نسرین پرواز
امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جاری فوجی کارروائیوں کے دوران 28 فروری کو میناب کے ایک لڑکیوں کے ایلیمنٹری اسکول پر حملے کی خبر آنے کے بعد سے اس واقعے کو مغربی میڈیا میں خاطر خواہ توجہ نہیں ملی۔ حالانکہ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں درجنوں بچے شامل تھے، جن میں اکثر پرائمری جماعتوں کے طلبہ تھے۔ چند دن بعد تہران میں طبی مراکز کے قریب بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران کے اندر لوگوں کے لیے یہ واقعات اس بڑھتے ہوئے احساس کا حصہ ہیں کہ شہری زندگی خود ایک ہدف میں تبدیل ہو گئی ہے۔
اسی دوران ایران اپنی جدید تاریخ کے سب سے زیادہ سیاسی طور پر پر آشوب لمحات میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔ علی خامنہ ای کی موت پر ملک کے اندر مختلف اور متضاد ردعمل دیکھنے میں آئے۔ دوسری قوموں کے لوگوں کو یہ عجیب لگ سکتا ہے کہ ایرانی لوگ بمباری کے سائے میں ان کی موت کی خبر پر رقص کرتے نظر آئے، مگر میں اسے سمجھتی ہوں۔ خامنہ ای ایک ایسے نظام کے سربراہ تھے جو قید، تشدد، پھانسیوں اور اختلاف رائے کو بے رحمانہ طریقے سے کچلنے پر قائم تھا۔
ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے ، جن میں میں بھی شامل ہوں ، خواہش یہ تھی کہ خامنہ ای اور ان کے کارندے برسوں کے جرائم، جبر اور قتل و غارت کے مقدمات میں عدالت کے سامنے کھڑے دکھائی دیں۔ میں کبھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں مارے جائیں، میں چاہتی تھی کہ وہ ان خاندانوں کے سامنے جوابدہ ہوں جن کی زندگیاں انہوں نے تباہ کیں۔
خامنہ ای کی موت اس نظام کے جرائم کو مٹا نہیں سکتی جس کی وہ قیادت کرتے تھے۔ اس ڈھانچے کو ختم کیا جانا چاہیے، اور اس میں ملوث تمام افراد کو منصفانہ ٹرائل کے ذریعے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
بچ جانے والوں کے لیے یہ محض ایک علامتی معاملہ نہیں ہے۔ انصاف وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی عزت اور اپنی خودمختاری دوبارہ حاصل کرتے ہیں۔ جب تبدیلی عوام کی مرضی کی بجائے بیرونی بمباری کے ذریعے آتی ہے تو یہ پیغام جاتا ہے کہ گویا ہم کبھی اپنے مستقبل کو خود متعین کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔
ان میں سے کوئی بھی بات ایسے غیر ملکی فوجی حملوں کو جائز نہیں ٹھہرا سکتی جو بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ایک شخص کی موت کسی ملک پر بمباری، بنیادی ڈھانچے کی تباہی یا بچوں کے قتل کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ انصاف میزائلوں کے ذریعے فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کو اس کے عوام کی اجتماعی مرضی کے مطابق حکمرانی ملنی چاہیے ، نہ کہ طاقت کے زور پر، اور نہ ہی کسی ایسی شخصیت کے ذریعے جسے امریکہ یا اسرائیل منتخب یا مسلط کریں۔ حقیقی انصاف کو بیرونی طاقتوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ایسی فردکے طور پر جس نے ایران میں گرفتاری، قید اور تشدد برداشت کیا ہے، ایک پیش رفت خاص طور پر خوفناک محسوس ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام سیاسی قیدیوں کو ایوین جیل سے منتقل کر رہے ہیں۔ میرے جیسے سابق قیدیوں کے لیے یہ ایک واضح اور تشویشناک اشارہ ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کے بعد کیا ہو سکتا ہے۔ جب 1980 میں ایران،عراق جنگ شروع ہوئی تو قیدیوں کو خاموشی سے قتل کیا جانے لگا۔ 1988 میں اس جنگ کے خاتمے کے بعد مختصر اور سرسری کارروائیوں کے بعد 5ہزار سے زیادہ سیاسی قیدیوں کو اجتماعی پھانسیوں میں مار دیا گیا۔ ان میں سے بہت سوں کو بے نام قبروں میں دفن کیا گیا، اور ان کے خاندانوں کو کبھی سچ نہیں بتایا گیا۔
مجھے خدشہ ہے کہ ایک بار پھر قیدی اس جنگ کے نہ نظر آنے والے شکار بن سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں گواہوں کے بغیر، جوابدہی کے بغیر، خاموشی سے مارا جا سکتا ہے، جب کہ دنیا کی نگاہیں کہیں اور لگی ہوں۔
مغربی حکومتیں اکثر دعویٰ کرتی ہیں کہ فوجی مداخلت آزادی لاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جنگ نے عراق کے ساتھ کیا کیا، افغانستان کے ساتھ کیا کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ آمرانہ حکومتیں جنگ کو جبر کے پردے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، اور یہ بھی کہ بیرونی طاقتیں شاذ و نادر ہی عوام کی خود ارادیت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ایران کو کسی ایسے حکمران کی ضرورت نہیں جو واشنگٹن یا تل ابیب کے ذریعے چنا جائے۔ اسے جلاوطن طاقتور افراد یا مسلح گروہوں کی ضرورت نہیں جو’’متبادل‘‘کے نام پر مسلط کیے جائیں۔ اسے ایک ایسے سیاسی مستقبل کی ضرورت ہے جو اس کے اپنے لوگ تشکیل دیں ، بغیر اس کے کہ اوپر بم برس رہے ہوں، اور بغیر اس کے کہ جیلیں بھری جا رہی ہوں۔
ایران کے لوگ برسوں سے مسلسل جنگ کے نفسیاتی خطرے کے سائے میں جی رہے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے اس کا ذائقہ براہ راست چکھا، اور اب عام شہری کسی اختیار یا آواز کے بغیر مارے جا رہے ہیں۔
ایران میں دوبارہ انٹرنیٹ تک رسائی سخت محدود کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے ملک کے اندر اور باہر خاندان اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ لوگ یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ کون زندہ ہے، کون گرفتار ہوا، یا کون محض غائب ہو گیا۔ خوف کو ماضی کے مظالم کی یادیں مزید بڑھا دیتی ہیں، جیسے 40 دن قبل جب حکومت نے پرتشدد طریقے سے مظاہروں کو کچل دیا تھا، اور اطلاعات کے مطابق صرف روٹی اور آزادی مانگنے پر ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
زندگی معلق محسوس ہوتی ہے، اور ہر گھر پر غیر یقینی کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔
یہ جنگ رکنی چاہیے، اور اگرچہ ایران کے لوگوں کے پاس اسے روکنے کی بہت کم طاقت ہے، لیکن برطانیہ جیسے ممالک کے لوگوں کے پاس ہے۔ یہ جنگیں آپ کے نام پر، آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے، ان حکومتوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ آپ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ احتجاج معنی رکھتا ہے۔ دباؤ معنی رکھتا ہے۔ خاموشی کو رضامندی کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
یہ غیر قانونی جنگ صرف مشرق وسطیٰ میں محاذ پر موجود لوگوں کو ہی خطرے میں نہیں ڈالتی۔ ہر جارحانہ عمل علاقے میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے، تشدد کے سلسلوں کو بڑھاتا ہے، اور ہم سب کو کم محفوظ بناتا ہے۔ اس جنگ کو روکنا صرف ایران میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں زندگیوں کا تحفظ ہے۔
(بشکریہ: ’نیوعرب‘، ترجمہ: حارث قدیر)