عبد الخالق
ہم یہ توقع کر رہے تھے کہ 2025 میں پاکستان کی مالی صورتحال کا نمایاں پہلو یہ ہوگا کہ قومی بجٹ (2025-26) کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے لیے مختص کیا جائے گا۔ یہ صورتحال ملک کی معاشی پالیسیوں کی پائیداری کے بارے میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے آنے والے مالی سال کے لیے ایک سخت بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ کا کل حجم 17.6 ہزار ارب روپے (تقریباً 62 ارب ڈالر) ہے، جس میں سے 46.9 فیصد قرضوں کی واپسی کے لیے ، جبکہ7.2 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
قرضوں کی اصل رقم اور سود کی ادائیگی پر ہونے والے اس بھاری اخراجات نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں حکومت بنیادی عوامی خدمات(جیسے تعلیم، صحت، اور انفراسٹرکچر)کی بجائے قرضوں کی خدمت کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاعی بجٹ میں واضح اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت علاقائی کشیدگیوں کے پیش نظر عسکری تیاری کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہے۔
قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کا مشترکہ بوجھ حکومت کی ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے جو عوام کی فلاح ، جیسے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے لیے نہایت اہم ہیں۔
آئی ایم ایف کے حکم پر تیار کردہ بجٹ
2025-26کے بجٹ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زیادہ تر ایک روایتی بجٹ ہے، جو بنیادی طور پر آئی ایم ایف کے تجویز کردہ مالی نظم و ضبط اور آمدنی بڑھانے پر مرکوز ہے۔ یہ بجٹ محنت کش طبقے کے لیے کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کرتا بلکہ اس کا زور آئی ایم ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی تیاری پر ہے۔ ماضی کی طرح یہ بجٹ بھی ان تمام افراد کے لیے مایوسی کا باعث بنا ہے جو یہ امید رکھتے تھے کہ آئی ایم ایف کے تحت استحکام حاصل کر کے معیشت کو پائیدار ترقی کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔
امیروں کے لیے ٹیکس چھوٹ
پاکستان اکنامک سروے 2024-25کے مطابق اس بجٹ میں کاروباری طبقے کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کی مالیت غیر معمولی طور پر بڑھ کر 5.84 ہزار ارب روپے ہو گئی ہے، جو کہ 51 فیصد اضافہ ہے۔ مختلف شعبوں میں یہ ٹیکس چھوٹ قومی خزانے کو اس سال 21 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا چکی ہے، جو کہ اُن 17 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے جو پاکستان نے رواں سال کمرشل اور دوطرفہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیے ہیں۔
تفصیلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹیکس چھوٹ تین مختلف قوانین کے تحت فراہم کی گئی ہے۔ سیلز ٹیکس میں چھوٹ 4.3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جس میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انکم ٹیکس میں چھوٹ 68 فیصد بڑھ گئی ہے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ کسی نمایاں معاشی سرگرمی کی بنیاد پر نہیں ہے، جو ٹیکس اخراجات کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مزدوروں کے لیے کفایت شعاری ،اور حکمرانوں کے لیے خوشحالی
ایک بار پھر حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر تقریباً 500 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے ہیں، جبکہ کاروباری طبقے کو حاصل ٹیکس چھوٹ برقرار رکھی ہے۔ مزید ظلم یہ ہے کہ کابینہ کے اراکین اور پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مزدوروں کی کم از کم تنخواہ اب بھی 37ہزار روپے پر رکی ہوئی ہے اور اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض 10 فیصد اور پنشن میں صرف 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جو موجودہ مہنگائی کے تناظر میں ناکافی ہے۔ زراعت کے شعبے کی حالت بھی تشویشناک ہے، کیونکہ اس کا جی ڈی پی میں حصہ گھٹ رہا ہے۔ اکنامک سروے 2025 کے مطابق اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.49 فیصد کمی آئی ہے، جس کی وجہ زیر کاشت رقبے میں کمی اور موسمی اثرات ہیں۔ اس کا شدید اثر کپاس، گندم، گنا، مکئی اور چاول جیسی فصلوں پر پڑا ہے۔
قرضوں کا بحران اور معیشت کی پائیداری کا سوال
پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10 فیصد سے بھی کم ہے، جو کہ پورے خطے میں کم ترین شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک مسلسل ٹیکس آمدنی بڑھانے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث اس کا قرضوں پر انحصار مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف، بیل آؤٹ پیکجز، اور دوست ممالک سے لیے گئے رول اوور قرضے پاکستان کو ایک خطرناک حد تک ’قرض کی لت‘ میں مبتلا کر چکے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان بار بار آئی ایم ایف سے رجوع کرتا رہا ہے۔ ان بیل آؤٹس سے جڑی شرائط،جیسے کفایت شعاری کے اقدامات، ٹیکس اصلاحات، اور سبسڈیوں کا خاتمہ،اکثر معیشت کی نمو میں رکاوٹ بنتی ہیں اور عوامی ناراضی کو بڑھاتی ہیں۔
معاشی پالیسی کا ایک اور تشویشناک پہلو قرضوں کی ادائیگی کے لیے اندرون ملک سے قرض لینا ہے، جس سے نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں کمی آتی ہے۔ اس صورتحال سے سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، جس کا براہ راست اثر معیشت کی رفتار پر پڑتا ہے۔ خطرناک طور پر پاکستان کی خالص آمدنی کا 94.2 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ فلاح و ترقی کے لیے محض 5.8 فیصد بجٹ بچتا ہے۔ یہ رجحان آئندہ نسلوں کے لیے مالی انصاف اور معیشت کی طویل مدتی پائیداری کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو جمود کا شکار ہو کر 2.7 فیصد پر آ گئی ہے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش جیسا ملک 4 فیصد ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہا، جہاں حالیہ دنوں میں سیاسی بحران دیکھنے میں آیا۔ زراعت پاکستان کی معیشت کا 24 فیصد حصہ ہے، اس کی شرح نمو گر کر صرف 0.6 فیصد رہ گئی ہے، جو گزشتہ 9 سالوں کی کم ترین سطح ہے۔ اکنامک سروے 2025 کے مطابق اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ نیولبرل طرزِ حکمرانی کی پالیسیوں نے کسانوں کو ان فصلوں کی کاشت ترک کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے جڑا ہے، اور اس زوال کی بنیادی وجہ گندم، گنے اور کھاد کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا خاتمہ ہے، جو آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ لارج سکیل مینوفیکچرنگ مسلسل تیسرے سال بھی زوال کا شکار ہے،جو پاکستان کی معیشت کی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
سماجی لحاظ سے صورتحال اور بھی زیادہ مایوس کن ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں 30 لاکھ سے زائد تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ ’برین ڈرین‘ ملک میں بڑھتی ہوئی مایوسی، معاشی بدانتظامی، اور روزگار کے مواقع کی عدم دستیابی کا نتیجہ ہے۔
مہنگائی کی واپسی کا خطرہ
حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی جنوری 2024 میں 28.3 فیصد سے کم ہو کر جنوری 2025 میں 2.4 فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ مئی 2023 میں ریکارڈ 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے ایک ڈرامائی تبدیلی ہے۔ تاہم یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ مہنگائی کے ان اعداد و شمار پر سب سے زیادہ اثر ’بیس ایفیکٹ‘ کا ہے، یعنی جب ہم مہنگائی ناپتے ہیں تو ہم موجودہ مہینے کی قیمتوں کا تقابل گزشتہ سال کے اسی مہینے کی قیمتوں سے کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ کم شرح مہنگائی اصل قیمتوں میں کمی کا نہیں بلکہ گزشتہ بلند اعداد و شمار کے مقابلے کا نتیجہ ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں عالمی منڈی میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی سطح پر بدانتظامی کے باعث قیمتوں میں جو شدید اضافہ ہوا، اس نے ایک ’ڈس انفلیشن‘یعنی مہنگائی کی رفتار میں کمی کا مصنوعی تاثر پیدا کر دیا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قیمتیں کم نہیں ہو رہیں بلکہ اب وہ پہلے کی نسبت سست رفتاری سے بڑھ رہی ہیں۔ مثلاً فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 1.5 فیصد پر آ جانا صرف بہتر معاشی نظم و نسق کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک شماریاتی بے قاعدگی(Anomaly) بھی ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی کوئی ریلیف ہے یا محض وقتی سکون؟ دستیاب اعداد و شمار اور شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض ایک عارضی مہلت ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر زور نے مہنگائی کے کچھ دباؤ کو ضرور کم کیا ہے، جبکہ اس میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بیس ایفیکٹ جیسے عوامل کا بھی کردار ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مہنگائی کی رفتار میں کمی کا یہ رجحان اندرونی معاشی نمو کی بجائے بیرونی قرضوں اور درآمدات کی قیمتوں میں کمی پر انحصار کرتا ہے۔ اس وقت اگرچہ پاکستانی عوام کو کچھ ریلیف محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اگر اندرون ملک پائیدار اور ساختی اصلاحات نہ کی گئیں تو مہنگائی کی واپسی کا خطرہ مسلسل منڈلاتا رہے گا۔
مزید برآں خوراک کی قیمتوں میں کمی نے کسانوں کے لیے منافع کم کر دیا ہے، جس کے باعث وہ بعض فصلوں کی کاشت سے گریز کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں رسد میں کمی آ سکتی ہے، جو مستقبل میں خوراک کی مہنگائی کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے۔
قرضوں کی ادائیگی کا بے رحمانہ سلسلہ: ایک نہ ختم ہونے والا بھنور
مندرجہ بالا اشاریے پاکستان کی معیشت کی ایک تاریک تصویر پیش کرتے ہیں، جو ایک خطرناک ’قرضوں کے بھنور‘کا شکار ہو چکی ہے۔ دو طرفہ اور کثیرالطرفہ قرض دہندگان سے غیر ذمہ دارانہ قرض لینے کے باعث یہ چکر مسلسل گھوم رہا ہے۔ جیسے جیسے قرضوں کی واپسی کے تقاضے بڑھتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے نجی سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے، روپے کی قدر گر رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، اور حکومت کا انحصار مزید قرضوں پر ہوتا جا رہا ہے۔یوں ایک نہ ختم ہونے والا مالیاتی بحران جنم لے رہا ہے۔
اکنامک سروے 2025 کے مطابق 2024-25میں جولائی سے مارچ کے دوران بیرونی ذرائع سے کل 5.07 ارب ڈالر کی آمد ہوئی، جن میں کثیرالطرفہ اداروں سے 2.8 ارب ڈالر، کمرشل ذرائع سے 2.01 ارب ڈالر، اور دو طرفہ شراکت داروں سے 258 ملین ڈالرشامل تھے۔ اس کے برعکس اسی عرصے میں بیرونی ادائیگیاں $5.636 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں زیادہ تر رقوم کثیرالطرفہ اداروں (2.828 ارب ڈالر)، دو طرفہ شراکت داروں (1.565 ارب ڈالر)، اور کمرشل قرض دہندگان (1.243 ارب ڈالر) کو واپس کی گئیں۔ یہ صورتحال زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔
پاکستان کے بیرونی اور اندرونی قرضے گزشتہ دہائی میں تیزی سے بڑھے ہیں اور 2008 کے بعد سے کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ اس وقت صرف سود کی ادائیگی ہی حکومت کی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد حصہ کھا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ترقیاتی کام، سبسڈیز ،یا یہاں تک کہ سرکاری کام کاج کے لیے بھی بجٹ میں گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ مسئلہ محض مالیاتی نظم و ضبط یا قرضوں کے انتظام کا نہیں رہا،بلکہ پاکستان ایک مکمل اور خطرناک ’قرضوں کے بھنورـ‘میں پھنس چکا ہے۔
(بشکریہ: ’سی اے ڈی ٹی ایم‘، ترجمہ: حارث قدیر)


