لاہور(جدوجہد رپورٹ)ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں آمریت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا کی ایک تہائی سے زائدیعنی 39.2فیصد آبادی آمرانہ حکومتوں کے زیر سایہ زندگی گزار رہی ہے۔ آمرانہ حکومتوں کا تناسب حالیہ برسوں میں بڑھ رہا ہے اور انڈیکس میں 60ملکوں کی درجہ بندی آمرانہ حکومتوں کے طور پر کی گئی ہے۔
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ(ای آئی یو) کے جاری کردہ انڈیکس کے مطابق گزشتہ سال دنیا کی نصف سے زائد آبادی پر مشتمل 70ملکوں میں گزشتہ سال انتخابات ہوئے، جہاں دھاندلی جیسے مسائل سامنے آئے۔ یہ صورتحال خاص طور پر آمریتوں میں ہوتی ہے۔
انڈیکس میں دنیا بھر کے165آزاد ملکوں اور 2خودمختار خطوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ انڈیکس 5بنیادوں پر ملکوں کا جائزہ لیتا ہے، جن میں انتخابی عمل، حکومت کی فعالیت، سیاسی شرکت، سیاسی ثقافت اور شہری آزادی شامل ہیں۔ ہر ملک کی 4میں سے ایک کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے، جس میں مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، ہائبرڈ نظام اور آمرانہ نظام شامل ہے۔
انڈیکس کے مطابق جمہوریت کی درجہ بندی میں پاکستان کی 6درجے تنزلی ہوئی ہے اور پاکستان10بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان عالمی درجہ بندی میں 2.84کے مجموعی سکور کے ساتھ 124ویں نمبر پر رہا اور اس کی درجہ بندی آمرانہ حکومت کے طور پر کی گئی ہے۔
انڈیکس میں آمرانہ حکومتوں کے اوسط سکور میں مزید خرابی دیکھی گئی ہے۔ حالیہ برسوں کا یہ رجحان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آمرانہ حکومتیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید آمرانہ ہوجاتی ہیں۔
انڈیکس کے مطابق ایشیا اور آسٹریلیا میں اوسط انڈیکس سکور 2024میں مسلسل چھٹی بارکم ہونے کے بعد5.41سے گر کر 5.31آگیا ہے۔ بنگلہ دیش، جنوبی کوریا اور پاکستان بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملک تھے، جن کی عالمی درجہ بندی میں بالترتیب 25، 10اور6درجے تنزلی ہوئی۔
انڈیکس کے مطابق آذربائیجان، بنگلہ دیش، بیلاروس، ایران، موزمبیق، پاکستان، روس اور وینزویلا میں آمرانہ حکومتوں نے اقتدار میں رہنے کے لیے ہر طرح کا طریقہ استعمال کیا۔بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک کو جمہوری عمل جیسا کہ انتخابی جوڑ توڑ، تقسیم کی سیاست اور سیاسی بدامنی کے لیے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔
انڈیکس کے مطابق جنوبی ایشیا میں 2024 کے انتخابات دھوکا دہی اور تشدد سے متاثر ہوئے۔ پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں حکام کی جانب سے سیاسی جبر اور مداخلت کے الزامات لگائے گئے۔جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے امکانات کو غیر یقینی کا شکار قرار دیا گیا ہے۔