اداریہ
سات اور آٹھ جون کی درمیانی رات راولا کوٹ کے باسیوں کے لئے بہت طویل، خوں آشام اور المناک تھی۔ سی ایم ایچ (شیخ زید بن سلطان ہسپتال) کے باہر دھرنے میں بیٹھے مظاہرین پر ریاستی افواج نے گولیاں برسا دیں۔
شہر میں موجود ،’’جدوجہد‘‘ـ ذرائع کے محتاط اندازے کے مطابق کم از کم 13 افراد اس آپریشن میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ درجنوں زخمی ہیں۔پیر کے روز شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
راولا کوٹ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ترقی پسند سیاست کا دل ہے۔اس لئے ریاست کی نظر بھی اس شہر پر تھی۔ شہر میں گذشتہ ہفتے کے دن سے (6 جون) سے حالات کشیدہ تھے۔
ہفتے کے روز ایک نوجوان کشمیری سیاسی کارکن گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔ ریاست کی جانب سے یہ ابتدائی وارننگ تھی کہ اب کی بار لانگ مارچ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے، 9 جون کو جموں کشمیر ایکشن کمیٹی نے جموں کشمیر مہاجرین، مقیم پاکستان، کے لئے جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 12 نشستوں کے خاتمے کے لئے کال دے رکھی تھی۔ تا دمِ تحریر (8 جون کی شام) کہنا مشکل ہے کہ یہ مارچ شروع ہو پائے گا یا نہیں البتہٰ راولا کوٹ میں جس طرح خون خرابہ کیا گیا ہے، اس سے ریاست کی نیت بارے کسی شک کی گنجائش نہیں ہو نی چاہئے۔ ریاست نے اس بار اپنی طرف سے طے کر رکھا ہے کہ وہ لانگ مارچ کی اجازت نہیں دے گی۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔
اول، ان بارہ مخصوص نشستوں کی مدد سے اسلام آباد مظفر آباد میں حکومت کا فیصلہ کرتا ہے۔ ریاست بضد ہے کہ اپنا یہ نو آبادیاتی طرز کا قبضہ ہر قیمت پر برقرار رکھے گی۔وہ یہ نشستیں ختم نہیں ہونے دے گی چاہے گولی چلانی پڑے۔
دوم، گذشتہ چار سال سے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جموں کشمیر ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اس خطے کے لوگوں نے، ایک منظم عوامی سماجی تحریک کی شکل میں، کم از کم دو مرتبہ ایک پر امن انتفادہ کی شکل اختیار کی۔ دو کامیاب لانگ مارچ کئے جن کے نتیجے میں اپنے مطالبات منوائے۔ نہ صرف بجلی کے صارفین کو زبردست فائدہ پہنچا بلکہ آٹے پر سبسڈی کا فائدہ بھی گھر گھر پہنچا۔ ریاست اس پر امن انتفادہ سٹائل عوامی سماجی سیاست کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے۔ جموں کشمیر نے جو مثال قائم کی ہے، اس کا ـ’’برا اثر‘‘ پڑوس میں پنجاب کے باسیوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ ماضی قریب میں ایسا ریاستی جبر پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں دیکھنے میں نہیں ملا۔ اب کی بار ریاست نے بندوق کا سہارا کیوں لیا؟
آخری بار 1950ء کی دہائی میں،پونچھ میں ہی ایک گوریلا جدوجہد کو دبانے کے لئے پاکستانی ریاست نے بندوق کے ذریعے احتجاجی تحریک کو کچلا تھا۔ لیکن عمومی طور پر اسلام آباد نے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں (عام طور پر ترقی پسند)سیاسی کارکنوں کو گاہے بگاہے تشدد کا نشانہ تو ضرور بنایا مگر بڑے پیمانے پر بندوق کا استعمال نہیں کیا جیسا کہ اب راولا کوٹ میں سامنے آیا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ ایک طرف تو جموں کشمیر کی گنجلک صورتحال تھی۔ اگر پاکستان بھی اپنے زیر انتظام جموں کشمیر میں وہی کچھ کرے گا جو دلی اپنے زیر انتظام جموں کشمیر میں کرتا ہے تو اسلام آباد کا ’’کشمیر دوست‘‘ بیانیہ بے اثر ہو جاتا ہے۔ دوم، پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں قوم پرست اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے درست طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ نہ تو بندوق اٹھائیں گے نہ کسی بیرونی قوت سے مدد لیں گے۔
یہ صورتحال تو آٹھ جون تک بھی موجود تھی، پھر ریاست نے راولا کوٹ میں گولیاں کیوں چلائیں؟
اس کی دو فوری وجوہات تو اوپر بیان کی گئی ہیں۔ ان دو وجوہات کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں کی داخلی صورتحال سے ہے۔ موجودہ جبر و تشددکی ساخیاتی (سٹرکچرل)وجہ ریاست پاکستان کے اپنے اندر آنے والی تبدیلی ہے ۔ اس تبدیلی کا سیاسی اظہار ہائبرڈرژیم کی شکل میں ہو رہا ہے۔ اس رژیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر سیاسی اختلاف سے بذریعہ تشدد نپٹا جائے۔ پی ٹی آئی اور تحریک لبیک جیسے لے پالک پراجیکٹس سے لے کر بلوچ یکجہتی کونسل یا پختون قومی موومنٹ (پی ٹی ایم ) جیسی حقیقی مزاحمتی تحریکوں کو بزور بازو دیوار سے لگایا گیا ہے۔
اسی طرح، راولا کوٹ میں خون خرابہ ( جو پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے باقی ضلعوں میں بھی پھیل سکتا ہے) در اصل پاکستانی ریاست کی نظریاتی و انتظامی نالائقی کا بھی ایک اور ثبوت ہے۔ تصوراتی طور پر یہ ریاست اس قدر دیوالیہ ہو چکی ہے کہ جموں کشمیر میں ابھرنے والی حالیہ انتفادہ طرز کی تحریکوں سے معاملات کرنے کے لئے اسے کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔
بلوچستان میں بی ایل اے کے بہانے، خیبر پختونخواہ میں ٹی ٹی پی کے بہانے یہ ریاست تشدد کا کوئی جواز تلاش کر لیتی ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں انتفادہ کے پر امن طریقہ کار، جس میں مظفر آباد کی جانب چاروں طرف سے لانگ مارچ ایک اہم حکمت عملی ہے، نے اس ریاست کے اوسان خطا کر دئیے ہیں۔ ریاست نے صرف راولا کوٹ میں خون خرابہ نہیں کیا، اپنے بیانئے (جو بہر حال منافقت پر مبنی تھا) پر بھی چھری چلا دی ہے۔
عین ممکن ہے ریاست روایتی جبر کے ذریعے 9 جون کے لانگ مارچ کو ناکام بنا دے مگر موجودہ المیے کے نتیجے میں پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شناخت کی سیاست طاقتور ہو گی۔ ترقی پسند اور سوشلسٹ قوتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ حق خود ارادیت کے مطالبے کے ساتھ ساتھ خطے کے وسائل پر خطے کے باشندوں کے جمہوری حق کی بات جاری رکھیں۔ موجودہ جدوجہد کو ریاستی جبر سے دبانا آسان نہ ہو گا۔ترقی پسندوں کو شدید جبر کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے مگر ان کے لئے یہ موقع بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے سماج میں ایک متبادل نظریاتی و تنظیمی قوت بن کر ابھر سکیں۔
راولا کوٹ میں جان سے ہاتھ دھونے والے اور زخمی ہونے والے سیاسی کارکنوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے،فوری طور پر ہمارا مطالبہ ہونا چاہئے:
بے گناہ شہریوں پر گولیاں چلانے کی تحقیات کے لئے شہری کمیشن بنایا جائے اور ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ہر قسم کی شہری و جمہوری آزادیاں بحال کی جائیں۔
انٹر نیٹ بلیک آوٹ فوری طور پر ختم کیا جائے۔
راولا کوٹ سے کرفیو ختم کیا جائے۔
۹ جون کو پر امن لانگ مارچ کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
جموں کشمیر ایکشن کمیٹی پر ناجائز و بلا جواز پابندی ختم کی جائے۔