روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جموں کشمیر میں بغاوت: اسلام آباد کے لیے ایک انتباہ

جموں کشمیر میں بغاوت: اسلام آباد کے لیے ایک انتباہ

طلعت بٹ

پاکستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر ایک بار پھر اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ جو معاملہ مہنگی بجلی کے نرخوں کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا تھا، وہ اب ایک ایسی تحریک میں بدل گیا ہے جو سوال اٹھا رہی ہے کہ پاکستان کا مقتدرہ اس خطے کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتا ہے جس پر وہ انتظامی کنٹرول رکھتا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے عام کشمیریوں کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا ہے، اتنی بڑی تعداد میں کہ ریاست کے لیے نظرانداز کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ کرفیو، مواصلاتی پابندیوں حتیٰ کہ براہِ راست فائرنگ کے باوجود لوگ نکل آئے ہیں۔

یہ بات صاف طور پر کہی جانی چاہیے: یہ تحریک بھارت کی سازش نہیں (لداخ میں جاری تحریک کو نئی دلی پاکستان کی سازش قرار دے رہی ہے)۔ دہائیوں سے پاکستان نواز جماعتیں ہر اختلاف کو "بھارت کی سازش” قرار دیتی رہی ہیں۔ مگر یہ پرانا بیانیہ اب ختم ہو چکا ہے۔ وہی جماعتیں جو کبھی اسلام آباد کا پرچم اٹھاتی تھیں، عوام میں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔ ان کے نعرے کھوکھلے لگتے ہیں، اور برسوں کی مفاہمت و مصلحت نے ان کا وقار ختم کر دیا ہے۔ آج عوام سمجھ چکے ہیں کہ ہر جائز مطالبہ کو غداری ثابت کرنا صرف ایک پرانا ہتھکنڈہ ہے۔

اصل مسئلہ سادہ مگر آتشگیر ہے: جو خطہ اپنی ہی ندیاں اور آبی وسائل استعمال کرکے سستی پن بجلی پیدا کرتا ہے، وہی بجلی سب سے مہنگے نرخوں پر عوام کو کیوں دی جاتی ہے؟ کیوں ایک ایسا علاقہ، جس کا اپنا قانون ساز ادارہ موجود ہے، بار بار کسی بڑے "قومی مفاد” کے نام پر بے اثر کر دیا جاتا ہے؟ یہ سوال محض بلوں اور نرخوں تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے آئینی تحفظ پر ضرب ہے۔

خطرہ خود احتجاج میں نہیں بلکہ اسلام آباد کے ردِعمل میں ہے۔ طاقت کا استعمال، نوجوانوں کو "شرپسند” قرار دینا، اور ہر ناکامی کو قومی سلامتی کا لبادہ پہنانا—یہ وہ ترکیب ہے جو تاریخ میں بار بار ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ریاست کا یہ پرتشدد ردِعمل صرف یہ تاثر بڑھاتا ہے کہ پاکستان اس خطے کو شراکتی خطہ نہیں بلکہ نوآبادیات سمجھ کر برت رہا ہے۔

تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ اسلام آباد رفتہ رفتہ اسی ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے، جیسا بھارت نے 5 اگست 2019 کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اختیار کیا تھا۔ بہت سے کشمیریوں کے لیے یہ خوف حقیقی ہے: کیا پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی محدود خودمختاری بھی "انضمام” کے نام پر چھین لی جائے گی؟

پاکستانی مقتدرہ کو اب خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ 78 برس بعد بھی یہ خطہ بین الاقوامی سطح پر تو خودارادیت کے وعدوں سے جوڑا جاتا ہے لیکن اندرونِ ملک اسے مکمل خودمختاری نہیں ملتی۔ اسلام آباد نے حقیقی سیاسی مکالمے سے انکار کر کے عوامی بنیاد پر ابھرنے والی ایسی تحریکوں کے لیے جگہ بنائی ہے جیسا کہ (جے اے اے سی)۔ یہ تحریک سیاسی جماعتوں کے برعکس براہِ راست عوام کو جوابدہ ہے، نہ کہ اسلام آباد یا راولپنڈی کو۔۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں