لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانوی سوشلسٹ رہنما جیرمی کوربائن کی نئی بائیں بازو کی سیاسی جماعت اس وقت ایک نئے بحران سے دوچار ہوگئی جب اس کی شریک بانی زارا سلطانہ نے اعلان کیا کہ وہ پارٹی کی پہلی سالانہ کانفرنس کے ابتدائی دن میں شرکت نہیں کریں گی۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق کوربائن نے ہفتے کے روز کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں ارکان سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک ساتھ آئیں تاکہ پارٹی اپنے ہنگامہ خیز آغاز کے بعد آگے بڑھ سکے اور حکمران لیبر پارٹی کے مقابلے میں ایک قابل عمل بائیں بازو کا متبادل بن سکے۔
لیورپول کے شمال مغربی شہر میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوربائن نے کہاکہ ”ہمیں ایک پارٹی کے طور پر متحد ہونا ہوگا، کیونکہ تقسیم اور اختلاف ان لوگوں کے مفاد میں نہیں جن کی نمائندگی ہم کرنا چاہتے ہیں۔“
چند ہی گھنٹوں بعدزارا سلطانہ کے ایک ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ ہفتے کے روز کانفرنس ہال میں داخل نہیں ہوں گی، کیونکہ ان کے ایک حامی کو ایونٹ میں داخلے سے روک دیا گیا تھا اور کئی دیگر افراد کو مبینہ طور پر انتہائی بائیں بازو کی سوشلسٹ ورکرز پارٹی کی رکنیت رکھنے کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔
زاراسلطانہ نے برطانوی پریس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ”مجھے افسوس ہے کہ ہماری بانی کانفرنس کی صبح ایسے لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ انہیں جماعت سے نکال دیا گی، جو ملک بھر سے سفر کر کے آئے، جنہوں نے ٹرین کے کرایوں، ہوٹلوں اور شرکت کے اخراجات پر بہت پیسہ خرچ کیا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ”یہ وہی کلچر ہے جو لیبر پارٹی میں موجود تھا، جہاں کانفرنس سے قبل مبینہ طور پر مخالفین کے خلاف انتقامی اقدامات کیے گئے اور ارکان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا گیا۔“
76سالہ کوربائن اور 32سالہ زاراسلطانہ لیبر پارٹی کے سابق رکن پارلیمان رہ چکے ہیں، جولائی میں نئی جماعت کے اعلان کے بعد سے اکثر اختلافات کا شکار رہے ہیں۔
اس نئی جماعت کو فی الحال یور پارٹی(Your Party) کہا جارہا ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے زارا سلطانہ کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ”ایک اور قومی سیاسی پارٹی کے ارکان نے واضح قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یور پارٹی کی رکنیت اختیار کی، اور انہی قواعد کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔“
یہ واقعہ ایک ایسی جماعت کے لیے تازہ دھچکا ہے جو برطانیہ میں ابھرتے ہوئے کثیر الجماعتی سیاسی ماحول میں بائیں بازو پر جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ لیبر پارٹی بعض معاملات پر دائیں جانب جھکاؤ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔
چار میں سے دو آزاد ارکان پارلیمان، جنہوں نے ابتدا میں جماعت کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا، اندرونی اختلافات کے باعث بعد میں علیحدہ ہوگئے۔ ان اختلافات میں خراب طریقے سے کی گئی رکنیت سازی اور قانونی کارروائی کی دھمکیوں پر تنازع بھی شامل تھا۔
کانفرنس کے دوران جماعت کے ارکان باضابطہ نام کے انتخاب اور یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ آیا جماعت کا ایک قائد ہوگا یا قیادت اجتماعی طور پر ارکان کے پاس ہوگی۔