روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جنگ بندی کے بعد 342 ہلاکتیں، غزہ کی تعمیر نو پر 70 ارب ڈالر سے زائد لاگت کا تخمینہ

جنگ بندی کے بعد 342 ہلاکتیں، غزہ کی تعمیر نو پر 70 ارب ڈالر سے زائد لاگت کا تخمینہ

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ نے خطے کو ایک مکمل تباہی میں دھکیل دیا ہے، جس کی بحالی پر آئندہ چند دہائیوں میں 70 ارب ڈالر سے زائد کی لاگت آئے گی۔ تازہ ترین یو این رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2024 کے دوران غزہ کی معیشت 87 فیصد تک سکڑ گئی، جس کے نتیجے میں فی کس مجموعی قومی پیداوار صرف 161 ڈالر رہ گئی ہے،جو دنیا میں کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق رپورٹ میں اس پس منظر کا ذکر بھی شامل ہے کہ اسرائیل مسلسل امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ 10 اکتوبر سے شروع ہونے والے اس عبوری جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک کم از کم 342 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

اسی دوران جرمنی کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ڈیموگرافک ریسرچ کی ایک نئی تحقیق نے تخمینہ لگایا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی اصل تعداد 1لاکھ سے زائد ہو سکتی ہے،جو کہ فلسطینی وزارتِ صحت کی جانب سے بتائی گئی 69ہزار733 ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تحقیق کے مطابق 2023 میں غزہ میں اوسط عمر میں 44 فیصد اور 2024 میں 47 فیصد کمی واقع ہوئی،جو بالترتیب 34.4 اور 36.4 سال کی متوقع عمر میں کمی کے برابر ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ اسے غزہ میں حماس کی جانب سے انسانی باقیات کی ایک اور کھیپ موصول ہوئی ہے، جن کی شناخت یرغمال بنائے گئے ڈرور اور کے طور پر کر لی گئی ہے۔

غزہ میں امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں اور سرد موسم نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تقریباً 20 لاکھ فلسطینی مکمل طور پر بے گھر ہیں اور خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں سیوریج کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ لوگ اپنے خیموں کے قریب عارضی گڑھے کھود کر بیت الخلا بنا رہے ہیں، جو اب مسلسل بارشوں سے بھر کر اُبل رہے ہیں۔

ایک بے گھر خاتون نورہ کریرہ نے اپنی صورتحال بتاتے ہوئے کہا’’خیمے کے اندر بچے پھسل کر گر رہے ہیں۔ بیماریاں ہر طرف ہیں۔ یہ دیکھیں، ہم بیمار ہو رہے ہیں۔ میں برتن میں پانی جمع کر رہی ہوں تاکہ بچے بیمار نہ ہوں۔ میں اپنے خیمے سے پانی نکال رہی ہوں تاکہ میرے بچے بیمار نہ پڑیں۔ یہ سب بیماریاں اور بیکٹیریا پھیلاتا ہے۔ زمین میں گڑھا دیکھیں، یہ دیکھیں کہ بچے کیسے اس میں گر کر پانی میں دھنس جاتے ہیں۔‘‘

غزہ کا انسانی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ تعمیر نو اور بحالی کا راستہ پہلے سے بھی زیادہ دشوار دکھائی دے رہا ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں