روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

چولستان کینال منصوبے پر سندھ کے کسانوں کا احتجاج کیوں؟

چولستان کینال منصوبے پر سندھ کے کسانوں کا احتجاج کیوں؟

لاہور(جدوجہد رپورٹ) چولستان کینال منصوبے کے خلاف سندھ میں قوم پرست، ترقی پسند سیاسی جماعتیں اور کسان تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کو دریائے سندھ پر ڈاکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کینال گرین پاکستان انیشی ایٹو منصوبے کے تحت دریائے سندھ پر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کو ہی سندھ اور کسانوں کا قاتل منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

’ڈان‘ کے مطابق گرین پاکستان انیشی ایٹو ایک وفاقی حکومت کی سرپرستی میں بننے والا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ ایک نہری نظام پر مشتمل ہے، جو دریائے سندھ سے پانی لے کر پنجاب میں چولستان کے بنجر علاقوں کو زرخیز بنانے کے لیے تعمیر کیا جائے گا۔ اس کا مقصد بظاہر جدید زرعی تکنیکوں کے ذریعے غذائی تحفظ کو بہتر بنانا اور دیہی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

یہ منصوبہ تین عناصر پر مشتمل ہے: گرین ایگری مال، اسمارٹ ایگری فارم، اور ایگری ریسرچ اینڈ فیسلیٹیشن سینٹر۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے زراعت میں جدت آئے گی اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

منصوبے کے تحت 176 کلومیٹر طویل چولستان کینال کو پنجاب کی موجودہ نہروں، رسول قادرآباد، قادرآباد بلوکی، اور بلوکی سلیمانکی (RQBS) سے پانی فراہم کیا جائے گا، جس پر 211.34 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 4,55,000 ایکڑ زمین اور دوسرے مرحلے میں 7,44,000 ایکڑ زمین کو سیراب کیا جائے گا۔

تاہم سندھ میں اس منصوبے پر شدید اعتراضات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ یہ سندھ کے پانی کے حقوق کو سلب کر سکتا ہے۔ سندھ کے لیے سکھر بیراج نہایت اہم ہے، جو 8.2 ملین ایکڑ زمین کو پانی فراہم کرتا ہے۔ معترضین کے مطابق اگر دریائے سندھ سے مزید پانی نکالا گیا تو اس کا زرعی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ پہلے ہی خشک ہو رہا ہے اور سکھر بیراج میں پانی کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر چولستان نہر کو 20,000 کیوسک پانی دیا گیا جبکہ سکھر بیراج میں صرف 18,000 کیوسک پانی باقی ہے، تو سندھ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ جنوبی پنجاب میں بھی پانی کی قلت پیدا کرے گا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اس منصوبے پر شدید اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ اس کی منظوری 1991 کے پانی کے معاہدے کے مطابق نہیں دی جا سکتی۔

یہ منصوبہ سندھ کے مقامی ماحولیاتی نظام کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ اگر دریائے سندھ میں پانی کی روانی کم ہوئی تو سمندری پانی اندرونی علاقوں میں داخل ہوگا اور زمین کو بنجر بنا دے گا۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگروو کے جنگلات پہلے ہی ختم ہو رہے ہیں اور اگر دریا خشک ہوا تو ماحولیاتی تباہی ناگزیر ہوگی۔

اس کے علاوہ، اس منصوبے سے کسان بے گھر ہو سکتے ہیں اور انہیں شہروں میں پناہ لینا پڑے گی، جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ سندھ کے ہزاروں کسان پہلے ہی پانی کی کمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں اور مزید پانی کی کٹوتی انہیں مزید مشکلات میں مبتلا کر دے گی۔

ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونیو الی قدرتی آفات کے مشیر نصیر میمن پانی کی قلت سے متعلق حکومتی بے حسی کا شکوہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گڈو بیراج تقریباً20لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کر سکتا ہے، جبکہ چولستان میں 60لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبہ سیراب کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پانی کہاں سے آئے گا۔

انکا کہنا تھا کہ نہریں خشک سالی کے مراحل میں ہیں، ڈیم مسلسل سکڑ رہے ہیں اور دیہاں سے زیادہ عرصے سے ارسا نے مسلسل پانی کی قلت کا ہی اعلان کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کوٹری کا اوسط بہاؤ40.69ملین ایکڑ فٹ سے کم ہو کر 14.035ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔

منگلا ڈیم اپنے ڈیڈ لیول 1050فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ تربیلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک 1402فٹ کے ڈیڈ لیول کے قریب ہے۔ چشمہ آبی ذخائر بھی تنزلی کے دہانے پر ہیں۔

نتیجے کے طور پر گندم اور گنے جیسی فصلیں شدید خطرے میں ہیں۔ ربیع کے بقیہ سیزن کے لیے پانی کی 35فیصد کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شہری آبادیوں کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف کراچی اپنے 85فیصد پانی کے لیے دریائے سندھ پر انحصار کرتا ہے،جبکہ حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر بھی مکمل طور پر سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے مطابق حیدرآباد کا پانی 790 ملی گرام فی لیٹر ٹوٹل تحلیل شدہ سالڈ (ٹی ڈی ایس) لے جاتا ہے، جو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی 500 ملی گرام فی لیٹر حد سے زیادہ ہے۔ یہ دریائے سندھ میں سکڑتے ہوئے بہاؤ اور غیر کنٹرول شدہ آلودگی کا نتیجہ ہے۔

ذوالفقار جونیئر کا کہنا ہے کہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اپنے زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لیے اگلے تین سے پانچ سالوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین سے 6 ارب ڈالر کی امدادلے رہا ہے۔ اس کا مقصد 1.5 ملین ایکڑ غیر استعمال شدہ زمین کو زیر کاشت لانا اور 50 ملین ایکڑ کو جدید میکانائزیشن کے ساتھ اپ گریڈ کرنا ہے،تاکہ کارپوریٹ فارمنگ کے نئے دور کا آغاز کیا جا سکے۔

نومبر 2024 میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا کہ سندھ میں صرف 8.2 ملین ایکڑ اراضی پر کاشت کی جاتی ہے،جبکہ پنجاب میں 30 ملین ایکڑ سے زیادہ رقبہ ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات اہم ہے کہ چونکہ سندھ میں 18 ملین ایکڑ اراضی غیر کاشت ہے، اس کا پانی پنجاب میں صرف 1.2 ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لیے موڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے گھر ہاریوں (کسانوں) کے پاس شہری کچی آبادیوں میں ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، جہاں وہ روزگار کی تلاش کے لیے جدوجہد کریں گے۔ ان کا روایتی طرز زندگی مٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کی ثقافتی نسل کشی ہے۔

درحقیقت سندھ کی زرخیز زمینوں کی آہستہ آہستہ موت کا سلسلہ کئی سال پہلے شروع ہوا تھا۔ سمندری پانی کی دخل اندازی نے ٹھٹھہ اور بدین کو تباہ کر دیا ہے،یہ وہ علاقے ہیں جو کبھی چاول اور گندم کی کاشت کے لیے مشہور تھے۔ وہ اب مٹی کی کھارا پن میں اضافے کی وجہ سے بنجر ہو چکے ہیں۔ 1.2 ملین سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں،کیونکہ ان کی زمینیں ناقابل رہائش ہو گئی ہیں۔ سندھ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق ڈیلٹا کی 70 فیصد زرعی زمین اب روایتی کاشتکاری کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔

ذوالفقار جونیئر کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ زمیندار اپنی زمینیں چھوڑ دیں اور کم از کم 5,000 ایکڑ پر نئی زمین لیز پر لیں۔ یہ کراچی میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) کا سائز ہے۔یہاں زیادہ تر زمیندار 500سے600 ایکڑ کے مالک ہیں۔یہاں تک کہ امیر ترین وڈیروں کے پاس بھی 5,000 ایکڑ نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد روایتی زمینداروں کو منظر سے ہٹا کر غریب کسانوں کو ان زمینوں پر کام کرنے والے مہاجر مزدوروں میں تبدیل کرنا ہے۔

سندھ میں لوگ اس منصوبے کے خلاف سڑکوں پر ہیں، لیکن مرکزی میڈیا اس مسئلے پر توجہ نہیں دے رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا نقصان صرف سندھ کو نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کو بھی ہوگا۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چولستان پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے، اور اس منصوبے سے وہاں کے مقامی لوگ بھی متاثر ہوں گے۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کہاکہ ”یہ معاملہ پنجاب بمقابلہ سندھ نہیں، بلکہ طاقتور بمقابلہ کمزور کا ہے۔ یہ منصوبہ عام کسانوں کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ کارپوریٹ زراعت کے فروغ کے لیے بنایا گیا ہے۔“

سندھ کے ماحولیاتی ماہرین، کسان اور طلبہ اس منصوبے کو روکنے کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کو روک کر سندھ کے پانی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں