لاہور(جدوجہد رپورٹ)حکومت پاکستان جہاں ایک جانب دسمبر 2025 میں ترسیلات زر کے ریکارڈ 3.59ارب ڈالر تک پہنچنے پر جشن منا رہی ہے، وہیں دوسری جانب ملکی معیشت کے اندر ایک تشویشناک تصویر ابھر رہی ہے۔ برآمدات کا مسلسل زوال ملک کی اس خطرناک حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ معیشت، پیداواری سرگرمیوں کی بجائے بیرون ملک مقیم محنت کشوں کی کمائی پر غیرمعمولی حد تک انحصار کرتی جا رہی ہے۔
’ٹربیون‘ کے مطابق تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دسمبر میں ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 16.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اسی ماہ برآمدات 20.4 فیصد کمی کے ساتھ صرف 2.32 ارب ڈالر تک سمٹ گئیں۔ یہ واضح فرق صنعتی اور معاشی ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
معاشی و تجزیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا معاشی ماڈل انتہائی غیرمتوازن ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ملکی معیشت بڑھتی ہوئی تعداد میں بیرون ملک جانے والے مزدوروں کی کمائی پر چل رہی ہے، جبکہ اندرون ملک صنعتی بنیاد مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔یہ پائیدار ترقی نہیں بلکہ ’انتظام شدہ زوال‘ہے جو استحکام کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔
اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 35 فیصد بڑھ کر 19.20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس دوران برآمدات میں 9 فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل شعبہ، جو پاکستان کی برآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ ہے، اپنی عالمی مسابقت کھوتا جا رہا ہے۔
ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کا بنیادی سہارا بن چکی ہیں۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر بھیجے، جو گزشتہ برس کے 30.3 ارب ڈالر سے نمایاں اضافہ ہے۔ ان رقوم کی بدولت زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2025 کے آخر تک بڑھ کر 21.01ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو مارچ 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
لاہورچیمبر آف کامرس کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر مدثر مسعود چوہدری نے اس صورتحال میں پوشیدہ تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ”ملک سے روزگار کی تلاش میں جانے والے غریب مزدوروں کی رقم امیر طبقے کی بیرونی خریداری کی طاقت برقرار رکھنے پر خرچ کی جا رہی ہے۔ یہ طریقہ ترک کرنا ہوگا۔ لگژری درآمدات پر زیادہ سے زیادہ ڈیوٹیز عائد کی جائیں، کیونکہ یہ رویہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو کمزور کرتا ہے۔“
اگرچہ حکومت نے برآمدات میں بہتری کی ضرورت تسلیم کی ہے، لیکن عملی اقدامات تاحال نظر نہیں آتے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک توانائی کی بلند قیمتیں، پرانا صنعتی ڈھانچہ اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، پاکستان کا برآمدی شعبہ مقابلے کی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کو کھپت پر مبنی معیشت سے نکل کر پیداواری اور برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانا ہوگا، جو مستقل بنیادوں پر زرمبادلہ کما سکے۔ اس کے لیے ایسی پالیسیاں ضروری ہیں جو پیداواری سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں، صنعت کو جدید بنائیں اور برآمد کنندگان کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔
مدثر مسعود چوہدری کے مطابق ”صحیح پالیسیاں ہوں تو رجحانات پلٹ سکتے ہیں، لیکن وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ جتنا زیادہ پاکستان ساختی اصلاحات میں تاخیر کرے گا، اتنا ہی گہرا وہ اس انحصاری جال میں پھنس جائے گا، جہاں بیرون ملک مزدور ملک کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے جبکہ پیداواری شعبے سکڑتے جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان صرف ترسیلات زر پر کب تک چل سکتا ہے،سوال یہ ہے کہ یہ ماڈل اپنے تضادات کے بوجھ تلے کب ٹوٹ جائے گا۔“