روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پنجاب میں تعلیمی بحران: 4 ہزار 404 تدریسی اسامیاں خالی، طلبا متاثر

پنجاب میں تعلیمی بحران: 4 ہزار 404 تدریسی اسامیاں خالی، طلبا متاثر

لاہور(جدوجہد رپورٹ)پنجاب کے سرکاری ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 4ہزار 404 گریڈ 17 کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، جبکہ کل منظور شدہ تعداد 5ہزار576 ہے، یعنی تقریباً 79 فیصد نشستیں خالی ہیں۔

’ٹربیون‘ کے مطابق یہ صورتحال اس وجہ سے بھی تشویشناک ہے کہ جن اساتذہ کو 67فیصد ان سروس پروموشن کوٹہ کے تحت ترقی ملنی تھی، وہ برسوں سے رکے ہوئے ہیں۔

ماہرین تعلیم کے مطابق اس تاخیر نے نہ صرف اساتذہ کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ ان کی معاشی حالت پر بھی سنگین اثرات ڈالے ہیں۔ ہائی اسکولوں میں کمیسٹری، فزکس، ریاضی، بائیولوجی، انگلش، اردو اور کمپیوٹر سائنس جیسے اہم مضامین کے ماہر اساتذہ کی شدید کمی نے تعلیمی معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، کئی سیکنڈری سکول ٹیچرز جو ایم فل یا پوسٹ گریجویٹ ڈگری رکھتے ہیں، انہیں تدریسی فرائض کے بجائے انتظامی کاموں میں لگا دیا گیا ہے۔ اس کے باعث کلاس رومز میں تعلیمی تسلسل اور معیار میں نمایاں کمی آئی ہے۔

حکومت کی جانب سے نئی بھرتیوں اور پروموشن کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر نے مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں پہلے ہی بجٹ اور افرادی قوت کی کمی تھی، اور اب ہزاروں خالی آسامیوں نے نظامِ تعلیم کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف اساتذہ کا نہیں بلکہ براہ راست طلبا کا بھی ہے، جنہیں معیاری تعلیم سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ اگر حکومت نے فوری قدم نہ اٹھایا تو اگلے چند برسوں میں پنجاب کے اسکولوں میں سائنسی اور فنی تعلیم کا معیار خطرناک حد تک گر سکتا ہے۔

ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر خالی اسامیوں کو پر کرے، پروموشن کا عمل تیز کرے اور اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی کو ترجیح دے۔ بصورت دیگر، یہ تعلیمی خلا پنجاب کے لاکھوں طلبا کے مستقبل پر طویل المدتی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں