جلبیر اشقر
(ترکی کے ذرائع ابلاغ نے اسرائیل کے ایک مبینہ منصوبے کے متعلق خدشات کو وسیع پیمانے پر اجاگر کیا ہے جس کا مقصد شام کو ’تقسیم کرنا‘ یا ’چند حصوں میں بٹا ہوا ملک‘ بنانا ہے۔’بی بی سی اردو‘ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے بعض تجزیہ کاروں نے اسرائیل کے اس مبینہ ’ڈیوڈ کوریڈور‘ منصوبے پر تنقید کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد اسرائیل کو جنوبی شام کے دروز آبادی والے علاقوں اور شمالی شام کے کرد آبادی والے علاقوں سے جوڑنا ہے۔یاد رہے کہ ترکی شام کی موجودہ حکومت کا ایک بڑا حامی ہے اور وہ دمشق میں طاقت کے ایک مرکزی محور کی حمایت کرتا ہے۔ ترکی شام میں ڈی سینٹرلائزڈ یا وفاقی طرزحکومت کا مخالف ہے۔عرب مشرق کو اپنے مفادات کے لیے تقسیم کرنے کا قدیم صیہونی منصوبہ بھی ہے، جس سے متعلق جلبیر اشقر کا دو روز قبل ’القدس العربی‘ میں شائع ہونے والے درج ذیل مضمون کا ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔)
گزشتہ ہفتے شامی صوبے سویدا میں خونریز جھڑپوں پر اپنے مضمون میں، میں نے لکھا تھا کہ اسرائیل ’یقینا تشدد میں اضافے کی امید رکھتا ہے تاکہ وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان شامی دروز اقلیتوں کے اُس حصے کے اثر و رسوخ کو مضبوط کر سکے جو اسرائیلی تحفظ میں ایک دروز امارت قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے‘(’شام اور آگ سے کھیلنے کے خطرات‘، القدس العربی، 15 جولائی 2025)۔ اس حوالے سے یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ صیہونی تحریک کے اندر، خاص طور پر اس کے ’جارحانہ‘دھڑے میں ایک دیرینہ نظریہ موجود ہے، جس کے مطابق صیہونی منصوبے کے مفاد میں ہے کہ عرب مشرق کو فرقہ وارانہ اور نسلی اقلیتوں کی بنیاد پر قائم ریاستوں میں تقسیم کیا جائے، جو اسرائیلی سرپرستی کے تابع ہوں۔ اس طرح صیہونی ریاست خطے میں اپنی بالادستی قائم کرتے ہوئے ایک علاقائی سلطنت تشکیل دے سکتی ہے جو خطے کی سب سے بڑی فوجی قوت کے طور پر اس کی مطیع ہو۔
اگرچہ اس منصوبے کے بارے میں گفتگو بعض اوقات ’سازشی نظریہ سازوں‘کی اختراع معلوم ہوتی ہے، لیکن جو دستاویز اسے سب سے واضح طور پر آشکار کرتی ہے وہ قطعی طور پر تخیلاتی نہیں ہے۔ یہ دستاویز موشے شیریٹ (1894-1965) کی ڈائریوں پر مشتمل ہے، جو ریاست اسرائیل کے بانیوں میں سے ایک اور اس کے دوسرے وزیراعظم تھے۔انہوں نے 1953 کے آخر میں ڈیوڈ بن گوریون کے استعفے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا، جسے بن گوریون نے دو سال بعد دوبارہ حاصل کر لیاتھا۔
شیریٹ کو اسرائیل کے نرم موقف رکھنے والے سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی یہ ڈائریاں دراصل ذاتی نوٹس تھے جو انہوں نے 1953 سے 1957 کے درمیان ایک نجی جریدے میں لکھے، اور یہ شائع کرنے کے لیے نہیں تھے۔ یہ ڈائریاں 1979 میں عبرانی زبان میں آٹھ جلدوں میں شائع ہوئیں۔
ان جلدوں کا گہرائی سے مطالعہ لیویا روکاخ نے کیا، جو ایک اسرائیلی صحافی تھیں۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں اسرائیلی ریڈیو کی نمائندہ کے طور پر کام کیا تھا، بعد ازاں وہ صیہونی حکومت کی نقاد بن گئیں (انہوں نے 1984 میں خودکشی کی)۔ روکاخ نے شیریٹ پیپرزکی سنگین ترین تفصیلات کو اجاگر کیا، ان کے اقتباسات کو انگریزی میں ترجمہ کیا اور ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک کتاب میں پیش کیا، جو 1980 کے اوائل میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب ایسوسی ایشن آف عرب افریقن یونیورسٹی گریجویٹس(اے اے یو جی) نے شائع کی،جس کے بانیوں اور صدور میں ناصر عروری (1934-2015) بھی شامل تھے۔وہ ایک ممتاز فلسطینی دانشور اور سیاسی کارکن تھے۔ اس کتاب کا پیش لفظ ناصر عروری نے لکھا، جب کہ ابتدائیہ معروف امریکی دانشور نوم چومسکی نے تحریر کیا۔
شیریٹ کی ڈائریوں نے انکشاف کیا کہ صیہونی ریاست کے طاقتور طبقے کے اندر کئی معاملات زیربحث رہے۔ان میں دیگر امور کے علاوہ درج ذیل منصوبے شامل تھے: جنوبی شام پر قبضے کا منصوبہ؛ لبنان میں ایک مارونائی (عیسائی) ریاست کے قیام کا منصوبہ؛ غزہ کی پٹی کو مصری کنٹرول سے چھیننے کا منصوبہ (جو 1967 میں اسرائیل کے قبضے تک مصر کے زیر انتظام تھی)؛ اور 1948 میں صیہونی ریاست کے قبضے میں آنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مہاجرین کو دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان تمام علاقوں سے نکال باہر کرنے کا منصوبہ، جس کی ابتدا غزہ پٹی سے فلسطینی مہاجرین کو مصر میں دھکیلنے سے ہونی تھی۔
1982 میں اے اے یو جی نے ایک اور صیہونی دستاویز شائع کی، جسے معروف یہودی نقاد اسرائیل شاھاک (1933-2001) نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور اس پر حاشیے تحریر کیے۔ شاھاک یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی میں کیمیا کے پروفیسر، نازیوں کے ہاتھوں یورپی یہودیوں کی نسل کشی میں زندہ بچ جانے والے، اور صیہونیت کے بڑے یہودی ناقدین میں سے ایک تھے۔ وہ اسرائیلی تنظیم اسرائیلی لیگ فار ہیومن اینڈ سول رائٹس کے سربراہ بھی تھے۔
یہ دستاویز ایک صیہونی جریدے میں فروری 1982 میں شائع ہونے والا ایک مضمون تھا، جو بعد میں ’ینون پلان‘ (Yinon Plan) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے مصنف اوڈید ینون (Oded Yenon)تھے، جو اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار اور اس وقت کے انتہائی دائیں بازو کے صیہونی رہنما ایریل شیرون کے مشیر رہ چکے تھے۔ شیرون نے 1982 میں لبنان پر قبضے کی نگرانی اس وقت کے وزیرجنگ کی حیثیت سے کی، جب وہ مناحم بیگن (Menachem Begin)کی حکومت کا حصہ تھے۔ یہ حکومت اسرائیلی ریاست کی تاریخ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت لیکود کی پہلی حکومت تھی۔
ینون کے مضمون کا عنوان’1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمت عملی‘ تھا۔اس مضمون میں ایک ایسا منصوبہ پیش کیا گیا تھا جس میں مصر میں ایک قبطی (عیسائی) ریاست کے قیام کا منصوبہ شامل تھا، جو مصر کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنتا۔اس کے نتیجے میں سوڈان اور لیبیا کی تقسیم بھی ممکن ہوجانی تھی۔اس کے علاوہ لبنان، شام اور عراق کو بھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر مختلف ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی (جس میں شام میں ایک دروزی ریاست بھی شامل تھی، جس میں ینون کے مطابق جولان کی پہاڑیاں شامل کی جا سکتی تھیں)۔اس کے علاوہ فلسطینیوں کو اردن کا کنٹرول دینے کی تجویز بھی شامل تھی، جو فلسطینیوں کو دریائے اردن کے مغرب سے مشرق کی طرف ہجرت پر مجبور کرنے کی راہ ہموار کرتی۔
یہ پرانا صیہونی منصوبہ گزشتہ دہائیوں میں نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا، کیونکہ یہ اس امریکی فیصلے سے متصادم تھا جس کے تحت خطے کے نقشے کو ویسا ہی برقرار رکھنا مقصود تھا جیسا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے زوال اور پہلی عالمی جنگ کے بعد یورپی نوآبادیاتی تسلط کے نتیجے میں بنا تھا۔ (تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ خود امریکہ کے اندر بھی ایسے حلقے موجود تھے جو عراق کو صیہونی نقط نظر کے مطابق تقسیم کرنے کے حامی تھے، خاص طور پر عراق پر امریکی قبضے کے دوران۔)
اب جبکہ اسرائیلی معاشرہ اور سیاست دائیں بازو کی طرف مسلسل جھکتے ہوئے موجودہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے تحت اپنی انتہائی شکل اختیار کر چکے ہیں، تو اس صیہونی منصوبے کو نئی زندگی اور طاقتور مہمیز ملی ہے۔
اس حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ’طوفان الاقصیٰ‘ کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا، تاکہ صرف غزہ کے عوام ہی نہیں بلکہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک فلسطینی عوام کے تمام حصوں پر حملہ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اس نے لبنان، شام اور یمن کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ تینوں ممالک ایسے ہیں جہاں فرقہ وارانہ تقسیم کی بنیاد پر خانہ جنگیاں ہو چکی ہیں یا جاری ہیں۔
اسی زمرے میں عراق بھی آتا ہے، جو اگرچہ اب تک براہِ راست اسرائیلی جارحیت سے بچا رہا ہے، لیکن وہاں پہلے 1991 میں امریکہ نے ریاستی ڈھانچے کو تباہ کیا، اور پھر 2003 سے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘کے اصول پر نئی ریاست سازی کی کوششیں کیں۔ اس کے علاوہ، لیبیا، سوڈان اور یمن کی عملی تقسیم کا ذکر تو خود بخود شامل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج عرب مشرق اور خاص طور پر لبنان، شام اور عراق جیسے تین وہ ممالک،جو اسرائیل کے جغرافیائی لحاظ سے قریب ہیں،اب ایسی حالت میں ہیں کہ صیہونی نقط نظر کے مطابق ان کی تقسیم پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو گئی ہے۔ اسرائیل کا شام اور لبنان کے حوالے سے موجودہ رویہ اسی تناظر میں پوری طرح فٹ بیٹھتا ہے۔
تاہم یہ صیہونی خواہش ان دولت مند عرب ریاستوں کے مفادات سے ٹکرا رہی ہے جن کا واشنگٹن پر اثر ہے،نیز ترکی کے مفادات سے بھی، کیونکہ یہ تقسیم پورے خطے کے لیے شدید عدم استحکام کا باعث بنے گی۔ یہی تضاد اب اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے، اور یہی وہ وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خاص طور پر شام کے حوالے سے اسرائیل کے رویے پر ناخوشی کا اظہار کیا تھا۔
(بشکریہ: ’جلبیر اشقرڈاٹ نیٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)
