روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پاکستان کا پاور سیکٹر سنگین بحران کا شکار: پاور پرچیز بل کا 61 فیصد کپیسٹی پے منٹس پر خرچ ہوا

پاکستان کا پاور سیکٹر سنگین بحران کا شکار: پاور پرچیز بل کا 61 فیصد کپیسٹی پے منٹس پر خرچ ہوا

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ملک کے پالیسی ساز ایک ایسے بجلی کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں جس نے مالی سال 2024-25 میں 2.94 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔ان ادائیگیوں میں سے 61فیصدان کیپیسٹی پیمنٹس پر خرچ ہوئے جو ایسے بجلی گھروں کو دی گئیں جن کی سالانہ اوسط استعمال کی شرح صرف 42.5 فیصد رہی۔ یہ صورتحال اس بنیادی پالیسی ناکامی کو بے نقاب کرتی ہے جو ٹیرف میں اضافہ اور سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھانے کی بڑی وجہ ہے۔

’دی نیوز‘ کے مطابق نیپراکی نئی ’پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ تھرمل پاور پلانٹس سال کے دوران صرف 42.5فیصد گنجائش پر چل سکے، جبکہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی اوسط پیداوار 36.6فیصد رہی۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں بجلی کے بلند نرخوں اور کمزور طلب کی شکایات پہلے ہی شدید ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی 2.943ہزار ارب روپے کے پاور پرچیز بل کا 61فیصد حصہ کیپیسٹی پرچیز پرائس (سی پی پی) پر مشتمل تھا، یعنی ایسی ادائیگیاں جو بجلی گھروں کوہر صورت دی جاتی ہیں، خواہ وہ بجلی پیدا کریں یا نہ کریں۔ادائیگیوں کا 39فیصڈ حصہ انرجی پرچیز پرائس (ای پی پی) کا تھا۔فی یونٹ کے لحاظ سے کیپیسٹی لاگت 14.3 روپے فی کلوواٹ آور، جبکہ انرجی لاگت 9 روپے فی کلوواٹ آور آئی۔

یہ عدم توازن پاکستان کے پاور پلاننگ ماڈل کی بنیادی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ ملک ان پلانٹس کے لیے بھاری رقم ادا کر رہا ہے جو چل ہی نہیں رہے، اور ساتھ ہی مہنگے درآمدی ایندھن پر چلنے والے پلانٹس کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آر ایل این جی، فرنس آئل اور درآمدی کوئلے پر انحصار نے بجلی کی لاگت مزید بڑھا دی ہے۔بجلی گھروں کے جزوی لوڈ پر چلنے سے پارٹ لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز (پی ایل اے سی) کی مد میں 44.6 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔رینیوایبل پلانٹس کی بندش نے 13 ارب روپے سے زائد نان پراجیکٹ مسڈ والیوم (این پی ایم وی) ادائیگیاں پیدا کیں۔

کے الیکٹرک کے معاملات رپورٹ میں نمایاں ہیں۔ 2005 میں نجکاری کے باوجودسسٹم کی اوسط استعمال کی شرح صرف 34.6فیصد رہی،سسٹم بدستور درآمدی ایندھن پر چلتا ہے، جس سے اس کا ٹیرف نیشنل گرڈ کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔

جنوب سے شمال تک ٹرانسمیشن میں رکاوٹوں نے سستی بجلی کی ترسیل محدود کی،نظام کی مجموعی کارکردگی کم کی۔اسی دوران کچھ سستے پلانٹس کی بندش نے صورتحال مزید خراب کر دی۔

رپورٹ کا واضح پیغام ہے کہ اگر پاکستان اپنی صلاحیت کو طلب کے مطابق نہیں لاتا، مقامی ایندھن کو ترجیح نہیں دیتا،اورسخت معاہدہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں کرتا،تو ملک ایک ایسے مہنگی بجلی کے جال میں پھنس جائے گا جو صنعتی مسابقت کو کمزور کر دے گا اور مالیاتی بحران کو مزید گہرا کرے گا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں