روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف جدوجہد اور حکمرانوں کے بیانات

نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف جدوجہد اور حکمرانوں کے بیانات

نور احمد کاتیار

دریائے سندھ پر نئی 6 نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف سندھ کے عوام کی جدوجہد نے شدت اختیار کر لی ہے اور صورتحال مزید گرم ہوتی جارہی ہے۔ روزانہ کئی چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں احتجاجی ریلیاں، مظاہرے، جلسے، اجلاس اور شارٹ مارچ منعقد ہو رہے ہیں۔ سڑکوں پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ اسکولوں کے بچے، کسان، مزدور، اساتذہ، وکلاء، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے کارکنان، خاص طور پر سندھ کی بیٹیاں اس جدوجہد میں پیش پیش ہیں، جس کی وجہ سے حکمرانوں کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ روز اپنے بیانات تبدیل کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ 29 مارچ کو سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے شرجیل انعام میمن کے ہمراہ کراچی میں ایک طویل پریس کانفرنس کی۔ 30 مارچ کو اخباروں نے اس کی رپورٹ شائع کی، جس میں مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ ”صدر زرداری کے پاس چولستان کینال کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کے منٹس میں ردوبدل کی گئی ہے۔“ یہ بیان سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس بیان سے چند دن پہلے، مختلف مواقع پر مراد علی شاہ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ”کون سی نہریں؟“،”کہاں بن رہی ہیں نہریں؟“ شرجیل انعام میمن نے کہا تھا کہ”ہم کسی کو نہریں بنانے نہیں دیں گے۔“

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے حیدرآباد میں مولا بخش چانڈیو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نہروں کی ذمے داری پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز پر ڈال دی۔ انہوں نے کہا کہ نہریں منظور نہیں ہوئیں بلکہ محض تصویر کھنچوانے کے لیے مریم نواز نے افتتاح کیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ ”ہم وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔“

پیپلز پارٹی کی قیادت عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے بڑی مہارت اور چالاکی سے یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ چونکہ ہمارے وفاقی وزراء نہیں ہیں، اس لیے ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ مؤقف اپنانے سے عوام ان پر مکمل بھروسہ کر لیں گے اور انہیں حکومت کا حصہ نہیں سمجھیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی حکومتی بنچوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اراکین کو تمام حکومتی سہولیات حاصل ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی مکمل طور پر نواز لیگ کا نہ صرف حصہ ہے بلکہ اس کے تمام فیصلوں کی حمایت بھی کرتی ہے۔ کسی بھی فیصلے کی مخالفت نہیں کرتی، اور بدلے میں پیپلز پارٹی کی قیادت کو وہ تمام پروٹوکول حاصل ہیں جو حکومتی جماعتوں کو ملتے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف پیپلز پارٹی کے ووٹوں کی بدولت اقتدار میں ہیں۔ سینیٹ چیئرمین پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہیں۔ ملک کی صدارت آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ بلوچستان کی حکومت پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے گورنر پیپلز پارٹی کے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ سندھ میں گزشتہ 16 سالوں سے پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے، اور اس کے باوجود نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔

نثار کھوڑو سے پوچھا جائے کہ قانون کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ جو جماعت حکومتی بنچوں پر بیٹھی ہو، تمام سرکاری سہولتیں لے، حکومت کے تمام فیصلوں میں شریک ہو، اس کے ووٹ سے وزیر اعظم منتخب ہو، تو وہ حکومت کا حصہ نہ ہو؟

حکمرانوں کے متضاد بیانات

سندھ کے حکمرانوں کے بیانات مسلسل بدل رہے ہیں۔ ایک دن مراد علی شاہ نہروں سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں، پھر دوسرے دن سندھ اسمبلی میں چولستان کینال کے خلاف قرارداد منظور کروا رہے ہوتے ہیں۔ اب انہوں صدر زرداری کی زیر صدارت اجلاس کے منٹس میں ردوبدل کا انکشاف کیا ہے۔

صدر زرداری تو بے چارے سادہ انسان ہیں، جنہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کے صدارتی محل میں اجلاس بھی ہوتے ہیں اور ان کے منٹس میں بھی تبدیلی کی جاتی ہے۔ فرض کریں کہ اگر مراد علی شاہ کا بیان درست ہے تو پھر صدارتی محل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

تقریباً 9 مہینے تک صدارتی فیصلے پر ہر طرف خاموشی رہی۔ صدارتی محل کے کسی ذمہ دار نے یہ نہیں کہا کہ 8 جولائی 2024 کے فیصلے اور صدر کے اجلاس کے منٹس غلط ہیں یا ان میں ردوبدل کی گئی ہے، اور اب 9 مہینے بعد مراد علی شاہ کو اچانک یہ خبر ملی ہے۔ اس بیان کے بعد ایک نیا پنڈورا باکس کھلے گا۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔

پیپلز پارٹی کے جھوٹ اور عوامی بیداری

حقیقت چھپانے کے لیے سندھ کے حکمران جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ جب عوام ان کے ایک جھوٹ کو پکڑ لیتے ہیں تو وہ دوسرا جھوٹ بول دیتے ہیں، پھر تیسرا۔ جیسے جیسے سندھ کے عوام کے احتجاج کا دباؤ حکومت پر بڑھ رہا ہے، حکمران مزید جھوٹ گھڑ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ایک کہانی سنائی:”ایک چور مسجد میں جوتے چرانے گیا، لیکن نمازیوں نے اسے پکڑ لیا۔ جان بچانے کے لیے چور کہنے لگا کہ میں جوتے چرانے نہیں، بلکہ نماز پڑھنے آیا ہوں۔“

پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی سندھ دشمن فیصلے کیے ہیں، اور سندھ کے عوام نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی کی قیادت بھی اس چور کی طرح بہانے بنا رہی ہے۔

سندھ کے عوام کی جدوجہد

اس جدوجہد میں سندھ کے عوام نے جو اتحاد اور یکجہتی دکھائی ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ اس تحریک کے قائدین اور کارکنان سندھ کے معصوم بچے، طلبہ، اساتذہ، وکلاء، صحافی، سیاسی و سماجی کارکنان، کسان، مزدور، ادیب اور شاعر ہیں۔ سندھ کے عوام کی اس اجتماعی جدوجہد نے سب کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔

اس تحریک کو کسی سردار، وڈیرے، پیر، جاگیردار یا گدی نشین کے سپرد نہ کیا جائے۔ اس عوامی جدوجہد پر قبضہ کرنے کے لیے اقتدار کے بھوکے لوگ گد ھ کی طرح تاک میں بیٹھے ہیں۔ دشمن سے ہر وقت ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ یہی وہ جدوجہد ہے جو نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ جیسے سندھ دشمن فیصلوں پر حکمرانوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں