محمد اکبر نوتزئی
رمضان مینگل اپنی اصل عمر سے کہیں زیادہ بوڑھے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنی داڑھی اور مونچھوں کے سفید بالوں کو مہندی لگا کر چھپانے کی کوشش کی ہے۔
وہ ایک مقامی سنگین کے رہائشی اور ایک چرواہے ہیں۔ یہ گاؤں بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پاکستان اور ایران کی سرحد کے نزدیک واقع ایک ویران بستی ’ڈاک‘ کے ترک شدہ دیہاتی جھرمٹ میں آباد ہے۔
ایک باہر والے کے لیے ممکن ہے کہ وہ بہت سادہ زندگی گزارتے دکھائی دیں، لیکن حقیقت میں رمضان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ایسا بوجھ جو وہ برسوں سے اتار نہیں سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرض کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے قرض خشک سالی کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں، جو عشروں سے ان کے گاؤں کی زندگی کو متعین کرتی آئی ہے۔
بوڑھے چرواہے کے مویشی کمزور ہوتے چلے گئے کیونکہ چراہ گاہیں سوکھ گئیں اور گھاس غائب ہوتی گئی۔ خوراک اور پانی کی شدید کمی کے باعث بہت سے جانور مر گئے۔ جب کوئی چراگاہ باقی نہ رہی تو انہیں جانوروں کا چارہ خریدنا پڑا، وہ بھی ایسی قیمتوں پر جن تک ان کی پہنچ نہیں تھی۔
رمضان کے قرض خواہ نوشکی ٹاؤن کے مرکزی بازار کے ایک تاجر ہیں،جو بہت سے دیہاتیوں کو قرض دیتے ہیں۔ سنگین کے زیادہ تر گھروں کی طرح رمضان کا گزارا بھی ادھار پر ہی چلتا ہے۔ بار بار قرض لینے کی وجہ سے وہ صحیح رقم بھی یاد نہیں رکھ پاتے کہ ان پر کتنا واجب الادا ہے۔
اپنے کچے مکان میں واقع مہمان خانے میں بیٹھے ہوئے رمضان بتاتے ہیں کہ ”میرے خیال میں مجھے تاجر کو تین سے چار لاکھ روپے واپس کرنے ہیں۔اگر ہم قرض نہ لیں تو زندہ نہیں رہ سکتے، کیونکہ ہمارے پاس گزر بسر کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔“
وہ بتاتے ہیں کہ بازار کا ہر چکر ان کے نقصان میں اضافہ کرتا ہے۔”جب میں بازار جاتا ہوں تو میں ایک بکری یا دنبہ 20ہزار روپے میں بیچتا ہوں، اور پھر مجھے اپنے گھر کے لیے راشن اور جانوروں کے لیے 60ہزار روپے کا چارہ خریدنا پڑتا ہے۔ یوں میں 20ہزار ادا کرتا ہوں اور باقی رقم تاجر اپنے رجسٹر میں لکھ لیتا ہے۔ اسی طرح چند سالوں میں میرے قرض بڑھتے چلے گئے ہیں۔“
قرض لینے کے اس نہ رکنے والے چکر نے رمضان کو روحانی طور پر بھی بے چین کر رکھا ہے۔وہ اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں کہ ”نماز پڑھنے کے باوجود مجھے تاجر سے یہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے کہ میں اس کا سارا قرض جلد لوٹا دوں گا۔پھر میں دوبارہ اس کے پاس قرض لینے چلا جاتا ہوں۔“
خشک سالی جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی
رمضان کی کہانی ڈاک میں انوکھی نہیں۔ بلیک ٹی کے کپوں کے ساتھ بیٹھ کر گاؤں والے مویشیوں کے نقصان، بڑھتے ہوئے قرضوں اور روزگار کے سست روی سے زوال کے وہی مسائل بیان کرتے ہیں۔
نوشکی کے مقامی محقق احسان میر کے مطابق اس خطے نے عشروں سے بار بار آنے والی خشک سالیوں کو برداشت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اگر ڈاک میں خشک سالی شروع ہو جائے تو یہ 5یا6 سال تک جاری رہتی ہے“،یعنی اس علاقے میں خشک دورانیے لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔
نوشکی ضلع کوئٹہ سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ اس کا منظرنامہ پہاڑوں، میدانوں اور صحرا کے غیر معمولی امتزاج سے بنا ہے۔ سنگین صحرا کے دہانے پر واقع ہے، اس لیے بارشوں کی ناکامی اور طویل خشک وقفوں کے لیے خاص طور پر کمزور ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ خشک سالی 1990ء کی دہائی سے پہلے بھی موجود تھی، لیکن وہ شاذ و نادر ہی ایک یا دو سال سے زیادہ رہتی تھی۔ یہ پیٹرن 1997 کے بعد تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد سے خشک دورانیے زیادہ طویل اور بار بار ہونے لگے، جنہوں نے ڈاک بھر میں پانی کے ذرائع، چراگاہوں اور روزگار کو بتدریج تباہ کر دیا۔
محکمہ موسمیات پاکستان کی ڈراؤٹ واچ 2025 رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا موسم خشک سے نیم خشک ہے، جہاں بارش غیر متوقع ہوتی ہے، درجہ حرارت شدید حد تک بڑھ جاتا ہے اور طویل خشک وقفے عام ہیں۔ مغربی اور جنوب مغربی بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ گرمیوں کی مون سون کی بجائے سردیوں کی بارش پر منحصر ہوتا ہے۔
ان علاقوں میں سالانہ بارش 71 سے 231 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ نوشکی جیسے اضلاع اس سے بھی کم بارش حاصل کرتے ہیں۔ دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک کی پیشگوئیاں معمول سے کم بارش اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت ظاہر کرتی ہیں، یہ ایسی صورتحال ہے جو خشک سالی کو مزید شدید کر سکتی ہے۔
پیچھے رہ جانے والے گاؤں
خشک سالی کے اثرات ضلع کے خالی گھروں اور سکڑتے ہوئے دیہاتوں کی صورت میں واضح نظر آتے ہیں۔ سنگین کا پرانا آباد حصہ اب مکمل طور پر ویران ہو چکا ہے۔
وہاں جانے والے لوگوں کو اس ترک شدہ بستی کا دورہ کروانے والا نوعمر لڑکا قدوس مینگل بتاتا ہے کہ ”ہم نے اپنے گھر 2022 کے سیلاب کی وجہ سے چھوڑے، جنہوں نے نوشکی ضلع میں تباہی مچا دی تھی۔“
حکومتی اندازوں کے مطابق 2022 کے سیلاب نے پورے پاکستان، خصوصاً بلوچستان اور سندھ میں وسیع تباہی پھیلائی۔ اس سیلاب نے زمین کے بڑے رقبے بہا دیے، 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 1700 لوگ جان سے گئے، اور 30 ارب ڈالر کے مالی نقصانات ہوئے۔
2022 کے بعد سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، جو زیادہ تر خشک سالی کی وجہ سے ہے۔ قدوس مینگل بتاتا ہے کہ ”سنگین میں کبھی 40 سے زیادہ گھرانے آباد تھے۔ اب صرف 15 رہ گئے ہیں۔“
اس سب کے علاوہ لوگوں کو پانی لینے کے لیے تقریباً 15 کلومیٹر دور زگروال نامی جگہ تک جانا پڑتا ہے۔ ڈاک کے دورے کے دوران وہاں کے دیہات میں تقریباً کہیں بھی پانی موجود نہیں دیکھا، حتیٰ کہ نوشکی ٹاؤن کے کچھ حصوں میں بھی پانی نہیں تھا۔
سنگین سمیت کچھ علاقوں میں ٹیوب ویل تو موجود ہیں، لیکن پانی کھارا ہے اور پینے کے قابل نہیں۔ 70 برس کے حاجی منظور مینگل کہتے ہیں کہ ”گاؤں میں دو ٹریکٹر اور چند گدھے ہیں۔ جن کے پاس وسائل ہیں وہ ٹریکٹر ٹینکروں کے ذریعے پانی لاتے ہیں، جبکہ غریب لوگ اپنے گدھوں پر پانی بھر کر لاتے ہیں۔“
ایمرجنسی کی صورت میں ٹینکر کا پانی خاندانوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ کچھ زمین پر کاشت بھی ہوتی ہے، لیکن صرف جب بارش ہو، جو کہ بہت نایاب ہے۔ زراعت مکمل طور پر بارش پر منحصر ہے اور زیادہ تر گھریلو استعمال تک محدود ہے۔ حاجی منظور کہتے ہیں کہ ”ہم زیادہ تر گندم اور چند دوسری فصلیں اپنی ضرورت کے لیے اگاتے ہیں۔“
گفتگو میں گاؤں کے مولوی بھی خاموشی سے شامل ہو گئے، ”میں مولوی ہوں، اور میرے پاس تو پانی لانے کے لیے گدھا بھی نہیں۔“
روزگار شدید دباؤ میں
نوشکی اور اس سے متصل ضلع چاغی کبھی تربوز اور خربوزے کی پیداوار کے لیے مشہور تھے، جو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر حصوں میں بڑی تعداد میں فروخت ہوتے تھے۔ تاہم طویل خشک سالی نے ان پھلوں کی کاشت کو انتہائی غیر یقینی بنا دیا ہے، اور بہت سے کسان زندہ رہنے کے لیے مویشی بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔مقامی آبادی کی تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا جب کوئٹہ کے قریب برج عزیز ڈیم کی تعمیر کی تجویز سامنے آئی۔
سردار آصف جمالدینی کی قیادت میں نوشکی کے قبائلی عمائدین نے ان خدشات کو کھل کر بیان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوشکی اور چاغی کے کسان موسمی دریائی پانی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اور انہیں خوف ہے کہ ڈیم کی تعمیر ان کے روزگار کو چھین لے گی۔ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے سے متعلق قانون پر اعتراضات کے بعد ایک ایسا ہی منصوبہ ترک کر دیا گیا تھا۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ایک ایسے ضلع میں ڈیم ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا،جو پہلے ہی طویل خشک سالی کا شکار ہے۔
نوشکی نے کئی شدید خشک سالیاں دیکھی ہیں۔ پہلی بڑی خشک سالی 1997 میں شروع ہوئی، جس نے مویشی مار ڈالے اور خاندانوں کو ڈاک سے ہجرت پر مجبور کیا۔ اس کے بعد غیر سرکاری تنظیمیں ضلع میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فعال ہوئیں۔ ایسے ہی ایک مقامی شخص زاہد مینگل ہیں، جو اب کوئٹہ میں آزاد فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں۔
زاہد کا تعلق اگرچہ نوشکی سے ہے، لیکن وہ 2000 کی دہائی کے اوائل سے نوشکی اور چاغی کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خشک سالی سے بحالی کا عمل بہت سست ہوتا ہے اور اس کے لیے مستقل مزاجی ضروری ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ”نوشکی میں خشک سالی سے بحالی کے لیے عام طور پر کم از کم ایک پورا سال اور بالخصوص سردیوں میں معمول کی بارش درکار ہوتی ہے۔ پائیدار بہتری موسمی بارشوں کے بار بار ہونے سے آتی ہے، کسی ایک الگ واقعے سے نہیں۔“
بلوچستان میں سالانہ اوسط بارش تقریباً 176 ملی میٹر ہوتی ہے، مگر نوشکی اور چاغی جیسے اضلاع کو 50 ملی میٹر سے بھی کم بارش ملتی ہے۔ ایسے خشک علاقوں میں معمولی بارش کی کمی بھی پانی کے ذرائع، فصلوں اور مویشیوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ زاہد کہتے ہیں کہ ”ہم یہ پیٹرن 20 سال سے زیادہ عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے کسان متاثر ہوتے ہیں اور انہیں مویشی بیچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔“
بحالی کے بغیر ریلیف
ریلیف کا کام کبھی کبھار جاری رہتا ہے۔ حال ہی میں ضلعی حکام نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ساتھ مل کر نوشکی سمیت ان دور دراز علاقوں میں غذائی امداد تقسیم کی ہے، جو خشک سالی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کمزور خاندانوں اور کسانوں کی مدد کرنا، پانی کی کمی اور غیر صحت بخش حالات کا حل تلاش کرنا ہے، اور یہ ریلیف سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صورت حال توقع سے کہیں زیادہ خراب ہے۔
نوشکی کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عمر جمالی بتاتے ہیں کہ ”نوشکی کی صورتحال خراب نہیں بلکہ بہت خراب ہے۔ حال ہی میں ضلع میں بارش ہوئی ہے، لیکن یہ اتنی طویل خشک سالی کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ ڈاک اور کیشنگی سمیت نوشکی کے کئی علاقے خشک سالی سے شدید متاثر ہیں۔“
ایک نہ ختم ہونے والی جنگ
سنگین کے دورے کے اختتام پر رمضان وہیں کھڑے ہیں، جہاں سے وہ شروع ہوئے تھے، اپنے باقی بچ جانے والے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے، قرضوں اور گھٹتے ہوئے چارے کے درمیان زندگی کا حساب لگاتے ہوئے۔
مہندی سے رنگی داڑھی اگرچہ ان کے سفید بال چھپا دیتی ہے، لیکن خشک سالی کے خلاف گزاری گئی دہائیوں کی تھکن کو نہیں۔
رمضان اور ڈاک کے دیگر لوگوں کے لیے، ریلیف ٹکڑوں میں پہنچتا ہے، بارش صرف افواہوں میں آتی ہے، اور بحالی ایک دور کا وعدہ بنی رہتی ہے۔ جب تک زمین نہیں بدلتی، اسی طرح ان کے قرض بھی بڑھتے رہیں گے،جیسے وہ خود مٹی میں رقم ہو چکے ہوں۔
(بشکریہ: ’ڈان‘، ترجمہ: حارث قدیر)
