روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

بنگلہ دیشی طلبہ نے ’این سی پی‘ کے نام سے سیاسی جماعت بنا لی، ناہید اسلام کنونیئر نامزد

بنگلہ دیشی طلبہ  نے ’این سی پی‘ کے نام سے سیاسی جماعت بنا لی، ناہید اسلام کنونیئر نامزد

لاہور(جدوجہد رپورٹ) گزشتہ سال طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والے بنگلہ دیشی طلبہ نے آئندہ سال متوقع پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق جمعہ کے روز پارلیمان کی عمارت سے ملحق مانک میا ایونیو پر ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے نئی پارٹی’نیشنل سٹیزنز پارٹی(این سی پی) کا اعلان کیا۔ رہنماؤں نے خطاب میں اصرار کیا کہ وہ تقسیم پر قومی اتحاد، بدعنوانی پر شفافیت اور گڈگورننس اور ایک’سیکنڈ ریپبلک‘ کی تعمیر کے لیے آزاد خارجہ پالیسی پرعمل کریں گے۔

جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اسماعیل حسین کی بہن لیما اختر نے اعلان کیا کہ ناہید اسلام پارٹی کے نئے کنوینر ہونگے۔ ناہید اسلام طلبہ بغاوت کے26سالہ مقبول رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے، اب وہ نئی پارٹی کی قیادت کریں گے۔انہوں نے منگل کو عبوری حکومت سے استعفیٰ دے کر نئی پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ ابتدائی طور پر پارٹی کی 150رکنی مرکزی کمیٹی نامزد کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز سٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن(ایس اے ڈی) کے سابق رہنماؤں نے ایک نیوز کانفرنس میں نئی طلبہ تنظیم’گناتانترک چھاترا سنساد‘، یا ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس کونسل(ڈی ایس سی) کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس دوران ایس اے ڈی کے دو دھڑوں کے درمیان ایک مختصر جھگڑا ہواتھا۔

ڈی ایس سی کے رہنماؤں کے مطابق ایس اے ڈی کی تشکیل جولائی کی تحریک کو منظم کرنے کے لیے کی گئی تھی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے طلبہ ونگ سے وابستہ طلبہ کی شمولیت تھی، جو اس کے بعد اپنی اپنی تنظیموں میں واپس آگئے ہیں۔ اس کے کئی رہنما اب نئی سیاسی جماعت میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔

ڈی ایس سی کے کنوینر ابوبکر مزومدار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ نئی تنظیم طلبہ میں تحریک کے جذبے کو برقرار رکھنے کے لیے بنائی ہے۔ یہ تنظیم خودمختار رہے گی اور این سی پی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت سے الحاق نہیں کرے گی۔‘تاہم تجزیہ کار اسے نئی پارٹی کی ایک اتحادی تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں