سیف الرحمان رانا
سیلاب سے بچاؤ کا قدرتی اور دیرپا حل یہ ہے کہ آبی گزرگاہوں کے اردگرد قریب گھنے جنگلات اگائے جائیں تا کہ اس سے وہاں دلدلی زمین بن جائے اور یہ دلدلی زمین دراصل سیلابی ریلے کو کنٹرول کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ آپ دنیا بھر کے جغرافیائی خدوخال پر غور کریں تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جن آبی گزرگاہوں کے اردگرد جنگلات واقع ہیں وہاں سیلاب سے ہونے والے نقصانات بہت کم ہوتے ہیں۔
قدرت کے اسی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں دریائے راوی کے کنارے تعمیر کرکے ان کے اندر جھیل اور اس کے کناروں پر بنے بندوں کو محفوظ بنانے کے لیے ان کے اردگرد گھنے درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ منصوبہ بڑھتی ماحولیاتی آلودگی اور اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک منفرد پراجیکٹ تھا۔
اس منصوبے کے بنیادی اہداف میں لاہور شہر میں تیزی سے پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بچانا، کروڑوں نفوس پر مبنی آبادی کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے جھیل بنانا، دریائے راوی کے اردگرد ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ، سیوریج کے گندے پانی کو صاف کرنے کے بعد دریا میں ڈالنا، آبی و جنگلی حیات سمیت پرندوں کے لیے قدرتی ماحول کی فراہمی کے ذریعے قدرتی حسن و وسائل کو بڑھانا، بالخصوص فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم کرنا اور آکسیجن کو بڑھانے کیلئے جنگل کا قیام شامل تھے۔
تاہم بدقسمتی سے اس اچھوتے اور منفرد منصوبے پر چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں کام نہ شروع ہوسکا۔ 2008 میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اس منصوبے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر کام جاری رکھا جائے۔
ایل ڈی اے نے لاہور میں زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بچانے اور اس کی سطح کو بلند کرنے کے لیے دریائے راوی پر کم و بیش 45 کلومیٹر طویل اور وسیع و عریض جھیل کے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے اس کے اردگرد ہزاروں ایکڑ زمین پر جنگل اگانے، تفریحی پارک کی تعمیر، کمرشل و رہائشی ادارہ جاتی و ثقافتی مراکز بنانے کی سفارش کی۔ ایل ڈی اے نے اس منصوبہ کی لاگت کا تخمینہ کم و بیش 7 کھرب روپے لگایا۔
اس قدر خطیر رقم کے دیکھتے ہوئے شہباز شریف کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی گئی کہ مجوزہ پراجیکٹ کے اردگرد رہائشی سکیمیں بنائی جائیں تو خاطر خواہ فنڈز کا حصول ممکن ہے۔ اس تجویز کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اس تجویز کے قابل عمل ہونے کے حوالہ سے ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت کی۔ بعدازاں جب اس تجویز کو ماہرین آب اور ماحولیات کے سامنے رکھا گیا تو ان کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے شہباز شریف نے دریائے راوی کے اردگرد ہاوسنگ سوسائٹیز کے قیام کی تجویز کو رد کردیا۔
2018ء میں وفاق میں عمران خان کی حکومت کے قیام کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر اور ان سے جڑی صنعتوں کے پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ زون پراجیکٹ کو از سرنو زندہ کرتے ہوئے ایل ڈی اے کا کردار ختم کیا گیااور ایک نئے ادارے ’راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارہ کو عرف عام RUDA کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنے قیام کے فوری بعد حکومتی آشیرباد سے مجوزہ منصوبے کے لیے نجی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہاؤسنگ سکیموں کے قیام کا اعلان کیا، اوردریائے راوی کے اردگرد واقع ضلع لاہور اور شیخوپورہ کے متعدد موضعوں پر لینڈ ایکوزیشن ایکٹ لاگو کردیا۔ یوں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دریائے راوی کے دونوں کناروں پر 46 کلومیٹر طویل پاکستان کی تاریخ کا پہلا ریور فرنٹ شہر قائم کرنے کے مقصد سے ایک لاکھ 10 ہزارایکڑ زمین خریدنے کے لیے نجی ڈویلپرز کو مختلف علاقے الاٹ کردیے۔ بعدازاں ازاں نجی ڈویلپرز نے مارکیٹ کے حساب سے انتہائی مہنگی زمینوں کو سستے داموں حاصل کرنا شروع کردیا۔
عمران خان نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے موقع پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ سے دریائے راوی کے اردگرد جدید سہولیات سے لیس نیا لاہور وجود میں آئے گا جس کے نتیجہ میں 46 کلومیٹر لمبی جھیل، تین بیراجز واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، اربن فاریسٹ، تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بڑے ہسپتال، رہائشی و کمرشل سینٹرز بنیں گے۔
اس پراجیکٹ میں ہاؤسنگ سکیمیں بنانے کا اعلان ہوا تو متاثرہ زمینداروں اور ماہرین ماحولیات نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جج شاہد کریم نے دریائے راوی کی حدود میں ہاؤسنگ سکیمیں بنانے سے منع کیا تو وزیر اعظم عمران خان نے دریائے راوی کو گندہ نالہ قرار دیتے ہوئے اس پراجیکٹ میں رہائشی سکیمیں بنانے کو ناگزیر قرار دے دیا۔ عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود حکومت نے اس منصوبہ پر عملدرآمد جاری رکھا۔
چند سال قبل لاہور میں محمود بوٹی بند کے علاقہ میں سالڈ ویسٹ سائٹ پر ایمونیا جیسی خطرناک گیس کے بادل منڈلاتے دیکھے گئے۔ اس خطرہ نے لاہور کے وجود کو شدید خطرات سے دوچار کردیا۔ ان اٹھنے والی زہر آلود گیسوں کے انخلاء کو روکنے کے لیے فوری طور پر کوڑا کرکٹ سائٹ کو مٹی سے ڈھانپ کر درخت لگائے گئے تو ماحول سے نہ صرف زہریلی گیسیں کم ہوئیں بلکہ علاقے کی فضا میں پھیلی بدبو بھی ختم ہوتی چلی گئی۔
اگست 2025 میں دریائے راوی میں 1988 کے بعد تاریخ کا دوسرا بڑا سیلاب آیا تو دنیا نے دیکھا کہ راوی کے بیٹ میں قائم ہونے والی ہاؤسنگ سکیمیں ڈوب گئیں۔ ساتھ ہی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کام اور طریقہ کار پر بلند ہوتی آوازیں پر سو سنائی دینے لگیں۔ سیلاب کی آمد سے قبل میں اپنی متعدد تحریروں میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کی خدمت میں عرض کرتا رہا کہ اس کا کام کالونیاں بیچنا نہیں بلکہ راوی میں جھیل بنا کر زیرزمین پانی کی سطح کو بہتر بنانا، سیوریج کے پانی کو قابل استعمال بنا کر دریا میں ڈالنا اور اس کے اردگرد جنگل لگانا تھا۔ یعنی اس کا کام موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرتے ہوئے ماحول کو بہتر بنانا تھا۔ میں اس بات کو تسلیم کرنے سے آج بھی انکاری ہوں کہ اس منصوبہ کے لیے فنڈز کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مدد درکار تھی۔ عمران خان کے دور میں آنیوالے تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی برادری نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس مالی مدد کا اعلان کیا تھا اس میں سے 11 ارب ڈالر آج تک ہم اس لیے حاصل نہ کرسکے کہ ہماری حکومتیں اور ادارے ڈونرز کے سامنے قابل عمل منصوبہ جات بروقت تیار کرکے پیش نہ کرسکے۔
دریائے راوی کے حالیہ سیلاب کے بعد راوی پر کالونیاں بنانے والوں کا انجام اب سب دیکھیں گے۔معاہدہ سندھ طاس کے بعد راوی کے پانیوں پر بھارت کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد 80 کی دہائی میں بھی راوی کے اردگرد کالونیاں بنانے کا چلن عام ہوا تھا،لیکن 1988 میں راوی نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا تو اس سیلاب کے بعد راوی دریا کے پانی کے ڈر کی وجہ سے خوفزدگی کا یہ عالم ہوا تھا کہ مریدکے تک کوئی شخص اس علاقہ میں گھر بنانا تو دور کی بات پلاٹ خریدنے کو بھی تیار نہ تھا۔ راوی کے شمال میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا کام تب دوبارہ شروع ہوا جب رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے بننے کے بعد ان کے شمال میں کالونیاں آباد ہونا شروع ہوئیں۔
تاہم جب عمران خان کے دور میں روڈا کا قیام عمل میں لایا گیا تو انہوں نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو پیسے کمانے کا ذریعہ قرار دیا۔ روڈا والوں نے اس سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دریائے راوی کے بیٹ کے اندر ہی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے ذریعہ زمین کا قانونی اختیار خود حاصل کرکے انویسٹرز کے ذریعہ خریداری شروع کردی۔ بعدازاں انہی انویسٹرز کو دریائے راوی کی قدرتی گزر گاہ میں کالونیاں بنانے کی اجازت دے دی۔ اس وقت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے راوی کے بیٹ یعنی پیٹ میں ضائع ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں کہاوت ہے کہ دریا کبھی اپنا راستہ نہیں چھوڑتا ہے اور اب راوی نے اپنا رنگ دکھایا ہے تو بیچارے انویسٹرز اپنی سرمایہ کاری دریائے راوی کے پانی میں بہتی سب دیکھ رہے ہیں۔
راوی میں سیلاب آنے کے بعد راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین سمیت دیگر حکام قومی و سوشل میڈیا پر بیٹھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اتھارٹی نے لاہور سائفن سے آگے دریائے راوی پر جھیل بنانے کے لیے کنارے بنانے کے کام کا آغاز کردیا ہے اور جب یہ کام مکمل ہوگا تو راوی کناروں کے اندر 6لاکھ کیوسک تک پانی کا بڑا بہاؤ برداشت کرسکے گا۔ اگر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر انہوں نے کناروں کی تکمیل سے پہلے ہی رہائشی سکیمیں بنانے کی اجازت کیوں دی؟
عام آدمی نے تو کھلی آنکھوں سے یہ دیکھا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں بننے والے تمام ہاوسنگ پراجیکٹ راوی کے پانی کی زد میں تھے اور اب عام شہری زندگی بھر کی پونجی کو روڈا پراجیکٹس میں جھونکنے کا کبھی سوچے گا بھی نہیں۔
اس وقت پاکستان زمینی و فضائی آلودگی کے سبب خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ ان تبدیلیوں کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے دریائے راوی کے اردگرد روبہ عمل پراجیکٹ کو اس کے طے کردہ اہداف کے مطابق شروع کیا جاتا تو شاید ہم دنیا کے سامنے ایک منفرد پراجیکٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔ بدقسمتی سے روڈا نے عام آدمی کی غصب کردہ قیمتی ترین زمین پرائیویٹ ڈویلپرز کو مہنگے داموں بیچ کر رہائشی کے ذریعہ پیسہ اکٹھا کرنا چاہا جبکہ اپنے بنیادی اہداف ماحول کی بہتری اور زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو بچانے کے لیے عملی طور پر کچھ نہ کیا۔
(جاری ہے)
