روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

بائیں بازو کے معروف کارکن ناصر اقبال وفات پا گئے - روزنامہ جدوجہد

بائیں بازو کے معروف کارکن ناصر اقبال وفات پا گئے - روزنامہ جدوجہد

فاروق سلہریا

بائیں بازو کے معروف کارکن ناصر اقبال 28اپریل کو لاہور میں وفات پا گئے۔ ان کی نماز جنازہ 30 اپریل کو ان کے آبائی شہر جہلم میں ادا کی گئی۔ اپنی جواں سالہ بیٹی، کم عمر بیٹے اور اہلیہ کے علاوہ، وہ سینکڑوں دوستوں اور عزیزوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔

ناصر اقبال لاہور کے بائیں بازو کے حلقوں میں جانا پہچانا نام تھے۔ وہ90کی دہائی سے”فیض امن میلہ“ منعقد کرنے والے منتظمین میں شامل تھے۔ صحافتی حلقوں میں بھی ان کی دوستیاں تھیں۔اکثر پریس کلب میں بھی نظر آتے تھے۔

وہ 90کی دہائی کے اوئل میں لاہور تعلیم کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔ وہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا آخری امتحان تو پاس نہ کر سکے لیکن کئی سال تک ایک سی اے فرم میں ملازمت کرتے رہے۔

بعد ازاں،وہ ”کل وقتی“انقلاب کے راستے پر چل پڑے۔ عمر بھر شدید مالی مجبوریوں کا تو شکار رہے دیگر بہت سے مسائل بھی ان کی روز مرہ زندگی کا حصہ تھے۔

کتابیں پڑھنے اور مباحث میں الجھنے کے لیے مشہور تھے۔ اپنے غصے والے مزاج کی وجہ سے بھی جانے جاتے تھے مگر ہم جیسے دوست جو انہیں 90کی دہائی سے جانتے ہیں، ان کے ذہن میں ایک مختلف ناصر اقبال کی تصویر بھی موجود ہے: ٹائی،کوٹ،اور استری کی ہوئی پتلون۔۔۔آنکھوں پر چشمہ۔

جب میں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے مکمل کر لیا تو ہر غیر لاہوری کی طرح یہ مسئلہ درپیش تھا کہ رہنا کہاں ہے۔ ناصر اقبال ان دنوں جوہر ٹاؤن کے ایک بڑے سے گھر میں رہتے تھے۔ میں اور طارق اقبال ان کے گھر منتقل ہو گئے۔

میں اور طارق ابھی بستر میں پڑے ہوتے کہ ناصر اقبال تیار ہو کر صبح صبح اپنے دفتر روانہ ہو جاتے۔ان کی راونگی کا اندازہ ان کے موٹر سائیکل سٹارٹ ہونے سے ہوتا۔ شام کے وقت وہ مال روڈ پر کسی جگہ ہم سے ملتے اور ہم سب دوست شعیب بھٹی کی قیادت میں کسی ڈھابے یا ریستوران کا رخ کرتے۔ بعض اوقات،کھانا کھانے پریس کلب چلے جاتے۔ یہیں سے ان کی صحافیوں سے دوستیاں بھی شروع ہوئیں۔

جب روزنامہ ’جدوجہد‘کا آغاز ہوا تو بعض اوقات، کسی طویل بحث کے اختتام پر میری اس درخواست پر عمل کرتے کہ”اس بحث کو مضمون کی شکل میں تحریر کر دیں“۔ اگر آپ روزنامہ ’جدوجہد‘کے سرچ انجن میں ان کے مضامین تلاش کریں گے تو ان کے چند قسط وار مضامین ملیں گے۔

لکھنے کے معاملے میں سست واقع ہوئے تھے لیکن جب لکھتے تو عام طور پر تین چار اقساط پر مبنی مضمون لکھتے۔ ان کی تحریروں سے اندازہ ہو گا کہ جن مضامین میں وہ دلچسپی لیتے، اس پر ان کی گہری دسترس تھی۔ تاریخ اور فلسفے سے گہرا لگاؤتھا۔ علی عباس جلالپوری ان کے پسندیدہ مصنفین میں سے تھے۔

ان کی موت تو افسوسناک ہے ہی، ان کی زندگی بھی ایک ٹریجڈی بن چکی تھی۔ اس المیے کی ایک بھاری ذمہ داری تو اس ریاست اور سماج پر عائد ہوتی ہے،جہاں ناصر اقبال جیسے با صلاحیت افراد بالکل مس فٹ ہیں،لیکن بائیں بازو کے گروہوں کو بھی تو سوچ بچار کی،کسی حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ ایسے کارکن جو عمر بھر ایک نظریے کی خاطر زندگی گزار دیتے ہیں، ان کی زندگی المیہ ہونی چاہیے،نہ موت اتنی بڑی بے بسی کی علامت۔

ڈئیر ناصر! ہم صرف سوگوار ہی نہیں، شرمندہ بھی ہیں!

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں