راولا کوٹ (نامہ نگار) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنتس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) نے گذشتہ روز جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں کشمیر کے عوام مسلسل کریک ڈاؤن، چھاپوں، گرفتاریوں اور دھونس و دھمکی کے ذریعے خوف پھیلانے کی پالیسی کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق، گزشتہ دو دنوں میں اس جبر میں مزید شدت آئی ہے۔ کل تتہ پانی کے واقعات کے بعد آج صبح پوٹھی مکوالاں اور شجاع آباد میں پولیس نے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کی۔ اس ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں دو نوجوانوں کی شہادت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہیں۔ عوامی تحریک کو دبانے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے مقامی شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارنے اور توڑ پھوڑ بھی کی جا رہی ہے۔
جے کے این ایس ایف اس ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا:”ہم پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے فوری خاتمے، چھاپوں اور دھونس و دھمکی کی اس مہم کو بند کرنے، اور شوکت نواز میر سمیت تمام گرفتار یا جبری طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔