روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

رک پمپنگ اسٹیشن: سبز انقلاب کا المیہ

رک پمپنگ اسٹیشن: سبز انقلاب کا المیہ

علی کھوسہ

جنرل ایوب خان کے ’سبز انقلاب‘پروگرام کو آج بھی ترقی اور خوشحالی کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے کچھ منصوبے ہزاروں کسانوں اور ہاریوں کے لیے زحمت ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا المیہ شکارپور کے علاقے میں قائم کیا جانے والا رک پمپنگ اسٹیشن ہے، جو ایک زرعی انقلاب کی بجائے تباہی اور بربادی کی داستان بن گیا۔

1968ء میں بااثر جاگیرداروں کی بنجر زمینوں کو آباد کرنے کے لیے واپڈا اسکارپ کے ذریعے یہاں سیم نالے لا کر بڑے واٹر لفٹ ٹیوب ویل لگائے گئے۔ ابتدا میں یہ منصوبہ خوشحالی کا خواب دکھاتا رہا لیکن چند برسوں میں ہی انتظامی غفلت، بجلی کے نظام کی خرابی اور کرپشن نے اسے ناکارہ بنا دیا۔ پانی نکالے جانے کی بجائے زمینوں میں پھیلنے لگا اور نتیجہ یہ ہوا کہ10 ہزار ایکڑ سے زیادہ زرخیز اراضی سیم اور تھور کی نذر ہو گئی۔

اس تباہی نے درجنوں گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیے۔ حمل خان کھوسو، گامن خان کھوسو، بھنبھرو واء اور کئی دوسرے گاؤں آج صرف سرکاری نقشوں میں موجود ہیں،لیکن حقیقت میں وہاں ویرانی اور ٹوٹی مسجدوں کے سوا کچھ باقی نہیں۔ ہزاروں خاندان اپنی زمینوں اور گھروں سے محروم ہو کر سندھ کے دوسرے شہروں اور کراچی کے مزدور بازاروں میں جا بسے، جہاں وہ دہاڑی دار مزدور بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ یہاں کے لوگ خاموش نہیں بیٹھے۔ استاد جان محمد کھوسو سے لے کر کامریڈ رؤف کھوسو تک کئی مقامی رہنماؤں نے اپنی زندگیاں اس مسئلے کے حل کے لیے وقف کیں۔ کبھی خط و کتابت، کبھی دھرنے اور کبھی احتجاجی تحریکیں چلیں۔ 2000ء کی دہائی میں ہاری جدوجہد کمیٹی نے مطالبات کا چارٹر پیش کیا،جس میں رک پمپنگ اسٹیشن کے لیے گرڈ اسٹیشن، اسپیشل فیڈر، نئے پمپنگ اسٹیشن اور متاثرہ کسانوں کی بحالی شامل تھے۔ کچھ مطالبات عارضی طور پر پورے بھی ہوئے، لیکن اصل مسئلے کا حل آج بھی التوا میں ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر کسان اور ہاری ہی ہمیشہ قربانی کیوں دیتے ہیں؟ جاگیردار اپنی زمینیں آباد کر گئے، مگر چھوٹے زمیندار اور ہاری اپنی زمینیں، گاؤں اور روزگار سب کچھ کھو بیٹھے۔ ریاست نے ان کے لیے کوئی پائیدار منصوبہ نہیں بنایا، نتیجہ یہ ہے کہ’سبز انقلاب‘کے نام پر شروع کیا گیا منصوبہ ان کے لیے ’سیاہ انقلاب‘بن گیا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، کسان تنظیمیں، انسانی حقوق کی انجمنیں اور عالمی ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ صرف رک پمپنگ اسٹیشن کی بحالی نہیں، بلکہ متاثرہ کسانوں کی زمینوں کی دوبارہ آبادکاری اور ان کی بحالی کے منصوبے پر عمل ہونا چاہیے۔ یہ صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ریاستی نااہلی اور جاگیردارانہ استحصال کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

اگر 57 سال کی اس کہانی سے کچھ سیکھنا ہے تو وہ یہ کہ ترقی کے نام پر بنائے جانے والے منصوبے تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان کا مقصد عام انسان، خاص طور پر ہاری اور کسان، کی بھلائی ہو۔ ورنہ یہ منصوبے تاریخ میں صرف زخموں اور تباہیوں کی صورت میں یاد رہیں گے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں