روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پشاور یونیورسٹی کا شعبہ صحافت ارشد شریف سے منسوب کر نے پر تنازع

پشاور یونیورسٹی کا شعبہ صحافت ارشد شریف سے منسوب کر نے پر تنازع

لاہور(جدوجہد رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ کو مقتول صحافی ارشد شریف کے نام سے منسوب کرنے کے اعلان نے ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ شعبہ صحافت کے اساتذہ سمیت خیبر یونین آف جرنلسٹس نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے پر توجہ دے۔

’ڈان‘ کے مطابق محکمہ کے نام کی تبدیلی کا اعلان وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کیا۔ ٹاک شو میں اینکر اطہر کاظمی نے ان سے پوچھا تھا کہ انہوں نے اس صحافی کی عزت کے لیے کیا کیا، جسے اکتوبر2022میں کینیا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

علی امین گنڈا پور نے جواب میں کہا کہ ’آپ نے مجھے بہت اچھا آئیڈیا دیا ہے۔ اس سے پہلے کسی نے یہ بات میرے ساتھ نہیں اٹھائی۔ اب جب آپ نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے تو خیبرپختونخوا حکومت ایک یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کا نام ارشد شریف کے نام پر رکھے گی۔ آپ اس حوالے سے حکومتی کارروائی جلد دیکھیں گے۔‘

خیبر پختونخوا کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے وزیر مینا خان آفریدی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ محکمہ وزیر اعلیٰ کے اعلان پر فوری طور پر کام شروع کر دے گا۔ ہم پشاور یونیورٹی کے شعبہ صحافت کا نام ارشد شریف کے نام پر رکھنے جا رہے ہیں۔

محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ نے باضابطہ طور پر یونیورسٹی کے شعبہ کا نام ارشد شریف کے نام پر رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت اور ابلاغ عامہ کا نام ارشد شریف کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

تاہم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے اس فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ صوبے کے ان صحافیوں کو نظر انداز کر کے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں گنوائی ہیں۔

ایک بیان میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشد میدانی نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے۔ حکومت کا یہ نام تبدیل کرنا کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر صوبائی وزیر ارشد شریف سے اتنا ہی لگاؤ رکھتے ہیں تو ان کے نام پر کوئی اور ادارہ قائم کریں۔

ان رہنماؤں نے کہا کہ وہ صوبائی وزیر کے اعلان کی ہر سطح پر مزاحمت اور مخالفت کریں گے اور کسی قیمت پر نام بدلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے 50سے زائد صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اگر مینا خان آفریدی کو صحافیوں کی قربانیوں پر تشویش ہے تو وہ صوبے کے اندر سے ایسے ہی ایک صحافی کے نام پر شعبہ کا نام رکھ لیں۔

انکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو اداروں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے کی بجائے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور صوبے کی تعمیر نو پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو صحافی احتجاج کریں گے۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سابق سربراہ پروفیسر فیض اللہ جان نے شعبہ کا نام تبدیل کرنے کی دلیل پر ہی سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچ خطرناک ہے۔

انکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت یونیورسٹی کو ارشد شریف کے نام پر ریلیف پیکیج دے، کیونکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فیکلٹی اور سٹاف ممبران کو وقت پر تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ یونیورسٹی نے حال ہی میں عملے کو مطلع کیا ہے کہ وہ عید سے قبل صرف بنیادی تنخواہ ہی وصول کر پائیں گے، جبکہ باقی رقم عید کے بعد ادا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نام تبدیل کرنے کی بجائے صوبائی حکومت مقتول صحافی کے نام پر یونیورسٹی کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کریں۔

انکا کہنا تھا کہ یونیورٹی کا شعبہ صحافت بے شمار مسائل اور وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ اگر ارشد شریف کو خراج تحسین پیش کرنا ہے تو نئے کلاس رومز،ٹی وی سٹوڈیو یا کوئی نیا بلاک تعمیر کر کے اسے ارشد شریف کے نام سے منسوب کیا جائے۔

مدیر ’جدوجہد‘ فاروق سلہریا نے بھی اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں پی ٹی آئی حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف ایک متنازع شخصیت تھے۔ ان کے ایسے کوئی صحافتی کارنامے نہیں ہیں، جن کی بنیاد پر ان کے نام سے کوئی صحافت کا شعبہ منسوب کیا جائے، یا کوئی سرکاری جگہ ان کے نام سے منسوب کی جائے۔

انکا کہنا تھا کہ جب تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی تھی، تب ارشد شریف اس کے ترجمان تھے۔ انہوں نے کبھی محنت کش طبقے کا یا مظلوم قوموں کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کبھی آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے، یا صحافیوں کے حقوق کے لیے بھی کوئی جدوجہد نہیں کی۔ اس لیے یہ فیصلہ سیاسی اور موقع پرستانہ قسم کا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی پیشہ ورانہ زندگی کو بھی دیکھیں تو ان کی ایسی کوئی صحافتی کارکردگی یا کارنامہ بھی نہیں ہے۔ ان کی موت ایک المناک موت تھی، جو قابل مذمت ہے، لیکن ابھی تک یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ ان کو کس نے قتل کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے نام اور ان کی المناک موت کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی اپنے آپ کو جعلی مزاحمت کار کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہی جعلی مزاحمت کار رہے ہیں۔ اگر مزاحمت کار بننا ہے تو پھر بلوچ یکجہتی کمیٹی اور پی ٹی ایم کی طرح مزاحمت کریں۔ علی وزیر کی طرح مزاحمت کریں، جو اس ملک کے طول و عرض کی تمام جیلوں کی قید کاٹ چکے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ آج اگر پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو جائے تو یہ ان کے پہلے سے کہیں گنا اگلے قدموں پر ان کے حامی ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر واقعی آزادی اظہار کا خیال ہے تو ان صحافیوں کو عزت دی جائے جنہوں نے آزادی اظہار رائے کے لیے جدوجہد کی اور آمریتوں میں کوڑوں کی سزائیں برداشت کیں۔ ارشد شریف جیسے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے البتہ پی ٹی آئی اپنے خرچے پر یادگاریں تعمیر کر سکتی ہے۔ قوم کے پیسے سے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ صرف تحریک انصاف ہی نہیں اگر پیپلزپارٹی، نواز لیگ یا کوئی اور سیاسی جماعت بھی پارٹی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کرتی ہے تو وہ عمل بھی قابل مذمت ہے۔

یہ شعبہ 1985میں ایک ڈپلومہ ایوارڈ دینے والے ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کے چار سال بعد اس شعبے کو پوسٹ گریجویٹ کی سطح تک بڑھایا گیااور اکتوبر2000میں اسے شعبہ صحافت کے طور پر قائم کر دیا گیا تھا۔

اس شعبہ نے سالوں کے دوران سینکڑوں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو تربیت دینے کے علاوہ صوبے میں صحافیوں کی صلاحیت کو بڑھایا ہے اور ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کورسز متعارف کروائے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ مہینے کے آغاز میں خیبرپختونخوا حکومت نے بڑے پیمانے پر تنقید کے باوجود ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے صوبے کے واحد بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا نام سابق وزیراعظم عمران خان کے نام پر رکھ دیا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ نیا کوئی منصوبہ تعمیر کرنے یا عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے پہلے سے تعمیر شدہ منصوبوں کو پی ٹی آئی حکومت اپنی پارٹی ناموں کے ساتھ منسوب کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں