطن وہی ہے جہاں اس کے قبیلے کی اکثریت ہے،جب کہ غیر قبائلی (مکران) بلوچ اپنے گاؤں کو ہی اپنا ’ملک‘کہہ کر پکارتا ہے۔

مسلسل بیرونی مداخلت اور طویل عرصے سے نوآبادیاتی سماجی زندگی نے کلاسیکل قبائلی نظام کو بڑی حد تک مسخ کردیا ہے۔ یہ نظام اپنی شکل بدل کر سرداری نظام میں ڈھل چکا ہے۔ سردار بیک وقت نوآبادکار کا سدھایا ہوا طبقہ، مافیا، سیاسی لیڈر، جاگیردار اور سرمایہ دار بن گیا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں ابھرنے والی موقع پرست ارب پتی مڈل کلاس (منشیات اسمگلر، لینڈ مافیا، معدنیات مافیا وغیرہ) کے ساتھ اس کے اشتراک و تضادات اور پھر ان کے نوآبادکار کے ساتھ رشتوں نے بلوچ سماجی، سیاسی اور معاشی ساخت کو از حد پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بلوچستان میں جاری مسلح تحریک آزادی نے ان استحصالی طبقات اور نوآبادکار کے درمیان رشتوں کو جو گہرائی و مضبوطی بخشی ہے،اس نے”تو من شدی و من تو شدم“جیسی صورت حال کو جنم دیا ہے۔

اس پیچیدہ نظام کو شہری مڈل کلاس قوم پرست سرداری قرار دے کر جب اس کے خاتمے کا نعرہ لگاتا ہے تو پیٹی بورژوا قوم پرست سیاست کی فکری افلاس پر ترس آنے لگتا ہے۔ فکری افلاس کی انتہا اس وقت نظر آتی ہے جب خود کو ترقی پسند قوم پرست کہلوانے والے عورت کو پوری قوم (خون آشام سردار، مذہب فروش ملا و جرائم پیشہ مڈل کلاس بھی شامل) کی غیرت کا ٹھیکہ تھما کر اغواء و ریپ جیسے سنگین انسان دشمن جرائم کو بلوچ قومی غیرت کی پامالی جیسے از کارِ رفتہ و فرسودہ بیانیے کے ذریعے جاگیردارانہ ثقافت کی اثبات کرتے ہیں۔ بی ایس او کے سابق چیئرمین نے تو فکری افلاس کی ہر حد توڑ کر فرمایا ’خضدار سے خاتون کا اغوا ء غیر سیاسی معاملہ ہے۔‘ اس قسم کی فضول نعرے بازی اور قومی غیرت کے ڈھکوسلے بذاتِ خود یہ ثابت کرتے ہیں کہ قوم پرستی پر مبنی یک رخی سیاست پیچیدہ سماجی و معاشی مسائل کے حل کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ نوآبادکار کے سدھائے ہوئے طبقے کی جانب سے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کی سماج دشمن کارروائیوں کو غیر سیاسی قرار دینا اور اسے قومی غیرت کا معاملہ سمجھنا فکری بانجھ پن نہیں تو کیا ہے؟ سابق بی ایس او چیئرمین سے زیادہ باشعور تو جتک خاندان ثابت ہوا،جس نے ایک ’ذاتی مسئلے‘کو اجتماعیت میں ڈھال کر سیاسی راستہ اختیار کیا۔

شہری مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے بلوچ قوم پرست سیاسی لحاظ سے ایک نعرے باز و بڑھک باز طبقہ ہے۔ اپنے ہی تضادات میں غلطاں و پیچاں ایک ایسا طبقہ جو صرف ناک کی سیدھ میں دیکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ نعرے بازی و بڑھک بازی کی لت میں مبتلا اس طبقے کو اپنے تضادات پر نگاہ دوڑانے کی بھی فرصت نہیں۔

حالیہ سانحے کے خلاف احتجاجاً کوئٹہ کراچی شاہراہ بند کی گئی۔ اس شاہراہ کو بند کرنے کے دو مقاصد تھے۔ اول؛ بلوچ قبائلی نظام (سرداری) کو حرکت میں لایا جائے،تا کہ وہ روایتی طریقے سے اس مسئلے کو حل کرے۔ دوم؛ نوآبادیاتی نظام کے قانون و انصاف کو جگایا جائے،تا کہ وہ اپنے مروجہ قوانین و نوآبادیاتی ڈھانچے کے ذریعے خاتون کو بازیاب کرے۔ گویا شہری مڈل کلاس قوم پرست جن نظاموں کے خاتمے کا نعرہ لگا رہے تھے، انہی سے مدد کے بھی طالب تھے۔ اب اس سادگی پہ کون نہ مرجائے؟

اس حوالے سے ایک دلیل یہ دی جاسکتی ہے کہ جب تک یہ نظام ختم نہیں ہوجاتے،تب تک ان کے ذریعے روز مرہ کے مسائل کا حل ضروری ہے۔ یہاں بھی شہری مڈل کلاس قوم پرست تضادات کا شکار نظر آتے ہیں۔

نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک پرتشدد تحریک چل رہی ہے اور اس تحریک سے وابستہ اراکین کا سیدھا موقف ہے کہ قومی آزادی ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ قومی آزادی کے بعد موجودہ نیم جاگیردارانہ قبائلی نظام کو کس متبادل نظام کی صورت ختم کیا جائے گا؟ اس سوال کا جواب فی الوقت آزادی پسند حلقوں کے پاس نہیں ہے یا کم از کم نظر نہیں آتا۔

سرداری نظام کے مخالف ’شہری مڈل کلاس پاکستانی جمہوریت پسند‘ زیادہ بدتر صورت حال کا شکار ہیں۔ وہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پر بضد ہیں جس کے سبب بیمار ہیں۔ پاکستان کی ملٹری کنٹرولڈ ڈیمو کریسی بلوچستان میں سردار، ملا، اسمگلر اور مافیا کے گٹھ جوڑ کی مکمل سرپرستی کرتی ہے اور اس کے ساتھ نوآبادیاتی تسلط کو برقرار رکھتی ہے۔ ایسے میں بھلا کیسے اور کس متبادل کے ذریعے ’سرداری نظام‘کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے؟ اس طبقے کی ایک بڑی اکثریت خود کو مارکس ازم کا پیروکار گردانتی ہے۔یہ ٹولی آزادی پسندوں سے ہم دردی کا دکھاوا بھی کرتی ہے اور نوآبادیاتی نظام کا حصہ بن کر فوجی الیکشن کو بھی نجات کا راستہ سمجھتی ہے۔ اس دوغلی پالیسی کے ذریعے ’سرداری نظام‘کا خاتمہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟

عام بلوچ کی روز مرہ زندگی میں قبائلی نظام از حد اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کسی متبادل کی عدم موجودگی میں اسی نظام اور شناخت میں ہی اپنا مفاد دیکھتا ہے (حالیہ سانحہِ خضدار میں بلوچ شہری مڈل کلاس کی بڑھک بازی و نعرے بازی اور یوٹوپیائی خواہشات کے باوجود قلاتی شہزادے کا فریق بننا ٹھوس حقیقت ہے)۔ عام دیہی بلوچ کسی بڑھک باز و نعرے باز کے مقابلے میں زیادہ اپنے معروض کا شعور رکھتا ہے۔ قبائلیت لاکھ از کارِ رفتہ تصور ہو مگر وہ اس وقت تک اس کے ساتھ چمٹا رہے گا،جب تک کوئی دوسرا نظام اس کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت نہ دے (بلوچ سرمچار اگر بھارتی ماؤ اسٹوں کی طرح ایک متوازی نظام بنانے میں کامیاب ہوئے تو الگ بات ہے، ہر چند ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آ رہی)۔

قومی و طبقاتی آزادی کی تحریکیں سنجیدہ غور و فکر اور اسماجی تضادات کو گہرائی سے سمجھنے کی متقاضی ہیں۔ بقول بابا مری؛ یہ جاننا اور سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے نظام میں کتنا حصہ سنڈیمن کا ہے، کتنا پنجابی کا اور کس قدر ہمارا اپنا۔

Zulfiqar Ali Zulfi

ذوالفقار علی زلفی لیاری کراچی میں رہتے ہیں۔ خود کو سینما کا طالب علم کہتے ہیں اور فلمی بالخصوص ہندی فلموں کی تبصرہ نگاری اور تجزیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مارکسسٹ لیننسٹ نظریے کو اپنا رہنما تصور کرتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں