روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

خواجہ آصف سیالکوٹی کے نام ایک مختصر مراسلہ

خواجہ آصف سیالکوٹی کے نام ایک مختصر مراسلہ

فاروق سلہریا

خواجہ صاحب! اسلام علیکم۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔

آپ کو اپنا مندرجہ ذیل ٹویٹ بھی یاد ہو گا،اور حالیہ بیان بھی نہیں بھولا ہو گا:

خوا جہ صاحب! آپ علامہ اقبال سیا لکوٹی کے بعد، ان دنوں سب سے وائرل سیالکوٹی ہیں۔ آپ کا سابق گرائیں ہونے کے ناطے،صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ سب آپ کیسے کر لیتے ہیں۔

یقین کریں جب آپ ایسی نظریاتی قلا بازیاں لگاتے ہیں نا تو مجھے آپ کا اپنا شہرہ آفاق قول یاد آ جاتا ہے: ”کوئی شرم ہوتی ہے،کوئی حیا ہوتی ہے“۔

مصیبت یہ ہے کہ میرے ایسے ناچیز،جنہیں علاقائی سیاست کی ابجد تک نہیں معلوم، بھی ماضی میں یہ نقطہ اٹھایا کرتے تھے کہ جن طالبان کو آپ نے اسلام آباد میں ریاست کا داماد بنا کر رکھا ہوا ہے، اگر وہ ہندوستان کے ساتھ مل گئے تو کیا کرو گے؟ان دنوں آپ شور مچایا کرتے تھے کہ ہندوستان نے افغانستان میں چالیس قونصل خانے کھول رکھے ہیں۔

یہی وہ طالبان تھے جنہیں بچانے کے لئے پاکستان کو بارود کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور خیبر پختونخواہ پر ابھی تک ڈرون گرائے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ تو دو چار دن کے بعد سیز فائر ہو جاتا ہے، مگر خیبر پختونخواہ میں تو غزہ کی طرح کسی سیز فائر کی بھی توقع نہیں۔

پوچھنا یہ بھی تھا کہ آج کل ’طاقتیں‘ کس طرف جھکاو رکھتی ہیں اور”خدا ہماراہے“،اسلام آباد والوں کا،یا کابل کے ساتھ؟
مصیبت صرف یہ نہیں کہ ماضی کے گُڈ طالبان ہندو طالبان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ہمیشہ سے ہوا ہے کہ گُڈ طالبان بعد میں بیڈ طالبان میں بدل جاتے ہیں۔ پھر حسب ضرورت بیڈ طالبان کو ری سائیکل کر کے گُڈ طالبان کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

اصل مصیبت یہ ہے کہ طالبان کی پروڈکشن کا خوفناک کھیل جاری ہے۔ یہ سوچے بغیر کے وہ کسی ”ازلی دشمن“ کے ساتھ مل جائیں گے، گُڈ طالبان سے بیڈ طالبان بن جائیں گے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ہو نے والی حالیہ جنگ (جس کے بارے میں میری ایک کولیگ کا کہنا تھا کہ یہ جنگ اتنی تیزی سے ختم ہوئی جتنی تیزی ے ہماری تنخواہ ختم ہوتی ہے)کے دوران قومی اسمبلی کے فلور پر آپ نے فرمایا کہ مدرسے کے طلبہ ہماری سیکنڈ لائن آف ڈیفنس ہیں۔

آپ کے پڑوس والے حلقے سے احسن اقبال انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی سیکنڈ لائن آف ڈیفنس کے ایک مجاہد نے ان پر بُرا مسلمان ہونے کے الزام میں گولی چلا دی تھی۔پشاور یونیورسٹی میں پڑھانے والے میرے ایک عزیز دوست،ڈاکٹر عرفان اشرف نے مجھے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے کسی مذاکرے میں احسن اقبال سیکنڈ لائن آف ڈیفنس کا بھر پور ڈیفنس کر رہے تھے۔

ایسا نہیں کہ یہ سب باتیں آپ کو معلوم نہیں۔ حزب اختلاف کے دنوں میں آپ بھی یہی باتیں کرتے ہیں۔ سیکنڈ لائن آف ڈیفنس در اصل فرسٹ لائن آف ڈیفنس کی ایکسٹنشن ہے۔ مدرسے اور پی ایم اے میں صرف یونیفارم کا فرق ہے،سوچ کا نہیں۔ سیکنڈ لائن آف ڈیفنس کا مقصد کسی ”ازلی دشمن“ کو روکنا نہیں۔ ایسا کوئی دشمن ہے ہی نہیں۔ اس سیکنڈ لائن آف ڈیفنس کا مقصد شہریوں کو قابو میں رکھنا ہے، خوف کے ذریعے، سیکنڈ لائن آف بد معاشی کے ذریعے۔۔۔

بات طول پکڑ جائے گی۔اس خط کا مقصد یہ التماس کرنا تھا کہ اپنا سب سے مشہور قول واپس لے لیں۔ایک نیا ٹویٹ کریں: ”نہ کوئی شرم ہوتی ہے،نہ کوئی حیا ہوتی ہے“۔

فقط،
فاروق سلہریا

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں