روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پاکستانی اکیڈیمیا کی ملٹرائزیشن

پاکستانی اکیڈیمیا کی ملٹرائزیشن

احمد ڈبلیو وحید

(احمد ڈبلیو وحید اکیڈیمک ہیں۔ ان کی تصنیف ’’The Myth of Decolonization and the Global South: Mapping Coloniality Through Pakistani International Relations‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب سے ایک اقتباس کا اردو ترجمہ جدوجہد کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے)

پاکستانی فوج کی معاشرتی، سیاسی اور معاشی زندگی میں مداخلت ہمیشہ سے محققین کی دلچسپی کا موضوع رہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں تحقیق کا رخ اس طرف بھی مڑا ہے کہ فوج کس طرح ایک کارپوریٹ ادارے کی شکل اختیار کر گئی ہے اور پاکستان کی روزمرہ زندگی میں کس طرح ملٹرائزیشن ہورہی ہے۔ یہ دونوں عمل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ نیا زاویہ اس وسیع رجحان کا حصہ ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ فوجی طاقت کس طرح عام شہری زندگی میں معاشی اور نظریاتی ڈھانچوں سے جڑ جاتی ہے۔

1977 سے قبل پاکستانی فوج کی کاروباری انٹرپرائزز کی تعداد محدود تھی، لیکن 1980 کی نجکاری پالیسیوں نے فوج کو معیشت میں اپنا اثر بڑھانے کا سنہری موقع دیا۔ ان اصلاحات کوآزاد منڈی(لبرلائزیشن) کے خوشنما نعرے کے ساتھ پیش کیا گیا، لیکن ان کے نتیجے میں فوج نے قیمتی سرکاری اثاثے حاصل کیے، اپنے کاروباری نیٹ ورک کو پھیلایا اور فاؤنڈیشنز اور ٹرسٹس کے ذریعے معیشت میں مستقل جگہ بنا لی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بننے والی نیولبرل معاشی پالیسیاں اس عمل کو مزید تیز کرنے کا سبب بنیں اور 2008 تک فوج ایک طاقتور سرمایہ دار طبقے کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ اس تبدیلی نے فوج کو صرف روایتی سیکورٹی ادارہ نہیں رہنے دیا بلکہ ایک ایسا معاشی کھلاڑی بنا دیا جو قومی ترجیحات طے کرنے، پالیسیوں کو متاثر کرنے اور عسکری و معاشی طاقت کے ملاپ کے ذریعے اختلاف کو خاموش کرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اطیب احمد ملٹری اتھاریٹیرین ازم اور نیو لبرل ازم کے ملاپ کے اس رجحان کو ’ملٹری نیولبرلزم‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق :

’’ملٹری نیولبرلزم دراصل ان معاشی اور سیاسی بحرانوں اور تضادات سے ابھرا ہے جو سرمایہ دارانہ معاشروں کی بنیادی خصوصیت ہیں۔ ان بحرانوں کے جواب میں ایک منفرد طریقہ سامنے آیا ہے جس کے تحت فوج معاشی اور سیاسی تبدیلی کی سمت متعین کرنے والی سب سے طاقتور قوت بن چکی ہے، اور انہی پالیسیوں اور طریقوں کے تحفظ کے لیے پہلی اور آخری دفاعی لائن کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔۔۔ ملٹری نیولبرلزم کا ریڈیکل پہلو یہ ہے کہ فوج بالآخر ایک عظیم الشان سرمایہ دار کارپوریشن میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو نجکاری، فنانشلائزیشن ، ڈی ریگولیشن اور مارکیٹوں کی لبرلائزیشن جیسی نیولبرل اصلاحات کو اپنے مفاد کے مطابق موڑ لیتی ہے۔ آمریت اور اقرباپروری کے سہارے فوج قانون سے بالاتر ہو کر مارکیٹ میں اپنی اجارہ دارانہ یا نیم اولیگاپولسٹک پوزیشن مضبوط بنا سکتی ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے ایک سرمایہ دار طبقے کے طور پر ابھرنے نے عوامی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ سب سے پہلے، فوج کا ایک باقاعدہ کارپوریٹ ادارے میں تبدیل ہونا ایسے اصولوں و اقدار پر کھڑا ہے جو نیولبرل طرز انتظام کے بنیادی تصورات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان اقدار میں محکمانہ تقسیم، نظم و ضبط، کارکردگی کی بنیاد پر ترقی، سخت درجہ بندی اور کنٹرول شامل ہیں۔ جو اصول ماضی میں صرف عسکری نظم و نسق کے لیے جائز ٹھہرتے تھے، اب انہیں مختلف شہری اداروں میں کارپوریٹ طرز کی انتظامی سوچ کو جائز بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً فوج کے اندر ہونے والی کارپوریٹائزیشن نے فوجی افسران کو موثر منتظمین اور ماہر مینیجرز کے طور پر پیش کیا ہے۔

دوسری بات یہ کہ فوجی افسران ہر جگہ اپنے ساتھ فوجی ثقافت کی پوری ذہنیت بھی لے جاتے ہیں، چاہے وہ فوج کے کاروباری اداروں کا حصہ ہوں یا سرکاری و نجی شعبوں میں ضم ہو جائیں۔ اس ذہنیت میں کمانڈ پر مبنی فیصلہ سازی کی عادت، سخت احتساب کے نظام کو ترجیح دینا، اور اوپر سے نیچے تک کنٹرول کرنے والے، اورخطرے سے بچنے والے طرزحکمرانی کی طرف رجحان شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ادارتی ماحول اور تنظیمی کلچر ایک خاص ملٹراسٹک ذہنیت کی نقالی کرنے لگتے ہیں، جس سے پورا سماجی ڈھانچہ بتدریج ملٹرائزیشن کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے۔

اگرچہ پاکستانی فوج طویل عرصے سے یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس وغیرہ جیسے ملکی علمی ڈھانچوں پر واضح اثر رکھتی تھی، مگر جنرل پرویز مشرف کی نیولبرل پالیسیوں کے تحت اس کا ’’علم پیدا کرنے والے ادارے‘‘(نالج پروڈیوسر) کے طور پر کردار غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ دیگر کارپوریٹ شعبوں میں فوج کی نیولبرل کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اسے تعلیم کے شعبے کی کارپوریٹائزیشن کے ذریعے علم تخلیق کرنے والی برادری میں باقاعدہ شمولیت مل گئی۔

تعلیم کے شعبے کی ملٹرائزیشن اس وقت ممکن ہوئی جب موجودہ فوجی کالجوں کو اپ گریڈ کرکے یونیورسٹیوں میں تبدیل کیا گیا۔ بہت سے فوجی ادارے، جو پہلے صرف فوجی افسران کی تربیت کے لیے مخصوص تھے، ڈگری دینے والے اداروں میں بدل دیے گئے۔ مثال کے طور پر 1970 میں قائم ہونے والا نیشنل ڈیفنس کالج 2007 میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی بنا دیا گیا۔

اسی طرح ملٹری کالج آف سگنلز، کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ، کالج آف ایرو ناٹیکل انجینئرنگ وغیرہ،جو مختلف کورز کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضرورتیں پوری کرتے تھے، انہیں 1993 میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے تحت یکجا کر دیا گیا، اگرچہ اسلام آباد میں نسٹ کا مرکزی کیمپس 2008 میں قائم ہوا۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجزکو 2000 میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کا درجہ دے دیا گیا، جو ابتدائی طور پر ’مسلح افواج اور دیگر سرکاری محکموں کے اہلکاروں کو زبان سکھانے کی سہولت فراہم کرتا تھا‘۔ آج نسٹ کے 9 کالج اور 20 ذیلی ادارے ہیں، نمل کے 9 ریجنل کیمپس موجود ہیں، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کے پیچھے 45 فوجی اسپتالوں، 12 سنگل اسپیشیلٹی اداروں، 10 میڈیکل کالجوں اور 4 نرسنگ کالجوں پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔

فوج کی کارپوریٹائزیشن کا ایک اور پہلو نئی یونیورسٹیوں کا قیام تھا۔ مثال کے طور پر فوج نے تعلیم کے شعبے میں اپنی رسائی مزید بڑھائی۔نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (NUTECH) کو 2019 میں چارٹر ملا ،جبکہ لاہور گیریژن یونیورسٹی (LGU) کو 2014 میں چارٹر دیا گیا، جس کے لیے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی نے 74 کنال زمین فراہم کی۔

اسی دوران کئی فوج کے زیر انتظام انٹرمیڈیٹ کالجوں کو بھی’نالج اکانومی‘میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ پاکستانی بحریہ نے 1995 میں تعلیم کے شعبے میں قدم رکھا، جب اس نے دو تعلیمی ادارے قائم کئے جو ’بحریہ کے اہلکاروں کے بچوں کو ان کی ایک شہر سے دوسرے شہر میں تعیناتی کے وقت انٹرمیڈیٹ تک بلا تعطل تعلیمی سہولت فراہم کرنے‘ کے لیے بنائے گئے تھے۔

یہ ادارے بحر یہ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ کمپیوٹر سائنس (BIM&CS) کے نام سے چلائے جاتے تھے، اور ان کے ساتھ کراچی یا اسلام آباد کا لاحقہ لگایا جاتا تھا۔ آخرکار یہ ادارہ 7 فروری 2000 کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے باقاعدہ طور پر بحریہ یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسی طرح راولپنڈی میں فوجی فاؤنڈیشن کالج نے آگے بڑھتے ہوئے 2002 میں فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے قیام کی شکل اختیار کر لی،جو ’فوجی فاؤنڈیشن کا ایک ملحقہ منصوبہ تھا، اور سابق فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی فلاح کے لیے قائم ایک فلاحی ٹرسٹ‘ ہے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سوا باقی تمام فوجی جامعات نے ابتدا میں صرف وہی مضامین اور ڈگریاں متعارف کرائیں جو تجارتی لحاظ سے زیادہ منافع بخش تھیں،جیسے بزنس و مینجمنٹ، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ،کیونکہ طلبہ مارکیٹ کا بڑا حصہ انہی مضامین کی طرف مائل تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان اداروں نے سوشل سائنسز کے میدان میں بھی اپنی مضبوط جگہ بنا لی ہے۔

فوج کے زیر انتظام جامعات نے نالج پروڈکشن کے نیولبرل ماڈل سے تین بڑے طریقوں سے فائدہ اٹھایا۔ اول، خصوصی کالج بہت پہلے قائم کر لینے کے باعث فوج کے پاس وسیع وسائل موجود تھے،جن میں زمین، بنیادی ڈھانچہ اور تربیت یافتہ عملہ شامل تھا،جنہیں استعمال کرتے ہوئے وہ عام طلبہ کو معیاری تعلیمی پروگرام پیش کر سکتی تھی۔ اس ابتدائی ادارہ جاتی ترقی نے فوجی جامعات کو بہت سے سرکاری اور نجی اداروں سے آگے کر دیا، اور وہ خود کو ایک قابل اعتماد اور مکمل سہولیات رکھنے والے تعلیمی مراکز کے طور پر منوانے میں کامیاب رہیں۔

دوم، سرکاری جامعات جہاں آئے دن ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے بدنام تھیں، وہاں فوجی انتظامیہ کے تحت چلنے والے اداروں نے خود کو غیر سیاسی اور غیر جانب دار اداروں کے طور پر پیش کیا۔ اس تصویر نے ایسے طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کیا جو سرکاری یونیورسٹیوں میں سیاسی سرگرمیوں کو اپنی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔

شہانہ راجانی اور زہرہ ملکانی کے مطابق 1980 کی دہائی میں سرکاری یونیورسٹیوں کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم بنا کر پیش کئے جانے کے عمل نے نئی نیولبرل جامعات،خواہ وہ نجی ہوں یا فوجی،ابھرنے کا موقع دیا۔انہیں محفوظ، سیکورٹائزڈ مقامات کے طور پر مارکیٹ کیاگیا، جہاں نہ تو مسلح طلبہ جتھے تھے اور نہ ہی ریاستی مداخلت۔ نتیجتاً ’وہ طلبہ جو طلبہ سیاست کی ملٹرائزیشن سے بددل ہو گئے تھے، ایسے نجی اور محفوظ ماحول کی طرف راغب ہونے لگے‘۔

سوم، پاکستانی ثقافت میں فوج کی بالادستی نے ان فوجی جامعات کو یہ موقع دیا کہ وہ خود کو ایسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طور پر پیش کریں جو طلبہ کو فوج سے وابستگی کا سماجی وقار عطا کرتے ہیں۔ ایک ایسے سماجی ماحول میں جہاں فوجی خدمت کو عزت اور قومی فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے، فوج کے زیر انتظام جامعات نے اسی علامتی سرمائے سے فائدہ اٹھایا اور خود کو دیگر سرکاری اور نجی اداروں سے ممتاز کرنے کے لیے اسے بھرپور استعمال کیا۔

پاکستان کی جامعات میں ملٹرائزیشن کے فروغ کا ایک اور طریقہ سابق اور حاضر سروس فوجی اہلکاروں کی دوبارہ تعیناتی تھی، خاص طور پر فوج کے زیر انتظام جامعات میں۔ اپنے سابقہ رینکس کے حسب مراتب فوجی افسران آج بھی سینئر اور مڈل لیول کی انتظامی سطحوں پر تعینات کئے جاتے ہیں، اور تمام ریکٹرز سابق فوجی جرنیل ہی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ شون گریگوری نوٹ کرتے ہیں کہ 2008 میں ’’پاکستان کے غیر عسکری تعلیمی اداروں میں دستیاب معلومات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ 74 میں سے 34 سول اداروں کے پے رول پر فوجی عملہ موجود تھا، اور یہ زیادہ تر ادارہ جاتی قیادت (جیسے چانسلرز)، گورننس کی پوزیشنز (بورڈ آف گورنرز) یا انتظامی عہدوں پر تھے‘‘۔

یہ اعداد و شمار وقت کے ساتھ مزید بڑھتے گئے ہیں۔اسی دوران فوج کے زیر انتظام اور سول، دونوں طرح کی یونیورسٹیوں نے حاضر سروس اور ریٹائرڈپاکستانی فوجی افسران کو ایم ایس اور پی ایچ ڈی جیسے پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلے کے لیے وسیع اور پرتعیش مواقع فراہم کیے۔ جیسا کہ سمینہ احمد نے 2001 میں لکھا:

’’فوجی افسروں کی پیشہ ورانہ تربیت میں ’نان کمبیٹ مشنز اینڈ رولز‘ کے لیے مختلف تعلیمی مہارتیں حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ فوجی اکیڈمیوں اور تربیتی مراکز میں سماجی علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ افسران کو سیاسیات، اسٹریٹیجک اسٹڈیز، تاریخ اور نفسیات جیسے مضامین میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے سول جامعات میں بھی بھیجا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلح افواج میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم فوج کے اس تصور کو مزید تقویت دیتی ہے کہ مسلح افواج نہ صرف اندرونی و بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کر سکتی ہیں بلکہ ایک کم تعلیم یافتہ، غیر تجربہ کار اور نااہل سول قیادت کے مقابلے میں ریاست کو زیادہ موثر طریقے سے چلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔‘‘

تعلیمی اداروں کی ملٹرائزیشن کے ان رجحانات میں حالیہ شدت نے فوج کے زیر انتظام یونیورسٹیوں کو ایک طرح کے ’’تعلیمی کنٹونمنٹس‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں طلبہ اور سول تعلیمی عملے سمیت افراد کو فوجی اصولوں، معیارات اور عقائد کی بنیاد پر نگرانی اور نظم و ضبط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ یونیورسٹیاں نہ صرف نالج پروڈکشن کے مراکز کے طور پر کام کرتی ہیں بلکہ نظریاتی تربیت کے ایسے مراکز بھی بن چکی ہیں جہاں نگرانی، نظام اور فرمانبرداری کو تعلیمی فضائل کے طور پر معمول بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی ماحول نہ صرف ساختی طور پر بلکہ ثقافتی طور پر بھی عسکری رنگ میں رنگ جاتا ہے اور اعلیٰ تعلیم کے بنیادی مقصد کو ہی تبدیل کر دیتا ہے۔

اسی دوران پاکستان کی ریاست شروع سے ہی طلبہ کی تحریکوں کی مخالفت کرتی رہی ہے اور طلبہ کے زیر بحث کئی مسائل کو’’اینٹی نیشنل‘‘(قوم مخالف)قرار دیا جاتا رہا ہے۔ فوج نے طلبہ احتجاجات کو روکنے کے لیے عسکری طاقت کا استعمال کیا، بائیں بازو کے طلبہ گروہوں کو یونیورسٹی کیمپس پر پابندی لگا کر مجرمانہ قرار دیا، طلبہ کو گرفتار کیا اور انہیں فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ فوج نے طلبہ کے احتجاج اور اختلاف رائے کو دبانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس دباؤ کی توجیہہ یہ کی جاتی ہے کہ اختلاف رائے ریاست کے لیے خطرہ ہے، نہ کہ جمہوری حق۔جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے تحت نیولبرل پالیسیوں کے نفاذ کے بعد پاکستانی فوج کے زیر انتظام یونیورسٹیاں ایک بالادستی والی پوزیشن میں آ گئیں ،جہاں وہ آرڈر اور ڈسپلن کے نام پر طلبہ کی سرگرمیوں اور اختلاف رائے کو بدنام کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

نیولبرل منطق اور فوج کے زیر انتظام چلنے والی یونیورسٹیوں کے کارپوریٹ اداروں کے طور پر ابھرنے کا مطلب یہ تھا کہ منافع تعلیمی پالیسیوں کی سب سے بڑی قوت محرکہ بن گیا۔ تعلیمی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ جیسا کہ رجانی اور ملکانی نے نوٹ کیا ہے کہ ’’کسی بھی صورت میں یہ ادارے طلبہ اور اساتذہ کی تنظیم سازی یا ٹیوشن فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج یا اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ طلبہ اور اساتذہ کی یونینز کی تشکیل سختی سے ممنوع تھی۔‘‘نتیجتاً یہ’’ایجوکیشنل کنٹونمنٹس‘‘ حب الوطنی کی فضا اور قوم پرستی کے نظریات کے فروغ کے گڑھ بن گئے، کیونکہ تمام تنقیدی اور سیاسی گفتگو کو ’’پاکستان مخالف‘‘، ’’قوم مخالف‘‘ اور ’’ثقافت مخالف‘‘ قرار دیا جانے لگا۔

نوآبادیاتی دور کی فوج جو کبھی نوآبادکار(قابض) حکمرانوں کے حقوق کا تحفظ کرتی تھی اور مقامی لوگوں کو قابو میں رکھتی تھی، آج وہی فوج ملک کو چلانے والی طاقت بن چکی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے فوج نے نوآبادیاتی نظام کی جبر اور کنٹرول کی مشینری کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ نئے سامراجی ملک میں لوگوں کوبطور سبجیکٹس کنٹرول کیا جا سکے۔ وہ لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ریاست کے سخت قوانین، نگرانی، قید و سزا اور تشدد کے نظام کے تحت کام کر رہی ہے۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے کارپوریٹ انداز میں دوبارہ تنظیم نے علم کو اس کے سماجی، سیاسی اور تاریخی سیاق و سباق سے الگ کرنے کی راہ ہموار کی۔ اس فکری خلا میں فوج نے نہ صرف اپنے زیر انتظام یونیورسٹیوں میں ریاستی بیانیے، قوم پرست نظریات اور حب الوطنی کے پروپیگنڈا کو فروغ دینے کا موقع پایا بلکہ دوسری جگہوں پر متبادل بیانیوں کو دبا کر خاموش بھی کر دیا۔
یہ صورتحال خاص طور پر سماجی علوم کے شعبے کو دیگر مضامین کے مقابلے میں شدید متاثر کرنے والی ثابت ہوئی، کیونکہ معاشرتی ترجیحات ہمیشہ ایسے مضامین کی جانب رہی ہیں جن کے روزگار کے امکانات زیادہ ہوں ،جیسا کہ مینجمنٹ، انجینئرنگ اور طب۔ اس لیے سماجی علوم کو پاکستان کی اعلیٰ تعلیم میں ہمیشہ مناسب توجہ نہیں ملی۔اسی دوران نہ صرف پاکستانی اعلیٰ تعلیمی انتظامیہ، جیسے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور اس کے پیش رو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، نے سماجی علوم کو غیر متناسب طور پر کم وسائل فراہم کیے، بلکہ تحقیق کے موضوعات کو بھی ریاستی بیانیے کی پابندی اور نفاذ کے لیے محدود کیا گیا، جس کی وجہ سے سماجی علوم کی تحقیق مزید ملٹرائزڈ نوعیت اختیار کر گئی۔

تاہم بین الاقوامی تعلقات کا شعبہ ملٹرائزیشن کے عمل کی وجہ سے شدید متاثر ہوا۔ دیگر’سائنسز‘کے برعکس ،جن میں پاکستانی فوج کے پاس وسیع تجربہ اور وسائل موجود تھے، سماجی علوم کی تعلیم صرف ایک منتخب افسران کے گروہ تک محدود تھی جو کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے ’آرٹ اینڈ سائنس آف وارفیئر‘میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری یا نیشنل ڈیفنس کالج سے ’وار اسٹڈیز‘میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کرتے تھے۔

اس کے نتیجے میں ریاست کی خودمختاری، قومی مفاد اور بین الاقوامی سلامتی کی مہارت ایک خاص طبقے تک محدود رہی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر ریاست کے منتظمین بنتے تھے۔پاکستانی فوج کے سلامتی کے امور پر غلبے کی وجہ سے فوجی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کی ضروریات میں ان کا خارجہ پالیسی سازی میں مداخلت کرنابھی شامل ہے۔ اسی لیے پاکستانی فوج اہم خارجہ پالیسی تعلقات پر تقریباً مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔

یہ تعلقات ایک ذہنی نقطہ نظر سے چلائے جاتے ہیں جو تنازعہ کو انسان کی فطری حیاتیاتی اور نفسیاتی جبلت، جیسے طاقت، دولت اور سلامتی کے لئے خودغرضانہ محرکات، قرار دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ،چاہے براہ راست فوجی اثر و رسوخ ہو یا ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی دوبارہ ملازمت جیسی بالواسطہ صورتیں، یہ ہوبیسئین (Hobbesian)نظریہ بین الاقوامی تعلقات کے تعلیمی میدان میں پھیل گیا ہے۔یہ ایک واحد عنصر ہے جو پاکستان میں بین الاقوامی تعلقات کی ملٹرائزیشن کے عمل کی بڑی وجہ بنا۔

Ahmed W. Waheed
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں