روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

زہریلی پاکستانی مردانگی کا ’کھانا خود گرم کر لو‘ فارمولا؟

زہریلی پاکستانی مردانگی کا ’کھانا خود گرم کر لو‘ فارمولا؟

ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی

زہریلی مردانگی پر لکھنے کو کہاگیا تو پہلے رد عمل میں میری ہنسی نکل گئی۔ میری پرورش ایک پروٹو فیمنسٹ خاندان میں ہوئی، جس میں ایک نانی شامل تھیں جو 16 سال کی عمر میں برطانوی کمیونسٹ پارٹی کی کارڈ رکھنے والی رکن بنیں، اور بعد میں انہوں نے مشہور ہندوستانی سیاست دان اور سفارت کاروی کے کرشنا مینن کے معاون کے طور پر خدمات انجام دیں۔

میری والدہ اور ان کی بڑی بہن دونوں نے 1960 کی دہائی کے وسط میں فل ٹائم کام کرنا شروع کیا اور بالآخر اپنے منتخب پیشوں میں صف اول میں ہو گئیں۔ لہٰذا حقوق نسواں ایک ایسا تصور تھا جو ہمارے خاندان کے مردوں نے مضبوط ارادوں والی آزاد خواتین کے نواسے، بیٹے اور شوہر کے طور پر اس دن سے سیکھا تھا جب ہم پیدا ہوئے تھے۔ اس کے باوجود مجھے تسلیم کرنا چاہیے کہ بعض اوقات مجھ پر جنس پرست ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ حال ہی میں مجھے پر الزام لگانے والی میری 11 سالہ بیٹی ہے۔

میری اس بارے میں لکھنے پر رضامندی کی بڑی وجہ بڑے شہروں میں ہونے والے حالیہ عورت مارچوں میں سے ایک میں ایک پلے کارڈ تھا۔یہ ایسی علامت تھی جس نے ہر طرف ہلچل مچا دی۔ یہ جملہ’کھانا خود گرم کر لو‘ ہے، جو ایک ایسی عورت کو نمایاں کرتا ہے جو اپنے شوہر کو کھانا پیش کرنے سے انکار کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ردعمل دیکھا جائے تو پاکستانی مرداس بات پر جھنجلائے ہوئے، مشتعل،حیران اور غصے میں تھے کہ ان سے گھر کے اندر کام کاج کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم مزید آگے بڑھیں، اگر ہم اپنی مصروفیت کی شرائط کی وضاحت کریں توشاید اس سے مدد مل سکتی ہے۔ اگرچہ حقوق نسواں کی بہت سے مختلف طریقوں سے تعریف کی جا سکتی ہے، لیکن ایک اچھی تعریف یہ ہے کہ’مشترکہ مقصد رکھنے والی سیاسی تحریکوں اور نظریات کی ایک حد ہے کہ جنسوں کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ذاتی مساوات قائم کی جائے۔‘

مارکسزم کے انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ہمیں سوشلسٹ فیمن ازم اور لبرل فیمن ازم کے درمیان فرق قائم کرنا چاہیے۔ سوشلسٹ فیمن ازم میں خواتین کی آزادی پوری معاشرے کی آزادی کا ایک جزو ہے، جبکہ لبرل فیمن ازم مختلف قسم کے امتیازی سلوک اورریڈیکل فیمن ازم کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، نسوانیت کا جشن منانا چاہتا ہے اور معاشرے کی ریڈیکل بنیادوں پر ترتیب نوکرتے ہوئے مردانہ بالادستی کی تمام شکلوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

اس کے برعکس یہاں زہریلی مردانگی کی ایک تعریف ہے:۔۔۔روایتی مردانگی کے زہریلے مظاہر، مثال کے طور پر جسمانی تشدد، معاشرے اور خود مردوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سماجی طور پر غالب مردوں کے روایتی دقیانوسی تصورات کو ان کے تشدد کو فروغ دینے کی وجہ سے ’زہریلا‘سمجھا جا سکتا ہے، جس میں جنسی حملے اور گھریلو تشدد بھی شامل ہے۔

عورت مارچ جیسے واقعات پر ایک سرسری نظر سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ سرگرمیاں بنیادی طور پر مڈل کلاس (یا اپر مڈل کلاس) کی خواتین کی طرف سے منعقد کی جاتی ہیں اور ان کے اہداف لبرل حقوق نسواں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، جن میں عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کا خاتمہ، ملازمتیں، قانون سازیاں اور اسی طرح کے دیگر اہداف شامل ہیں۔ اس میں سے کوئی بھی معاشی یا سیاسی لحاظ سے معاشرے کو یکسر دوبارہ ترتیب دینا نہیں ہے حالانکہ پدرانہ ثقافت کا خاتمہ ایک اور مقصد لگتا ہے۔ تمام سماجی مظاہر اگرچہ سماجی جڑیں رکھتے ہیں۔ پاکستانی ثقافت میں پدرشاہی کیوں پیوست ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ سٹیٹس کو سے کس کو فائدہ ہوتا ہے؟

پاکستان میں فیمن ازم کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ درحقیقت 1960 اور 1970 کی دہائیوں کے فیمن اسٹ کارکن سیاسی طور پر ان کارکنوں کی موجودہ نسل سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھے جو مکمل سیاسی بے حسی کے دور میں سامنے آرہے ہیں۔ 1970 اور 1980 کی دہائی کی تحریکِ نسواں کی رہنماؤں میں سے ایک مرحومہ عاصمہ جہانگیر تھیں جو اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھیں کہ حقوقِ نسواں کی سرگرمی سماجی انصاف (مرد اور خواتین دونوں کے لیے) کے حصول کی بڑی جدوجہد سے منسلک کیے بغیر بنیادی طور پر محض ایک دھوکہ ہے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ معاشرے کے غریب ترین طبقات کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے گزارا۔ وہ ایک کٹر فیمن اسٹ تھیں اور ساری زندگی خواتین کے مقاصد کے لیے لڑتی رہیں۔ تاہم ان کی جدوجہد کا تعلق مزدوروں اور کسانوں، مرد اور خواتین دونوں کے حقوق کے لیے ایک بڑی جدوجہد سے تھا۔

واضح طور پر اس بات کی نشاندہی نہ کرنا بھی غلط ہوگاکہ خواتین کارکنان 1980 کی دہائی میں ضیاء آمریت کے خلاف جدوجہد میں سب سے آگے تھیں اور ان کی کوششوں کا اختتام بالآخر پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر ہوا۔ جو لوگ خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کو سراہتے ہیں (معاشرے کو تبدیل کرنے کی وسیع تر سماجی جدوجہد سے الگ تھلگ رہتے ہوئے) انہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم ہاؤس تک پہنچنے سے پاکستان میں عمومی طور پر خواتین کی آزادی ہوئی؟ اس کا جواب بلند آواز میں ’نہیں‘ ہے۔

آئیے اپنے پہلے سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔ خواتین کی محکومی کی سماجی جڑیں کیا ہیں؟ دوسرے الفاظ میں فائدہ کس کوپہنچتا ہے؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں اس معاشرے میں خواتین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جہاں انہیں محدود (یا نہ ہونے کے برابر) حقوق حاصل ہیں۔ خواتین کی گھریلو بلا معاوضہ مزدوری بنیادی طور پر خاندان کی بنیادی اکائی کو قائم اور برقرار رکھنے کا کام کرتی ہے۔ کھانا پکانا، صفائی ستھرائی اور بچوں کی نگہداشت ایسی سرگرمیاں ہیں جو خاندان میں ’مزدوروں‘ (شوہر اور دیگر مردوں) کو پھر سے جوان کرتی ہیں تاکہ وہ اگلے دن صحت یاب ہونے اور کام پر واپس آنے کے لیے کھاسکیں، سو سکیں اور کام کے بعد آرام کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے کے مستقبل کے مزدوروں کی پیداوار اور پرورش میں مصروف ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کی محنت آجروں کے لیے اہم کام کرتی ہے جس کے لیے انہیں ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔

اگر خواتین گھریلو مزدوری مہیا نہیں کرتیں تو آجروں کو یہ کام اجتماعی کچن، ہاسٹل اور لانڈری کی صورت میں کرنا پڑے گا،تاکہ ان کے مزدور کام کے بعد خود کو برقرار رکھ سکیں اور جوان رہ سکیں۔ اس کے لیے مالی اخراجات کی ضرورت ہوگی جنہیں ان کے منافع سے نکالنا ہوگا۔ درحقیقت زارشاہی روس میں اکتوبر 1917 کے انقلاب کے بعد عورتوں کے حق میں متعدد حکم نامے پاس کرنے کے علاوہ (آسان طلاق کے قوانین، اسقاط حمل کو قانونی بنانا اور آسان بنانا، مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں تنخواہ) نئی سوویت حکومت نے خواتین کی سہولت کے لیے درج ذیل اقدامات شروع کیے: اعلیٰ معیار کے پبلک کچن، بچوں کے لیے مفت نگہداشت کے اسکولوں اور لانڈریوں کے لیے تربیت یافتہ ملازمین، اور بہت سے دوسرے اقدامات جن کا مقصد خاص طور پر خواتین کے لیے تھا۔ یہ صرف بادشاہت کے خاتمے کے بعد ہی نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کا تختہ الٹ کر بھی ممکن ہوا جو بڑے جاگیرداروں، صنعت کاروں اور ان کے لواحقین یعنی سوشلسٹ حکومت کے نام پر کام کرتی تھی۔

مزدوروں کے حقوق اور کسانوں کے حقوق سے الگ کھڑے ہوتے ہوئے خواتین کے حقوق مانگنا ریاست کے موجودہ اداروں کے خلاف بہت تیزی سے چلنا ہے جو ایک تجریدی تصور کے طور پر پدرشاہی کی حمایت میں کام نہیں کرتے، بلکہ انتہائی حقیقی منافع بخش مفادات کو تقویت دینا ہے جو مکمل طور پر جینڈر بلائنڈ ہیں۔یہاں تک کہ اگر خواتین کو ایک حکم نامے کے ذریعے گھریلو غلامی سے معجزانہ طور پر آزاد کیا جا سکتا ہے، تو پھر بھی لاکھوں اضافی خواتین محنت کشوں کو ایک ایسے بازار میں شامل کرنے سے کیا مدد ملے گی جہاں پہلے ہی بے روزگاری پھیلی ہوئی ہے؟ یہ اقدام فوری طور پر اجرتوں کو مزید کم کر دے گا اور کارکنوں کو ایک دوسرے کو مزید نیچے دھکیلنے کی دوڑ میں کھڑا کر دے گا کیونکہ آجر اپنے منافع سے بھی زیادہ موٹے ہو گئے ہیں۔

آگے کا راستہ کیا ہے؟ پاکستان میں پہلے سے ہی ایک نوزائیدہ ترقی پسند تحریک موجود ہے جو مزدوروں کے حقوق، کسانوں کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مجموعی طور پر اس تحریک میں خواتین کی نمائندگی کم ہے اور خاص طور پر خواتین سے متعلق مسائل کو ان کے ایجنڈے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ مرکزی دھارے کا میڈیا عام طور پر بائیں بازو کے اسباب سے ہمدردی نہیں رکھتا، لیکن کم از کم ان مسائل کو اجاگر کرنے کا عمل شروع کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔ عورت مارچ کا آغاز اچھا ہے لیکن زیادہ تر خواتین، خاص طور پر پاکستان کے دیہاتوں میں، عوامی مقامات پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔ یہ خیال صرف بڑے شہروں میں ہی گونج سکتا ہے۔ وہ جان لیوا مسائل سے نبردآزما ہیں: حمل کے دوران احتیاطی نگہداشت تک رسائی اور اپنے شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال (ایک حالیہ رپورٹ میں دستاویز کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے)، ناکافی صفائی ستھرائی، صحت بخش خوراک تک محدود رسائی اور مناسب برتھ کنٹرول تک رسائی نہ ہونا،جس کے نتیجے میں بار بار حمل ٹھہرنا صحت کے مسائل کا باعث بنتاہے؛آگے ایک لمبی فہرست ہے۔ان میں سے بہت سے ضروری سماجی مسائل کی طرف لے جاتے ہیں، جن میں تعلیم اور روزگار تک رسائی کی کمی، صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے وسائل کی کمی وغیرہ شامل ہیں۔

اگر خواتین کی آزادی کی جدوجہد کو پورے معاشرے کو مزید منصفانہ اور مساوی خطوط پر بدلنے کی جدوجہد کا حصہ بنایا جائے تو وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

تاہم اس کے لیے محض میری بات مت مانیے۔ مجھ سے کہیں زیادہ سمجھدار آدمی نے 100 سال پہلے کہا تھا کہ ”کامریڈز، محنت کش خواتین! مردکامریڈ ہمارے ساتھ مل کر محنت کرتے ہیں، ان کی قسمت اور ہماری قسمت ایک ہے، لیکن انہیں طویل عرصے سے ایک بہتر زندگی کا واحد راستہ ملا ہے یعنی سرمائے کے خلاف محنت کشوں کی منظم جدوجہد کا راستہ، تمام جبر، برائی اور تشدد کے خلاف جدوجہد کا راستہ۔ محنت کش خواتین، ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔محنت کش مردوں اور خواتین کے مفادات برابر ہیں اور ہم ایک ہیں۔صرف مرد محنت کشوں کے ساتھ مل کر متحدہ جدوجہد میں۔۔۔ہم اپنے حقوق حاصل کر سکیں گے اور ایک بہتر زندگی جیت سکیں گے۔

(ولادی میر ایلیج لینن۔1907)

Ali Madeeh Hashmi

علی مدیح ہاشمی ماہر نفسیات اور فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے معتمد ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں