روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

کوئٹہ ’لٹل لندن‘ تھا، اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے

کوئٹہ ’لٹل لندن‘ تھا، اب کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے

امتیاز بلوچ

کوئٹہ کے کلی اسماعیل علاقے میں بلوچستان بورڈ کے دفتر کے قریب سمونگلی روڈ پر ایک مدرسے کا 12 سالہ طالبعلم سلمان کچرے کے ڈھیر میں گیند تلاش کرتا پھر رہا تھا۔ وہ یہ تلاش اس لیے کر رہا تھا کہ اکرم اپنی اگلی تیز گیند اپھینک سکے، جو بلے بازی کے لیے کچرے کے عین درمیان تیار کھڑا تھا۔ سلمان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہاکہ ’ہم یہاں کھیلنے کے عادی ہیں۔ ہم بس عام پانی سے ہاتھ دھو لیتے ہیں۔‘ علاقے کے بہت سے بچوں کی طرح اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کوڑا کرکٹ اس کی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

قریب ہی آٹا چکی چلانے والے جمیل لانگو نے شکوہ کیا کہ ’پانچ ماہ ہو گئے ہیں اور حکام کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔یہ کچرا پھینکنے کی جگہ منشیات کے عادی افراد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا گڑھ بن چکی ہے۔ یہ ہمارے محلے اور بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔‘

انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ طوفان میں کس طرح بڑی مقدار میں یہ کچرا قریب کے گھروں میں جا پہنچا۔ اس کے بالکل ساتھ رہتے ہوئے اب رہائشی، خاص طور پر بزرگ افراد، دھول اور فضلے سے آلودہ فضا کے باعث دمہ اور سانس کے دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔

کوئٹہ کو کبھی محبت سے ’لٹل لندن‘ کہا جاتا تھا، لیکن آج بے قاعدہ ترقی، ناقص سیوریج نظام، شہر کے مرکز میں ٹریفک جام، ابلتے ہوئے مین ہولز، صاف پانی کی کمی، بے قابو کچرے کے ڈھیر، غیر منظم کرش پلانٹس، کھیتی باڑی کے لیے گندے پانی کا استعمال، کھیل کے میدانوں اور سرسبز مقامات کی کمی، اور تنگ و بھری ہوئی اندرونی سڑکوں کے نیچے دب چکا ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ و علاقائی منصوبہ بندی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ثناء اللہ پنیزئی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ’شہر کی تیزی سے پھیلتی ہوئی آبادی نے اس کے اصل ڈیزائن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کوئٹہ کو ابتدائی طور پر تقریباً ایک لاکھ افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مگر آج اس کی آبادی 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے باوجود ماسٹر پلان کی زیادہ تر ہدایات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔‘

اسی دوران کوئٹہ قدرتی اور انسانی آفات کے حوالے سے شدید غیر محفوظ ہے۔ سیلاب، زلزلے، زمین کھسکنے اور شہری تباہ کاریاں منصوبہ بندی کی ناکامی کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ ثناء اللہ پنیزئی نے مزید کہا کہ 2022 میں آنے والے سیلاب نے شہر کے ڈھانچے اور آبی نظام کو نمایاں نقصان پہنچایا۔

صورتحال کو مزید خراب کرتے ہوئے شہر روزانہ تقریباً 1600 ٹن کچرا پیدا کرتا ہے، لیکن فنڈز کی شدید کمی کے باعث صرف 400 ٹن ہی اٹھایا جاتا ہے۔ شہر کو کچرے کے انتظام کے لیے صرف 1 ارب روپے ملتے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے 4 ارب روپے درکار ہیں۔

ان سب کے بیچ کوئٹہ کے رنگوں اور زندگی سے بھرے بازار اب دھول اور زوال کے سائے تلے دب گئی ہیں۔ لیاقت بازار، پرنس روڈ، گوورگتھ سنگھ روڈ، سرکی روڈ، مسجد روڈ، جناح روڈ، کواری روڈ، ہزارہ ٹاؤن، مری آباد، نواں کلی، پشتون آباد اور سریاب کے علاوہ مغربی اور مشرقی بائی پاس کی سڑکیں سب غفلت کے نشانات لیے ہوئے ہیں۔

تاہم اگر آپ حکام سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، اور ساتھ ہی بڑے منصوبوں اور ترقی کے وعدے بھی سنائیں گے۔

کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر رفیق بلوچ نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں 15 منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے 10 مکمل ہو چکے ہیں۔ ان میں سریاب علاقے میں 97 کلومیٹر اندرونی سڑکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 5 منصوبے تاحال جاری ہیں، جن میں سڑکوں کے ساتھ سیوریج نظام بھی بنائی جا رہی ہے، تاکہ پانی کی نکاسی بہتر ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہر میں 6 کھیلوں کے کمپلیکس مکمل ہو چکے ہیں۔

شہر کا ناکام سیوریج نظام

یہ سب کچھ شہر کی اصل حالت کو پوری طرح بیان نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر حالیہ برسوں میں جان محمد روڈ اور کواری روڈ کے سنگم پر کوئٹہ چلڈرن ہسپتال کے بالکل قریب کھلا سیوریج نظام ایک بڑے عوامی صحت اور شہری انتظامی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس سے مقامی رہائشی، کاروباری افراد، مسافر، اور سب سے بڑھ کر ہسپتال کے کمسن مریض متاثر ہو رہے ہیں۔

قریب ہی کے رہائشی جعفر خان اپنی اہلیہ کے ساتھ نومولود بچے کو بار بار ہسپتال لے کر آتے ہیں۔ بچہ دست کی بیماری میں مبتلا ہے۔ جعفر نے وضاحت کی کہ’ہم رکشے میں ہسپتال جانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ کھلے گندے نالے کے باعث ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔ اس کی بجائے ہم پیدل جاتے ہیں، چونکہ فاصلہ زیادہ نہیں ہے،لیکن ہمیں فکر رہتی ہے کہ یہ گندا پانی، جو کئی مہینوں سے جمع ہوا ہے، کہیں ہمارے بچے کو نئی بیماریوں میں مبتلا نہ کر دے۔‘

کواری روڈ پر فرنیچر کی دکان کے مالک عصمت اللہ ایک پانچ فٹ چوڑے کھلے نالے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان کی دکان کے سامنے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کئی خواتین، موٹرسائیکل سوار اور رکشہ ڈرائیور اس میں گر چکے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارے کاروبار کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے، کیونکہ گاہک بدبو اور سیوریج میں پھیلنے والے مچھروں کے ڈر سے یہاں آنے سے گریز کرتے ہیں۔‘ صفائی کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے سڑک کے ساتھ چلنے والی تین سیوریج لائنیں ایک مستقل عوامی مصیبت بن چکی ہیں۔

کوئٹہ کا مرکزی سول ہسپتال ریڈ زون اور کمشنر کے دفتر سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے، لیکن اس کے ارد گرد کے فٹ پاتھ، خاص طور پر تین کونوں پر، کھلے نالوں، کھڈوں اور دکانداروں کی تجاوزات سے بھرے ہوئے ہیں، جو پیدل چلنے والوں کے لیے خطرناک اور ناقابل استعمال ہو چکے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے ایک گہرا اور بغیر ڈھکن والا نالہ شہر کے بنیادی اداروں تک میں ٹوٹے پھوٹے شہری ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔

بلوچستان کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل احمد خان نے اعتراف کیاکہ ’کوئٹہ کا سیوریج انفراسٹرکچر انتہائی خستہ حال ہے، اور اس کی بنیادی وجہ ناقص ڈیزائن ہے۔“ یہی اتھارٹی صفا کوئٹہ منصوبے کی بھی نگرانی کرتی ہے، جو شہر کی صفائی اور فضلہ مینجمنٹ کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمزور سیوریج ڈھانچے کے ساتھ ساتھ پلاسٹک بیگ کے بے تحاشہ استعمال نے پورے شہر میں نالوں کی بندش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان خامیوں کے باوجود ڈاکٹر فیصل احمد خان کا کہنا ہے کہ کچرا اٹھانے والے ٹھیکیدار نے نالوں کی صفائی اور سیوریج کی دیکھ بھال میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی ہے، اور اس کی مثال حالیہ دو بارشوں کے دوران نالوں کے محدود اوور فلو ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ’یہ خدمات بے عیب تو نہیں، لیکن مشکل زمینی حقائق اور شہری رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیوریج نظام کو کسی حد تک مناسب طریقے سے برقرار رکھا گیا ہے۔‘ ان کے مطابق شہر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں تقریباً 128 کچرا پھینکنے کی جگہوں کو ختم کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹرفیصل احمد خان نے دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ کئی کچرا پھینکنے کے مقامات، جیسے کلی اسماعیل، جناح ٹاؤن، شہباز ٹاؤن، اور زرغون روڈ اور جناح روڈ کے بعض حصے، دراصل کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے کنٹرول میں ہیں۔

دریا میں ٹھوس کچرے کا اخراج

کنٹونمنٹ کے علاقے سے نکلنے والا شہر کا نالہ کوئٹہ کے کئی اہم حصوں سے گزرتا ہے، جن میں سمونگلی روڈ، خروٹ آباد، بولان میڈیکل کمپلیکس کے قریب بریوری روڈ، اور کرانی روڈ شامل ہیں، اور آخرکار سریاب روڈ سے جا ملتا ہے۔ اپنی فطری آبی گزرگاہ کا کردار ادا کرنے کی بجائے یہ نالہ اب ٹھوس اور مائع کچرے کے بڑے ڈمپنگ گراؤنڈ میں بدل چکا ہے۔

سمونگلی روڈ کے ساتھ ساتھ یہ نالہ کئی اہم اداروں کے قریب سے گزرتا ہے، جن میں کوئٹہ کا کینر کینسر ہسپتال (بلوچستان کا واحد کینسر ہسپتال)، متعدد اسکول، مساجد، رہائشی علاقے، ایک اولڈ ایج ہوم، بازار اور حتیٰ کہ محکمہ ماحولیات کا دفتر بھی شامل ہے۔ تاہم اب یہ کسی دریا کی مانند نہیں لگتا، اس کے کنارے اب ایک کھلی کچرا کنڈی کا منظر پیش کرتے ہیں۔

لیہری گیٹ کے پرانے رہائشی آصف علی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ علاقہ پوش کہلاتا ہے لیکن اردگرد دیکھیں تو حالات انتہائی خراب ہیں۔خواتین، بچے، بزرگ، طلبہ، حتیٰ کہ قریبی اسپتال جانے والے مریض بھی خطرے میں ہیں۔ گندگی، بدبو اور یہ سب کچھ ہونے کی ایسے محلے سے توقع نہیں کی جا سکتی۔‘


پانی کے بحران کے دہانے پر

صوبائی دارالحکومت میں سیوریج لائنیں اور گٹر ابل رہے ہیں، زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح میں 2010 میں 300 فٹ سے 2021 تک 600 فٹ تک، یعنی اوسطاً ہر سال 30 فٹ کمی ہوئی ہے۔ 2021 کے بعد سے کوئی باضابطہ گراؤنڈ واٹر سروے نہیں ہوا، اس لیے موجودہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ یہ کمی بدستور جاری ہے یا مزید تیز ہو چکی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ شہر میں پینے کے صاف پانی کی قلت بڑھتی گئی ہے۔ ہدا روڈ کے رہائشی دانش مینگل نے کہاکہ ’پانی کی سپلائی نہ تو مقدار میں کافی ہے نہ ہی پینے کے قابل، اور یہ ہماری بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتی۔ اسی لیے ہمیں پانی کے ٹینکر خود منگوانے پڑتے ہیں۔‘

پروفیسر ثناء اللہ پنیزئی نے نشاندہی کی کہ’شہر کی یومیہ ضرورت 6 کروڑ 10 لاکھ گیلن ہے جبکہ رسد بمشکل 3 کروڑ 50 لاکھ گیلن تک پہنچتی ہے۔ 500 سے زائد ٹیوب ویل پانی نکال رہے ہیں، جو زیادہ تر پینے کے استعمال کے لیے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ نکاسی اور قدرتی ری چارج کے متاثر ہونے کے باعث زیر زمین پانی کی سطح 360 میٹر سے بھی نیچے جا پہنچی ہے۔‘

شہر کے کئی حصے، جیسے کرانی روڈ، قمبرانی روڈ کے کچھ حصے، بشیر چوک اور سیٹلائٹ ٹاؤن شدید قلت کا شکار ہیں۔ بلوچ نیشنل پارٹی (مینگل)سے تعلق رکھنے والے کونسلر نعمت مظہر نے بتایاکہ’ہمارے علاقے میں 15 سے 20 پرائیویٹ ٹیوب ویل ہیں۔ ابتدا میں ان کے پرائیویٹ کنکشنز کی قیمت 40 سے 50 ہزار روپے تھی، لیکن مقامی انتظامیہ اور کمیونٹی کی مداخلت کے بعد یہ قیمت تقریباً 2 ہزار روپے تک کم ہوگئی۔‘

نعمت مظہر نے مزید کہا کہ ’ہزارہ ٹاؤن میں پانی کی فراہمی اور نرخوں پر کوئی ضابطہ نہیں، سب کچھ نام نہاد واٹر مافیا کے رحم و کرم پر ہے۔ گرمیوں میں وہ مزید مسائل پیدا کرتے ہیں، پانی بند کر دیتے ہیں اور بہانہ کرتے ہیں کہ بجلی کا بل ادا نہ کرنے پر کنکشن کاٹ دیا گیا ہے۔ اس مجبوری میں لوگ پانی کے ٹینکر خریدتے ہیں، جن کی قیمت 4 ہزار سے 8 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے، اور یہ سب ان کے من مانی فیصلوں پر منحصر ہے۔‘

ابتدائی طور پر حکومت نے صوبائی دارالحکومت کو کچھی کینال کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن بعد میں اس توجہ کو ڈیمز کی تعمیر پر مرکوز کر دیا گیا تاکہ دیرپا حل نکالا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت 2017 میں منگی ڈیم پر کام شروع ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں اس پر 86 کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے مزید 100 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کے وسائل پر بڑھتی تشویش کے باوجود صوبائی حکومت نے کوئٹہ میں نئے ٹیوب ویل منصوبوں پر بھی کروڑوں روپے مختص کیے۔ دریں اثناء گزشتہ برس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اصغر خان ترین کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں منگی ڈیم کی تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے۔ اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ اب تک 18 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود ڈیم نامکمل ہے۔


بوسیدہ سڑکیں اور رکاوٹیں

کوئٹہ کے جنوبی داخلی راستے پرایک پل کئی ماہ سے نامکمل کھڑا ہے، جہاں بلوچستان کی گرین بیلٹ کراچی اور سندھ کو شہر سے غنی خان چوک کے ذریعے جوڑتی ہے۔ رکی ہوئی تعمیر نہ صرف قریب کے دکانداروں کے لیے گرد و غبار اور آلودگی پیدا کر رہی ہے بلکہ شہر کے ایک اہم ترین جنکشن پر ٹریفک کی شدید رکاوٹ بھی بنتی ہے۔

پل کے قریب پکوڑے کی دکان چلانے والے گل میر خان نے جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گاہک کھو رہے ہیں۔گردوغبار سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور جب بارش آتی ہے تو سارا علاقہ ندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔‘

گل میر خان کے مطابق قریب کی کئی دکانیں سخت حالات کے باعث پہلے ہی بند ہو چکی ہیں۔ مقامی ٹرانسپورٹر ریاض لیہری نے بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم روزانہ یہاں تقریباً دو گھنٹے پھنسے رہتے ہیں۔پل دو سال سے نامکمل پڑا ہے، اور موجودہ سرگرمی زیادہ تر نمائشی ہے، عملی نہیں۔‘

شہری ٹرانسپورٹ کے بارے میں سوال کے جواب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ثناء اللہ پنیزئی نے کہاکہ ’کوئٹہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں ہے، سڑکیں تنگ اور بھری ہوئی ہیں۔ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ٹریفک کے مسائل مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔ گرین بس سروس ایک اچھی کوشش ہے۔ تاہم یہ شہر کی روزمرہ نقل و حمل اور عوامی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری نہیں کرتی۔‘

نعمت مظہر کے مطابق دوسری جگہوں پر بھی سڑکوں کا انفراسٹرکچر خستہ حال ہے۔ ہزارہ ٹاؤن کی مرکزی گزرگاہ کرانی روڈگڑھوں سے بھری ہوئی ہے۔ پہلے سے قریبی نالے کی نکاسی سے متاثر ہونے والی سمونگلی روڈ پرسڑک کی توسیع کا کام تاخیر کا شکار ہے۔ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر رفیق بلوچ کے مطابق یہ منصوبہ اب اگلے دو ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔


کیا شہر اپنی شان کھو چکا ہے؟

کوئٹہ ایک ایسی وادی ہے جہاں کبھی برف باری ہوتی تھی، ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں اور بلند و بالا پہاڑ، چلتن، تکاتو، زرغون اور کوہ مردار، پہرہ دیتے تھے۔ تاہم آج یہ ایک کنکریٹ کے شہر میں بدل چکا ہے۔ وہ سرسبز و شاداب ماحول جو کبھی اس کے کناروں کو گھیرے رہتا تھا، مسلسل شہری پھیلاؤ نے ختم کر دیا ہے۔ حکومتی غفلت، ناقص شہری منصوبہ بندی اور عوامی شعور کی کمی نے شہر کو سبزہ زاروں، سنیما گھروں اور تھیٹروں، عوامی بیت الخلاء اور میٹھے پانی کی نہروں سے محروم کر دیا ہے۔

مری آباد روڈ کے رہائشی نسیم جاوید نے اپنے طالب علمی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ ’سریاب روڈ کے دونوں اطراف درخت اور گھنے پودے ہوا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم کالج بس کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرتے صرف اس لیے کہ تازہ ہوا کا احساس کر سکیں۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ’ہم اکثر اپنے بلوچ دوستوں کے ساتھ کچی باغ جایا کرتے تھے تاکہ تازہ پھل اور لسی سے لطف اندوز ہوں۔‘

انہوں نے شہر کی شمولیت اور دلکشی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کبھی ریڈ زون کے قریب موجود درخت کوئلوں، میناؤں، بلبلوں، تیتر اور چڑیوں کی آوازوں سے گونجتے تھے۔ اب فضا ٹریفک کے شور اور آلودگی سے بھری ہوئی ہے۔

مری آباد میں یہی شہر کا نالہ صاف اور بہتر حالت میں دکھائی دیتا ہے، جس کا سہرا ہزارہ برادری کی اس عادت کو جاتا ہے کہ وہ کچرا پھینکنے سے گریز کرتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہیں۔ یہ شہری ذمہ داری کا احساس کوئٹہ کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف ہے، جہاں سرکاری غفلت اور عوامی بے حسی کے باعث کچرے کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔

کیپٹن مبارک علی ہزارہ نے بتایا کہ ’یہ نالہ کبھی اچھی طرح سنبھالا جاتا تھا۔ اس کی اینٹوں کی استر صاف ستھری ہوتی تھی، اور گندے پانی کا بہاؤ بغیر رکاوٹ کے جاری رہتا تھا۔افسوس کی بات ہے کہ شہر نے اپنی بیشتر نوآبادیاتی دور کی عمارتیں کھو دی ہیں، جو کبھی اس کی دلکشی کا حصہ تھیں۔‘ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اگرچہ اب شہر کی انتظامیہ اور سیاسی قیادت مقامی ہے، نوآبادیاتی نہیں، لیکن پھر بھی وہ اس کی ذمہ داری لینے میں ناکام ہیں۔

جب کوئٹہ میں شہری رویوں کے بارے میں ڈاکٹر فیصل احمد خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ’پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح ہی کمزور ہیں۔‘ شہر بھر میں سیکڑوں کچرے کے ڈبے رکھنے کے باوجود اکثر ان کے اردگرد ہی کچرا جمع ہو جاتا ہے، اور کچرے کے ڈبوں کے پہیے ایک ہفتے میں ہی چوری ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے کارکنوں پر حملے بھی کیے گئے ہیں، اور گھروں سے سروس فیس وصول کرنے کی کوششیں اکثر رد کر دی جاتی ہیں۔

ان مسائل کے پیش نظر شہر اپنے ہی کچرے کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ ایک ایسا بوجھ جسے اس کے منتظمین اور شہریوں، دونوں کی بے حسی مزید گہرا کر رہی ہے۔


(بشکریہ: ’ڈان‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں