ڈاکٹر عاکف خان
پاکستان اور بھارت کے ایشیا کپ 2025 کے فائنل کے بعد ایک دوست نے تبصرہ کیا کہ حالیہ تنازعات میں بھارت کے آرٹسٹ، اداکاروں اور کھلاڑیوں نے اتنا مایوس کیا جتنا پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی نہیں کر سکتی۔ میں نے جواب دیا کہ وہ زمانے گئے جب بھارت کو بعض حلقے پڑھا لکھا، جمہوری اور سیکولر ملک مانتے تھے اور وہاں کے دانشوروں، آرٹسٹوں اور کھلاڑیوں کو سمجھدار مانا جاتا تھا۔ آج بہت ساری مین اسٹریم شخصیات گھمنڈی، خودغرض، متکبر، انا پرست، نفرت سے پُر، جھوٹی اور موقع پرست نظر آئیں گی۔
سوریا کمار یادو یا دروو راٹھی کو چھوڑئے جاوید اختر جیسے لوگ بعض اوقات اس رو میں بہہ جاتے ہیں۔ بہت سی ایسی شخصیات کی سطحیت پہلگام کے بعد کھل کر سامنے آ ئی۔ پہلے ہم انہیں شک کا فائدہ دیتے تھے کہ ہاں یہ مخلص ہیں اور ہمارا زیادہ قصور ہے۔ مگر اب وہ اسی طرح ریاستی پراپیگینڈہ اور جذباتیت کو استعمال کر رہے ہیں جیسے ہمارے ہاں اوریا مقبول جان، قیصر راجہ یا ساحل عدیم جیسے لوگ کرتے ہیں۔ وہ اب وہی سطحی ریاستی دانشور بن گئے ہیں یا ڈھکے چھپے تھے جو اب کھل کر سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں گرامشی نے متنبع کیا تھا اور ہم بعض اوقات انہیں غلطی سے آرگانک انٹیلیکچوئل سمجھ رہے تھے۔
یہ صرف کرکٹ یا سیلیبریٹیز کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک بہت گہری معاشرتی بیماری کی نشانی ہے۔ جب قوم کو ایسے رہنما قیادت فراہم کررہے ہوتے ہیں جو میکاولین ہوں، ڈیماگاگز ہوں یعنی فسطائی، خودغرض، موقع پرست، جھوٹے اور دھوکہ باز ہوں تو جھوٹ، غرور اور نرگسیت جیسے رویے معاشرے میں رچ بس جاتے ہیں۔ جب میڈیا اور دانشور سچ کو سامنے نہیں لاتے تو اینٹی انٹلیکچوئلزم (دانشمندی سے دشمنی)پھیلتا ہے اور لوگ سطحی اور دکھاوے کی سمجھ کے تابع ہو جاتے ہیں۔
بھارت میں یہ سب جیسے ہوا ایک کیس سٹڈی ہے۔ کسان تحریک، یا جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ڈیمنائزیشن ہوئی، جمہوری اقدار اور آزادئ اظہار رائے پر ڈاکے پڑے، کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا گیا، نہ صرف اساطیر اور سوڈو سائنس کو گلیمرائز کیا گیا بلکہ سائنس اور عقلیت پسندی کے خلاف پروپیگینڈہ کیا گیا اور ان لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا جنہوں نے اس عمل کی مخالفت کی۔ بھارت میں کرکٹ میچز میں سٹیڈیم میں گاؤ متر کے غسل اور ناریل توڑنے والی حرکات کی گئیں۔مودی اور اس کے وزراء نے آرگن ٹرانس پلانٹیشن اور ماڈرن سائنس کو اساطیر سے جوڑا۔ اس کے نتیجے میں عوام سطحی اور موقع پرست سوچ کے تابع ہو گئی۔
پاکستان بھی اس مرحلے سے گزرا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے خاص طور پر ضیاء الحق کے کارنامے جن میں میڈیا پر کنٹرول، اینٹی انٹیلیکچوئل تحاریک، صحافیوں کو کوڑے مارنے، مفکرین اور سیاسی کارکنوں کی صعوبتیں، نصاب میں جھوٹ کی آمیزش، اشفاق احمد، نسیم حجازی سے لے کر اوریا مقبول، ساحل عدیم اور قیصر راجہ تک ۔۔۔کئی کارنامے ہماری ریاست کا طرہ امتیاز رہے ہیں البتہ گزشتہ پندرہ سالوں میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی سیاست، 9 مئی کے بعد کے واقعات، غیر جمہوری فوجی اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے بعد لوگ بظاہر ریاستی بیانیے سے شاکی اور متنفر نظر آتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کی بات پر اندھا یقین بظاہر کم ہوا ہے ۔یا شاید یہ بھی ایک آنکھ کا دھوکہ ہے اور یہ سب عمران خان جیسے پاپوولسٹ فسطائی کرداروں کے طاقت میں آنے کے ساتھ واپس آ جائے گا۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ خاص طور پر جب سائبر کرائم اور توہین مذہب قوانین، اور اینٹی سائنس رویے کے معاملے میں عمومی عوامی شعور ادھر کا ادھر ہی دھرا ہے۔
ہمارے ہاں بھی جن لوگوں کو ہم آرگانک انٹلکچوئل سمجھتے تھے ان میں سے بعض کا کردار اور سوچ مایوس کن ہی ہے۔ ان میں سے کوئی اسرائیل کے گن گا رہا ہوتا ہے کسی کی پوسٹ میں برہنہ تصاویر، جنسی مواد اور مغلظات نظر آتی ہیں اور کوئی خودپسندی کی لت لگا کر بیٹھا یا بیٹھی ہے۔ کچھ ہیں جو اپنے اوپر لبرل یا لیفٹ کے لیبل لگا کر انہی لیبلز کی نظریاتی اساس کے خلاف کام کر رہے ہوتے ہیں جیسے ڈیموں کی حمایت، ایلیٹ سوچ کی عکاسی یا غریبوں میں مفت کانڈوم بانٹنا۔ ایسے افراد نرگسیت غرور اور گھمنڈ کا شکار ہیں۔
گرامشی نے اس صورتحال کی اچھی وضاحت کی تھی کہ طاقت صرف طاقت یا ریاست کے استعمال سے قائم نہیں رہتی بلکہ ثقافت، خیالات اور معاشرتی اداروں کے ذریعے بھی قائم رہتی ہے۔ جب دانشور اور میڈیا طاقتوروں کے آلہ کار بن جائیں اور آزاد تنقیدی کردار ادا نہ کریں تو حکمران طبقے کا نظریہ “عام فہم” بن جاتا ہے اور معاشرہ متبادل خیالات سے محروم رہتا ہے۔ ن لیگ کے حامی موقع پرست صحافیوں اور دانشوروں کے کرتوت آپ نے دیکھ لیے جونہی ان کی پسندیدہ پارٹی حکومت میں آئی۔ انہیں اپنی ساری انقلابی سوچ اور دانشورانہ باتیں بھول گئیں۔ یہی کچھ پی ٹی آیی کے لیڈروں، صحافیوں اور انٹیلیجنشیا نے بھی اقتدار میں آ کر کیا۔
چومسکی کی یہ فکر بھی یہاں بہت اہم ہے کہ میڈیا ہمیشہ یہ نہیں بتاتا کہ آپ کیا سوچیں، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کس بارے میں سوچیں۔ میڈیا کس موضوع پر توجہ مرکوز کرے اور کون سے مسائل کو نظرانداز کرے، یہ سب طے کرتا ہے۔ اس طرح عوام کی توجہ اور بحث کو محدود کر کے طاقتوروں کے حق میں رائے تشکیل دی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا ہائپ، وائرل کلچر، ریج بیٹ، کلک بیٹ، غیر ضروری خبروں پر فوکس اسی سوچ کا نتیجہ ہیں چاہے وہ ارادی ہوں یا غیرارادی، چاہے وہ یوٹیوب اور فیسبک ڈالر کی لالچ میں ہوں یا ٹویٹر اور انسٹاگرام کی شہرت کی لالچ میں۔ نتیجتا اصل مسائل سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور بیہودگی ہی ہاٹ ٹاپک آف ڈسکشن رہتی ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگوں کو خبر ہے کہ بلوچ مسنگ پرسنز کے لواحقین نے اڑھائی ماہ اسلام آباد میں دھرنا دیا جو چار دن قبل ختم ہوا، تیراہ میں تئیس افراد مارے گئے اور پاڑا چنار میں یہ حالات ہیں کہ لوگ کئی ماہ تک اپنے خاندانوں سے ملنے نہیں جا سکے۔ اصل مسائل سے توجہ میڈیا اور صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر یا ان کی اپنی لالچ اور موقع پرستی کے ذریعے بلاواسطہ حاصل کی جاتی ہے۔ نتیجتا میڈیا ہمیں نہیں بتا رہا ہوتا ہے کہ آپ نے کیا سوچنا ہے اصل مسائل کیا ہیں بلکہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ کس بارے میں سوچنا ہے جو کہ غیراہم مگر اکثر پرکشش گوسپ یا طاقت کے ایوانوں کے لیے بے ضرر مسائل ہوتے ہیں جیسے ڈکی بھائی کی گرفتاری، اقرار الحسن کی شادیاں یا ڈاکٹر نبیحہ کی جعلی ڈگریاں۔
یہ رجحان صرف بھارت یا پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ پاپولزم، دائیں بازو کی تحریکوں اور سوشل میڈیا سے جڑے یہ مسائل اب پوری دنیا میں ہیں۔ بھارت میں مودی کی قیادت میں بی جے پی نے پروپیگنڈا، میڈیا کنٹرول اور قوم پرستی کے ذریعے طاقت مضبوط کی ہے جبکہ کانگریس کمزور رہتی ہے۔ پاکستان میں پی ٹی آئی، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشمکش، سائبر کرائم، پیکا اور مذہب سے جڑے قوانین عوامی مباحثے یا آزادئ اظہار رائے اور جمہوری عمل کو محدود کر رہے ہیں۔ امریکہ، یورپ اور برطانیہ میں بھی دائیں بازو کی جماعتیں اور مخالف ہجرت تحریکیں، سوشل میڈیا اور میڈیا کی طاقت سے عوامی رائے ہموار کر رہی ہیں۔
اسی دوران پروگریسیو تحریکیں بھی ہمیشہ مددگار نہیں رہیں۔ ہمارے کچھ مقامی دانشوروں کا ذکر اوپر کیا۔ باقی کینسل کلچر، زیادہ حساسیت اور سطحی اخلاقی تقاضوں پر زور نے حقیقی مسائل پر توجہ کم کر دی اور مقامی یا عالمی طاقتور حلقوں کے بیانیوں کو مضبوط ہونے کا موقع دیا ۔ آرگانک انٹلکچوئلز وہ لوگ جو اصل مسائل پر بات کرتے اور سوچتے ہیں، ان کو اینٹی انٹیلیکچوئل عوامی سطح پر رد کروا دیا گیا۔ پاکستان میں پروز ہودبھائی،عاصمہ جہانگیر اور عبدلاستارایدھی جیسے لوگوں کے خلاف پراپیگینڈہ یا کردارکشی سے لوگوں کو متنفر کیا گیا۔بہت سے طالب علموں نے اقبال احمد (علامہ محمد اقبال نہیں) کا نام بھی نہیں سنا جو امریکہ میں ایک بہت بڑے اکیڈیمک کے طور پر پڑھے جاتے ہیں اور جنہوں نے ہمیشہ عوامی شعور، معاشرے اور دانشورانہ ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ اسی طرح بھارت میں اروندھتی رائے جو کہ میڈیا اور عالمی سرمایہ داری کے بیانیے کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کو عوامی سطح پر رد کروایا گیا۔ مشرقِ وسطی میں ایڈورڈ سعید جیسے لوگوں کو حماس اور الفتح نے ری پلیس کر لیا اور ان کے اس سبق کو کہ علم بھی طاقت کے آلے کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے بھلا دیا گیا۔
عرض داشت یہ ہے کہ طاقت کے خلاف لڑائی صرف سیاست میں نہیں بلکہ ذہنوں اور ثقافت میں بھی ہے۔ جب تک معاشرے میں آزاد سوچ، سائنسی دلیل، مباحثے کی آزادی، اور ذمہ دار میڈیا قائم نہیں ہوتا، حکومتی اور عوامی سطح پر آمرانہ اور قوم پرست رجحانات برقرار رہیں گے۔ دنیا ہر جگہ پروپیگنڈا، سطحی سوچ اور سیاسی چالاکیوں کے چکر میں پھنسے رہے گی اور حقیقی ترقی کا سفر آہستہ اور مشکل رہے گا۔ ذہنوں کو کنٹرول کرنا خاص طور پر کنٹرولڈ سوشل میڈیا، اس کے الگورتھم اور حکومتوں کی ان پلٹ فارمز کے ساتھ ساز باز کے بعد انتہائی آسان ہو گیا ہے۔
ان سب پیچیدگیوں کے باوجود ذہنوں کو کنٹرول کرنا اگر حکمرانوں کے لیے آسان ہو گیا ہے تو اس سے نکلنا ہمارے لیے بھی اتنا مشکل نہیں ہے۔ اگر ہم ذہنی کاہلی کو چھوڑیں۔ تھؤری سی کامن سینس، عقلیت پسندی، جذباتیت پسندی سے بچاؤ، تنقیدی سوچ اپنائیں اور سائنسی اپروچ کے ساتھ، انہی ٹولز سے مدد لے کر اس سارے گھن چکر میں سے نکل سکتے ہیں، فیکٹ چیک کر سکتے ہیں، مبالغہ آرائی اور جھوٹ سے بچ سکتے ہیں، معروضی سچ کے قریب آ سکتے ہیں اور موضوعی سچ کو سمجھ کر انسانیت پسند بن سکتے ہیں۔یقینا یہ سب کرنے کے لئے ہمیں متبادل پلیٹ فارم بھی تشکیل دینا ہوں گے۔