لاہور(جدوجہد رپورٹ)پاکستان کے مرکزی سرکاری قرض میں مارچ 2026 تک 6.8 ہزار ارب روپے یا 9.3 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، کیونکہ حکومت نے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اندرونی قرض میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے۔
’دی نیوز‘ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مارچ 2026 تک حکومت کا مجموعی قرض 80.5 ہزار ارب روپے ہو گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 73.7 ہزار ارب روپے تھا۔ تاہم جولائی سے مارچ مالی سال 2026کے دوران قرض کے بڑھنے کی رفتار نسبتاً سست رہی، اور اس عرصے میں قرض صرف 2.6 ہزار ارب روپے یا 3.4 فیصد بڑھا۔ مارچ کے مہینے میں قرض میں ماہانہ بنیاد پر 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔
حکومت کا اندرونی قرض مارچ میں 11.7 فیصد بڑھ کر 57.6 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، جو پچھلے ماہ کے مقابلے میں 1.6 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی تا مارچ مالی سال2026 کے دوران اندرونی قرض میں 5.67 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
بیرونی قرض میں سالانہ بنیاد پر 3.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مارچ میں 22.9 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 22.2 ہزار ارب روپے تھا۔ تاہم فروری کے مقابلے میں بیرونی قرض 1.1 فیصد کم ہوا، اور جولائی تا مارچ رواں مالی سال کے دوران اس میں 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل حکومت نے اعلان کیا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 0.7 فیصد تک سکڑ گیا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 2.6 فیصد تھا۔ حکام کے مطابق یہ بہتری سرکاری اخراجات میں کمی اور محصولات میں اضافے کے باعث ممکن ہوئی۔