روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

فرینکنسٹائن مونسٹر (عفریت) کی طرح پاکستان کا پیچھا کرتے طالبان

فرینکنسٹائن مونسٹر (عفریت) کی طرح پاکستان کا پیچھا کرتے طالبان

فاروق سلہریا

اگرچہ طالبان کے زیرقیادت افغانستان اور پاکستان کے درمیان دو برس سے کبھی کبھار جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، لیکن 9 سے 12 اکتوبر کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

9 اکتوبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل اور کنڑ صوبے کے ایک قصبے پر حملے کیے گئے، جن میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ اسلام آباد نے نہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور نہ انکار کیا۔ تاہم طالبان حکومت نے جوابی کارروائی کی۔

طالبان کے اقدامات کے دو محرکات تھے:اول، افغانستان میں پاکستان تقریباً ہر سطح پر ناپسندیدہ ہے، اور طالبان نے اس ”جنگ“کو افغان عوام میں کچھ سماجی قبولیت حاصل کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا۔ یہ بات ان کے بیانیے سے بھی ظاہر تھی۔ طالبان کے پراپیگنڈہ ماہرین نے ان جھڑپوں کو ”جہاد“ قرار دینے کی بجائے قوم پرستی کے نعروں میں رنگا۔

دوم، طالبان ایک ایسی رژیم ہیں جو طاقت اور دہشت کے ذریعے حکومت کرتی ہے، جس کے پاس کوئی حقیقی عوامی جواز یا سیاسی بالادستی نہیں۔ اس لیے وہ افغان عوام کی نظروں میں کمزور دکھائی دینے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔

پاکستان کا معاملہ کیا ہے؟

پاکستان کی فوج ملکی اور بین الاقوامی پالیسیوں میں ابتدا ء سے انتہا ء تک فیصلہ کن قوت ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کے دور میں اس نے ایک خطرناک جوا کھیلا، اور بظاہر واشنگٹن کے ساتھ اورطالبان و القاعدہ کے خلاف کھڑا ہوا، لیکن پس پردہ انہی طالبان اور القاعدہ کے رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا رہا۔

یاد رہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی نیوی سیلز نے ایبٹ آباد میں ہلاک کیا تھا۔

امریکی وفاداری کی تاریخ

1947 میں جب پاکستان برطانوی ہند سے الگ ہو کر وجود میں آیا تو اس نے خطے میں ایک شرارتی مگر وفادار امریکی چوکی کا کردار ادا کیا۔2001 کے بعد طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی خودکشی جیسی پالیسی کو ”اسٹریٹجک ڈیپتھ“(تذویراتی گہرائی) کے نام پر عوامی سطح پر جواز فراہم کیا گیا۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو ایک محفوظ بیک یارڈدرکار ہے، جو افغانستان کی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

نائن الیون کے بعد بھارت نے امریکی قبضے کے باعث افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھا لیا۔”طالبان/القاعدہ کے خرگوش کے ساتھ دوڑنے“اور”امریکی شکار ی کتے کے ساتھ شکار کھیلنے“کی اس پالیسی نے پاکستان میں موجود طالبان اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں کو ناراض کر دیا۔

یہ تنظیمیں دراصل 1980کی دہائی میں پاکستانی ریاست کی ہی پروردہ تھیں۔ ابتداء میں ان اسلامی بنیاد پرست نظریات رکھنے والے عسکری گروہوں کو اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا کہ وہ افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کر سکیں۔1990 کی دہائی میں انہی جنگجوؤں کو بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک پراکسی جنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔

2003 سے 2021 تک پاکستان ایک ہولناک دہشت گردی کی لہر کی لپیٹ میں رہا، جس میں تقریباً 70ہزار جانیں ضائع ہوئیں۔ تاہم اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی بجائے ریاست نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نام سے ایک اور عفریت پیدا کیا،تاکہ وہ افغان طالبان کی مدد کرسکے۔

جب اگست 2021 میں امریکی افواج افغانستان سے ویت نام طرز پر پسپا ہوئیں اور طالبان نے دوسری بار کابل پر قبضہ کر لیا، تو اسلام آباد نے اسے ایک بڑی فتح کے طور پر منایا۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان، جو اب غیر معینہ مدت کی قید کاٹ رہے ہیں،نے ٹویٹ کیا کہ طالبان نے ”غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔“پاکستان کے اس وقت کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل فیض حمید کابل پہنچے اور ہوٹل سرینا میں عالمی میڈیا کے سامنے فتح کا مظاہرہ کیا۔

ریاستی پروپیگنڈے اور عوامی سطح پر پھیلے شدید امریکہ مخالف جذبات کے باعث پاکستانی عوام کی اکثریت نے بھی طالبان کے قبضے کو خوش آمدید کہا۔ مین اسٹریم مبصرین کے مطابق طالبان کی فتح کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو جھکا دیا بلکہ اپنے ازلی دشمن بھارت کو بھی ذلت آمیز شکست دی۔ کچھ عرصے کے لیے ملک میں جشن فتح کا سماں تھا۔

تاہم جلد ہی اسٹریٹجک ڈیپتھ کے انگور کٹھے ثابت ہوئے۔ اسلام آباد چاہتا تھا کہ کابل حکومت تحریک طالبان پاکستان کو قابو میں رکھے،لیکن امریکی شکست سے حوصلہ پانے والی ٹی ٹی پی خود پاکستان میں طالبان طرز کے نظام کو نافذ کرنے کے عزائم رکھتی تھی۔نتیجتاً افغانستان پاکستان سرحد پر دہشت گردی کی نئی لہر نے پاکستانی حکام کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب پاکستانی فوج نے جوابی کارروائیاں کیں توٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان میں پناہ لینے لگے۔

ظاہری اور سرکاری طور پر پاکستان موجودہ تنازعہ کی توجیہہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کو ملنے والی پناہ گاہوں کو قرار دیتا ہے، جو کابل حکومت فراہم کر رہی ہے۔

پاکستان کا یہ دعویٰ بآسانی رد نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ سال پاکستان کے لیے گزشتہ دہائی کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا۔ 2500 افرادہلاک ہوئے، جن میں 400 فوجی شامل تھے۔رواں سال کے اعدادوشمار سامنے آنے پر شاید یہ تعداد مزید بڑھ جائے۔ زیادہ تر حملوں میں ٹی ٹی پی ملوث تھی،جب کہ بلوچستان میں ایک الگ بغاوت بھی جاری ہے۔

کیا امریکہ چین رقابت ذمہ دار ہے؟

کچھ ناقدین کے مطابق افغانستان پر پاکستان کے حملے کی اصل وجہ خطے اور عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت ہے۔ناقدین کے پاس اس کی دلیل کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جو انہوں نے برطانیہ کے دورے کے دوران دیا۔ 18 ستمبر کو برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے افغانستان کے سوویت دور کے تعمیر کردہ بگرام ایئر بیس کے بارے میں کہاکہ ”یہ دنیا کے سب سے بڑے فضائی اڈوں میں سے ایک ہے، ہم نے اسے (طالبان کو) مفت میں دے دیا۔۔۔ہم اس بیس کو اس لیے چاہتے ہیں کہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔“

پاکستانی میڈیا میں گردش کرنے والی ایک اور توجیہہ یہ ہے کہ اسلام آباد کابل میں رژیم چینج کی کوشش کر رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان اندرونی دھڑوں کی لڑائیوں کا شکار ہیں۔ اب وہ 1990 کی دہائی کی طرح یکجان تحریک نہیں رہے۔ طالبان کا حقانی نیٹ ورک عام طور پر اسلام آباد کے زیراثر سمجھا جاتا ہے، جبکہ قندھار دھڑا نسبتاً باغی رویہ رکھتا ہے، جو بانی رہنما ملا عمر کے جانشین تصور کیے جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس ممکنہ رژیم چینج کا مقصد حقانی گروپ کو اقتدار میں لانا ہے،تاکہ ٹی ٹی پی کو دبایا جا سکے اور افغانستان کو دوبارہ پاکستان کی اسٹریٹجک ڈیپتھ کے طور پر محفوظ رکھا جا سکے۔ٹرمپ کے بیان سے چند روز قبل افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی نئی دہلی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے سفارتی، تجارتی اور معاشی تعلقات پر بات چیت کی۔یہ دورہ اسلام آباد کے لیے ایک طرح کی شرمندگی اور بغاوت کے مترادف سمجھا گیا۔پاکستانی ریاست کے لیے یہ منظر شاید اس بات کی علامت تھا کہ فرینکنسٹائن مونسٹر(عفریت) اب اپنے خالق کے خلاف مکمل طور پر پلٹ آیا ہے۔

دھونس کی حکمت عملی؟

چونکہ ابھی تک کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اسلام آباد کے کابل پر دباؤ ڈالنے میں مذکورہ بالا عوامل میں سے کون سا زیادہ اثر انداز ہوا۔ممکن ہے کہ ان سب نے کسی نہ کسی درجے میں کردار ادا کیا ہو۔

پاکستان بلاشبہ ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنا چاہتا ہے، اور اس کے لیے وہ کابل کو نئی دہلی سے قریبی تعلقات رکھنے سے روکنے کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، حتیٰ کہ رژیم چینج کی کوشش تک۔البتہ یہ امکان زیادہ ہے کہ رژیم چینج کا بیانیہ صرف طالبان کو خوفزدہ کرنے اور انہیں دفاعی پوزیشن پر لانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔

اسی طرح پاکستان ایک مخصوص حد سے آگے بڑھ کر چین کو ناراض بھی نہیں کر سکتا، صرف اس لیے کہ وہ امریکہ کو خوش کرے، کیونکہ پاکستان کی عسکری امداد میں چین کا کردار کلیدی ہے، اور مالی انحصار تو اس سے بھی کہیں زیادہ گہرا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں چین پاکستان کا سب سے بڑا قرض دہندہ بن چکا ہے۔

پاکستان کے 160 ارب ڈالر کے بیرونی قرض میں سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ چین کے قرضے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا بنیادی ذریعہ بھی چین ہی ہے۔

چونکہ پاکستان کے حکمران طبقے کے لیے مشہور ہے کہ وہ خرگوش کے ساتھ دوڑتا ہے اور شکاری کتے کے ساتھ شکار کھیلتا ہے، اس لیے یہ بعید نہیں کہ کابل پر حملہ واشنگٹن کو اس طور پر پیش کیا گیا ہو کہ یہ بگرام ایئربیس کے تحفظ کے لیے کیا گیا اقدام ہے، اور ساتھ ہی بیجنگ کو بھی اعتماد میں رکھا گیا ہو۔تاہم اس کارروائی کا اصل مقصد طالبان کو ڈرانا اور انہیں اسلام آباد کی لائن پر لانا تھا۔

پاکستان کے پاس فوجی طاقت میں واضح برتری ہے، مگر اس کے پاس طالبان رژیم پر دباؤ ڈالنے کے کئی غیر فوجی ہتھکنڈے بھی موجود ہیں۔مثلاً افغانستان ایک لینڈ لاک ملک ہے،جو اپنی ضروری درآمدات، بالخصوص خوراک اور ادویات،کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان نے کئی بار تجارتی راستے بند کر کے افغانستان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔اسی دوران پاکستان نے تقریباً 10 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کر کے واپس افغانستان بھیج دیا۔

طالبان کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ پاکستان بظاہر داعش (اسلامک اسٹیٹ) کی سرپرستی کر رہا ہے۔جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی پہنچے تو داعش نے طالبان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ”ان ہندوؤں سے گلے مل رہے ہیں جو بھارتی مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں“۔یہ طنز دراصل وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مسلم مخالف سیاست کی طرف اشارہ تھا۔

طالبان نے اس کے بعد چین اور سعودی عرب سے بھی مذاکرات کے لیے رجوع کیا۔ترکی کی ثالثی میں، قطر نے فوری طور پر طالبان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کی۔پہلا دور دوحہ میں ہوا، جس کے نتیجے میں جلدی میں ایک جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔دوسرا دور ترکی کے شہر استنبول میں 30 اکتوبر کو مکمل ہوا۔ قطر کی موجودگی کو امریکی منظوری کا اشارہ سمجھا گیا۔تیسرا دور 6 نومبر کو شروع ہوا لیکن کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا۔افغانستان پاکستان سرحد پر نرم جنگ بندی فی الحال برقرار ہے، لیکن تضادات بھی بدستور قائم ہیں۔

فرینکینسٹائن اپنے عفریتوں کے ساتھ امن سے نہیں رہ سکتے، خاص کر ایسے وقت میں جب وہ ان گردونواح میں راج کر رہے ہوں۔المیہ یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کا خطہ آنے والے برسوں تک لہو میں نہاتا رہے گا، اور اس کی سب سے بھاری قیمت معصوم شہریوں، خصوصاً خواتین کو ادا کرنا پڑے گی۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں