لاہور(جدوجہد رپورٹ)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع زیارت میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد جاری احتجاجی دھرنا اہم پیش رفت کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ 10 جولائی کو حکومت بلوچستان اور سانحہ ہنہ اوڑک کے متاثرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
اتوار 5 جولائی 2026ء کی شب کوئٹہ کے معروف سیاحتی علاقے ہنہ اوڑک کے نواحی گاؤں کلی ببری میں مسلح افراد نے مقامی آبادی پر حملہ کیا۔ مقامی ذرائع حملہ آوروں کو مبینہ طور پر کالعدم قرار دی گئی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک قرار دے رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
علاقہ مکینوں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ جھڑپ کے دوران نقیب اللہ، اشرف خان، رفیق خان اور گلریز خان موقع پر جان سے گئے، جبکہ شدید زخمی ہونے والے یونس خان بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس کے علاوہ 6 افراد زخمی ہوئے، جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
مقامی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق حملہ آور پسپائی کے دوران 11 مقامی افراد کو اغوا کر کے قریبی پہاڑی علاقے کی جانب لے گئے، جن میں سے ایک شخص بازیاب ہو چکا ہے، جبکہ باقی 10 افراد کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔
واقعے کے خلاف مقتولین کے لواحقین، مقامی شہریوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے کوئٹہ کے سول ہسپتال کے سرد خانے میں شہداء کی میتیں رکھوا کر ائیرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین نے اعلان کیا تھا کہ مطالبات کی منظوری تک نہ دھرنا ختم کیا جائے گا اور نہ ہی شہداء کی تدفین کی جائے گی۔
دوسری جانب ضلع زیارت کے مانگی ڈیم کے علاقے میں قائم پولیس چوکی پر بھی مسلح افراد نے حملہ کیا، جس میں 9 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ 21 اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں 8 جولائی کو ان تمام مغوی اہلکاروں کی لاشیں ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئیں، جس کے بعد زیارت میں شروع ہونے والا احتجاج بھی کوئٹہ منتقل ہو گیا اور دونوں واقعات کے متاثرین کا مشترکہ دھرنا ایک بڑے احتجاجی مرکز کی شکل اختیار کر گیا۔
اس دوران 10 جولائی کو حکومت بلوچستان اور سانحہ ہنہ اوڑک کے متاثرین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا، جو کامیاب رہے۔ مذاکرات کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان اہم نکات پر اتفاق رائے ہوا، جبکہ حکومت بلوچستان نے متاثرہ خاندانوں کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکاء نے احتجاج ختم کرنے اور بند شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا۔
مذاکرات کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر سید صادق آغا، گورنر ہاؤس کے سابق ترجمان نذیر خان اچکزئی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور کاکڑ، ڈی آئی جی بلوچستان پولیس، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے فیصل طارق اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
مذاکرات کے بعد حکومتی نمائندوں نے متاثرہ خاندانوں کے مطالبات پر عملدرآمد، مغوی افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ دھرنے کے شرکاء نے معاہدے کے تحت اپنا احتجاج ختم کر کے شہداء کی تدفین کا فیصلہ کیا۔