روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پاکستان میں میڈیا ذرائع کو قید کرنے والی قانون سازیاں

پاکستان میں میڈیا ذرائع کو قید کرنے والی قانون سازیاں

حارث قدیر

پاکستان میں بھی بھارت، چین، مشرق وسطیٰ اور دیگر پسماندہ خطوں کی طرح میڈیا پر پابندیوں میں مزید سختی آتی جا رہی ہے۔ میڈیا ذرائع پر پابندیاں اور سنسرشپ کوئی آج کے عہد کی بات نہیں ہے۔ میڈیا سے نصاب تک ہر شعبے کو ہمیشہ سے ہی حکمران طبقات کے مفادات کی تکمیل تک کی ہی آزادی میسر رہی ہے۔ اکثریتی عوام کو حکمران طبقات کے مفادات کو تحفظ دینے والے نظام کے حق میں دلیلوں پر مبنی معلومات ہی فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم کہیں نہ کہیں آزادی اظہار کی جدوجہد کی بنیاد پر کچھ گنجائشیں بھی حاصل کی گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ کاروباری مقاصد کے لیے ہونے والی میڈیا ذرائع کی ترقی نے میڈیا ذرائع کو اس قدر وسیع کر دیا کہ حکومتوں کے لیے میڈیا کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ماضی کے قوانین ناکافی ہوتے گئے۔یوں میڈیا ذرائع کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان میڈیا ذرائع کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین میں بھی بتدریج تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔

پاکستان میڈیا ذرائع پر پابندیوں کی وجہ سے آج کل خبروں میں ہے۔ پاکستان میں بھی میڈیا ذرائع کی ترقی کے ساتھ ساتھ پابندیوں اور قوانین میں بھی بتدریج تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ تاہم قوانین اور پابندیوں کا یہ سلسلہ آج زیادہ واضح ہو کر سامنے آرہا ہے۔ ماضی میں میڈیا ذرائع کے استعمال کی سہولت چند صحافیوں اور سرکاری حکام کے پاس ہی تھی، اس لیے اس کو کنٹرول کرنے کے لیے وسیع قانون سازی کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم اب میڈیا ذرائع کے استعمال کی سہولت ایک عام آدمی تک پہنچ چکی ہے، یوں کروڑوں شہری اب میڈیا کے ذرائع کو اپنی سوچ و فکر کو ترویج دینے کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ اس لیے پابندی کے لیے بھی وسیع قانون سازیوں کی ضرورت ہے۔

ریاست گہرے معاشی، سیاسی اور سماجی بحران کا بھی شکار ہے۔ اس ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کے عہد میں میڈیا سنسرشپ اور پابندیاں ریاست کے لیے پہلے سے زیادہ ناگزیر ضرورت بن چکی ہیں۔ اس لیے نت نئے طریقے استعمال کر کے یہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازیوں کے ساتھ سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کو طرح طرح کے قوانین کے ذریعے نہ صرف معلومات تک رسائی کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے، بلکہ اظہار رائے پر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل19میں آزادی اظہار رائے کی ضمانت دی گئی ہے، تاہم ریاست کی سلامتی، عوامی امن اور اخلاقیات کو نقصان پہنچانے والے مواد پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ یوں کسی بھی شخص کی رائے کو قومی سلامتی، عوامی امن اور اخلاقیات کے لیے نقصان دہ قرار دے کر پابندی کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعزیرات پاکستان میں آزادی اظہار رائے کے ریاست کی مرضی کے خلاف استعمال کو جرم قرار دے کر سزائیں بھی تعین کی گئی ہیں۔

ایک قومی ٹی وی چینل کی موجودگی کے وقت میڈیا کے حوالے سے پاکستان میں پریس اور مطبوعات کے لیے مطبوعات آرڈیننس 1962اور فلم سنسرشپ ایکٹ1963نافذ ہوئے۔ حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی کتاب، رسالے یا اخبار کو شائع ہونے سے روک دے، یا کسی بھی فلم کو نمائش سے روک دے اگر اس میں کوئی ایسا مواد ہو جو وہ سمجھیں کہ ریاست کی سلامتی یا عوامی امن کے لیے نقصان دہ ہو۔

ٹیلی ویژن، ریڈیو اور دیگر الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کے لیے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) آرڈیننس2002منظور کیا گیا۔ پیمرا کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ میڈیا ہاؤسز کو لائسنس جاری کرے، عائد پابندیوں کی خلاف ورزی پر ان پر جرمانے عائد کرے اور ان کے پروگراموں کو بند کرے۔

انٹرنیٹ کے وسیع آبادی تک پھیلاؤ اور سوشل میڈیا ذرائع کی ترقی کے بعد ریاست کا میڈیا پر کنٹرول ڈھیلا پڑنا شروع ہوا تھا، جسے مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ تعزیرات پاکستان میں قوانین کی موجودگی کے باوجود پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کا نفاذ عمل میں لایا گیا، سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے رولز اینڈ ریگولیشنز فار سوشل میڈیا2020کا نفاذ کیا گیا، انٹرنیٹ پر مواد کو فلٹر کرنے اور صارفین کی نگرانی کے لیے فائر وال انسٹال کی گئی اور اب پیکا ایکٹ میں نئی ترمیم کر کے آزادی اظہار رائے پر تقریباً مکمل ہی پابندی عائد کر دی تھی ہے۔

تعزیرات پاکستان میں ہتک عزت، امن عامہ کو نقصان پہنچانے والے بیانات سمیت دیگر قوانین پہلے سے موجود ہونے کے باوجود ایسی قانون سازی کی گئی ہے، جس کے تحت معاشرے کی وسیع اکثریت کو سیلف سنسرشپ پر مجبور کیے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

کینیڈا، چین اور دیگر ملکوں کے تعاون سے انسٹال کی گئی فائر وال کی وجہ سے انٹرنیٹ انتہائی سست رفتار ہو گیا ہے۔ کئی ویب سائٹوں تک رسائی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے فری لانس خدمات سرانجام دینے والے نوجوانوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔ اس روزگار میں کمی کی وجہ سے معیشت کو سالانہ تقریباً300ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

حکومت نے رولز اینڈ ریگولیشنز فار سوشل میڈیا 2020کے ذریعے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی صارفین پر پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے ذریعے جاری کیے گئے ان قواعد و ضوابط کا مقصد سوشل میڈیا کے استعمال کو کنٹرول کرنا، صارفین کے ڈیٹا کی نگرانی کرنا، اور حکومت، ریاست مخالف یا غیر قانونی قرار دیے گئے مواد کو روکنا ہے۔ ان قواعد کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر قائم کرنے، مقامی نمائندے مقرر کرنے، صارفین کا ڈیٹا پاکستان میں سٹور کرنے کا پابند بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ بوقت ضرورت ریاست ان دفاتر سے باآسانی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو حکومت کی ہدایات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مواد ہٹانے کا بھی پابند بنایا گیا ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ کو پاکستان میں بلاک کیا گیا ہے۔

تمام پابندیوں کے باوجود ریاست کو شاید مطلوبہ نتائج نہیں مل پائے۔ یہی وجہ ہے کہ پیکا ترمیمی ایکٹ منظور کیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے بعد سزاؤں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ صحافیوں سمیت سوشل میڈیا صارفین کو بھی کسی شخص کو بدنام کرنے یا غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ 5سال قید اور بھاری جرمانے عائد ہو سکتے ہیں۔ پولیس کو بغیر وارنٹ فوری گرفتاری کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ سائبر کرائم کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔

ان نئی پابندیوں کے بعد آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر سخت حملہ کیا گیا ہے۔ تنقیداور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے حکمران ہر حد تک جار ہے ہیں۔جب کوئی ریاست عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ اختلافی آوازوں کو مسلسل دبانے کے لیے کیے جانے والے حملے ریاست کی ناکامیوں کا اعتراف ہیں۔تاہم ان پابندیوں اور ریاستی جبر سے اس طوفان کا راستہ نہیں روکا جا سکتا، جو دہائیوں کی محرومیوں کا شکار اس ملک کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے اندر پنپ رہا ہے۔ اس معاشرے کی سطح کے اوپر موجود بظاہر خاموشی اور سکوت نظر آرہا ہے، لیکن سطح کے نیچے ایک لاوا پک رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر احتجاج سے خائف ریاست کو سڑکوں اور چوکوں چوراہوں پر چیلنج کرتے قدم زمین بوس کر دیں گے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں