روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

سامراج مخالفت کا ڈھونگ - روزنامہ جدوجہد

سامراج مخالفت کا ڈھونگ - روزنامہ جدوجہد

ساشا فوکینا

سرد جنگ کے دور میں سامنے آنے والے بے شمار تصورات میں سے کیمپ ازم کا تصور آج کی تیزی سے منقسم ہوتی دنیا میں حیران کن حد تک متعلق محسوس ہوتا ہے۔ یہ نظریہ عالمی سیاست کو دو کیمپوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک جانب سامراجی مغرب ہے، جسے عالمی استحصال اور عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے؛ اور دوسری جانب اس کے نام نہاد اینٹی امپیریل اسٹ مخالفین۔ یہ اصطلاح ان رویوں کی نشاندہی کرتی ہے جن کے مطابق کوئی بھی قوت جو مغربی سامراج اور اس کے اتحادیوں کی مخالفت کرتی ہو، قابل حمایت ہوتی ہے، چاہے وہ قوت کتنی ہی رجعت پسند، استحصالی یا خود سامراجی کیوں نہ ہو۔

روس کے معاملے میں یہ ذہنیت خصوصاً 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد شدید طور پر نمایاں ہوئی۔ جب ماسکو نے ایک خودمختار ملک پر یلغار کی اور محاذ جنگ سے لے کر مقبوضہ علاقوں تک نوآبادیاتی نوعیت کے جرائم منظم انداز میں انجام دیے، تب بھی کچھ مبصرین نے ان مظالم کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ نیٹو کی توسیع نے کریملن کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا۔

روس کے اندر مقامی و نسلی اقلیتوں کے حقوق پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور مخالف آوازوں، بشمول بائیں بازو کے حلقوں کی شدت سے ہوتی ہوئی گرفتاریوں و جبر کے باوجود، کیمپ ازم کی منطق عالمی سیاست کو داخلی سماجی رشتوں سے الگ کر کے دیکھتی ہے۔ تاہم موجودہ روس میں یہ فاصلہ پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ اگرچہ کریملن خود کو عالمی جنوب کی آواز کے طور پر پیش کرتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے سامراجی عزائم کو اپنی سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلاتا ہے، صرف یوکرین اور جارجیا جیسے آزاد پڑوسی ممالک تک ہی نہیں بلکہ اس سے بھی دور تک۔

اپنی سامراجیت مخالف شناخت قائم کرنے کی کوشش میں روس نے افریقی ممالک کو اپنا ہدف بنانا تیزی سے بڑھا دیا ہے،جو اب بھی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش سے تشکیل پا رہے ہیں۔ مغرب مخالف ماسکو کے ساتھ اتحاد کو اکثر سابق نوآبادیاتی طاقتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے مقابل مزاحمت اور استحکام و معاشی ترقی کے حصول کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم افریقہ میں روسی موجودگی کی حقیقت کچھ اور ہی تصویر پیش کرتی ہے۔ محض اینٹی کلونیل ہونے کا دعویٰ کیمپ ازم کو جائز نہیں بنا سکتا، اور نہ ہی یہ حقیقی آزادی فراہم کرتا ہے۔

سرد جنگ کی تاریخ

سرد جنگ کے دوران سوویت یونین نے سرمایہ دارانہ بلاک کے ساتھ رقابت کے پیش نظر افریقی ممالک میں سامراجیت مخالف اور آزادی کی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس نے آزادی کی جدوجہد کے لیے بنیادی وسائل، یعنی اسلحہ، معاشی کمک، اور نظریاتی تربیت فراہم کی۔ اسی دوران لاکھوں افریقی طلبہ نے یو ایس ایس آر اور مشرقی یورپ کے دیگر ملکوں میں تعلیم حاصل کی، جس سے سوویت منصوبے کی کشش اور اثر مزید بڑھا۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس کی افریقہ میں موجودگی شدید کمزور ہوگئی کیونکہ نوزائیدہ روسی ریاست اندرونی بحرانوں سے دوچار تھی۔ 2000 کی دہائی کے وسط سے 2010 کی دہائی تک کریملن نے آہستہ آہستہ اپنے سابق افریقی شراکت داروں سے روابط بحال کرنا شروع کیے۔ تاہم 2019 میں روس نے سوشی میں پہلا ”روس افریقہ فورم“ منعقد کیا، جس نے اس کی واپسی کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔ وہاں صدر ولادیمیر پوتن نے روس افریقہ تعلقات کے ایک ”نئے پیج“ کے آغاز کا اعلان کیا۔

مغربی میڈیا نے اس موقع کو کچھ یوں بیان کیا:”پوتن نے ابھی مشرق وسطیٰ میں اپنی کامیابی کا چکر لگایا ہے، اب وہ افریقہ کی طرف بڑھ رہے ہیں“اور ”روس افریقہ سمٹ: خطے میں ماسکو کے عزائم کا مظاہرہ“۔

عالمی شمال میں بڑھتی ہوئی تنہائی اور ایک حقیقی سپر پاور کے طور پر پہچانے جانے کی خواہش نے کریملن کو فعال طور پر عالمی جنوب، خصوصاً افریقہ میں اپنا اثر بڑھانے پر مجبور کیا۔

روایتی ہارڈ پاور ٹولز

2019 سے روس کا افریقی ممالک کے ساتھ تعاون واضح طور پر بڑھا ہے۔ ماسکو نے اپنے تاریخی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے اور ان نئے نظاموں سے بھی روابط قائم کیے ہیں جو علاقائی اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہیں، نیز ان غیر وابستہ حکومتوں سے بھی جو اپنی شراکت داریوں میں تنوع لانا چاہتی ہیں۔

معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو افریقہ میں ماسکو کی موجودگی اب بھی محدود ہے۔ روس کے پاس اتنی سرمایہ کاری کی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ دیگر علاقائی طاقتوں کا مقابلہ کر سکے۔ اگرچہ روسی میڈیا نے 2025 میں ماسکو اور افریقی ممالک کے درمیان مجموعی تجارتی حجم کے تاریخی ریکارڈ یعنی تقریباً 28 ارب ڈالر کی تعریف کی، لیکن چین اور یورپی یونین کی تجارت 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ امریکہ، متحدہ عرب امارات اور بھارت کے تجارتی حجم بھی 100 ارب ڈالر سے اوپر ہیں۔تاہم روس نے جوہری توانائی کے منصوبوں کی برآمد کے ذریعے ایک معاشی گوشہ ضرور بنا لیا ہے۔ چونکہ خطے کی آبادی کے ساتھ توانائی کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس لیے ماسکو اپنی مہارت، مستقبل کے عملے کی تربیت، اور طویل المدتی منصوبوں کو چلانے کے لیے جوہری ایندھن پیش کر رہا ہے۔

روس کے تذویراتی معاشی اثرورسوخ کا ایک اور پہلو افریقہ میں غذائی تحفظ سے متعلق ہے۔ 2025 میں روسی زرعی برآمداتی ایجنسی ایگرو ایکسپورٹ نے دعویٰ کیا کہ ماسکو افریقہ کو سب سے بڑا گندم فراہم کرنے والا ملک بن چکا ہے اور براعظم کے گندم کے مجموعی بازار کا ایک تہائی حصہ روس کے پاس ہے۔ مجموعی طور پر روس تقریباً 40 افریقی ممالک کو اناج برآمد کرتا ہے، اور حالیہ برسوں میں الجزائر، لیبیا، کینیا، مراکش، تیونس اور تنزانیہ سے طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔سپلائی چین میں خلل، بڑھتی ہوئی قیمتوں، جو جزوی طور پر روس کی یوکرین جنگ، موسمیاتی بحرانوں اور وبا کے دیرپا اثرات کی وجہ سے ہیں، کے پس منظر میں کچھ افریقی حکومتوں نے کریملن پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے اس انحصار کا استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

تاہم افریقہ میں روسی موجودگی کی اصل بنیاد اسلحے کی برآمدات ہیں۔ جنوری میں روس کی اسلحہ ساز اور فروخت کرنے والی ایجنسی روس اوبورون ایکسپورٹ نے دعویٰ کیا کہ افریقی ممالک کو اس کی برآمدات سرد جنگ کے دور کے مساوی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ تب سوویت یونین براعظم کو 40 فیصد اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ یہ دعویٰ حقیقی ہے یا ماسکو کی خواہش پر مبنی بیان ہے،اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یوکرین جنگ کے دوران روس کی اسلحہ برآمد کرنے کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔اس کے باوجود افریقی اسلحہ بازار میں ماسکو اب بھی ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سپری کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان افریقہ میں بڑی اسلحہ درآمدات کا 21 فیصد روس سے آیا، جب کہ چین کا حصہ 18 فیصد اور امریکہ کا 16 فیصد تھا۔

”انسانی روپ میں عسکری موجودگی“

روایتی اسلحہ برآمدات کے علاوہ روس کئی برسوں سے اپنی افریقی شراکت دار حکومتوں کو نجی فوجی کمپنی ویگنرکی خدمات بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ 2023 میں اس کے بانی یوگینی پریگوژن کی موت کے بعد اس نام نہاد”ویگنر گروپ“ کو باقاعدہ روسی وزارت دفاع میں ضم کر دیا گیا ہے اور اس کا نیا نام افریقہ کور رکھا گیا ہے،جو شاید دوسری جنگ عظیم کے جرمن”افریقہ کور“ کی طرف اشارہ ہے۔

روسی”ملٹری انسٹرکٹرز“، یعنی کرائے کے فوجیوں کی مبہم اصطلاح کے اس پیکیج میں صرف سکیورٹی خدمات ہی شامل نہیں ہوتیں بلکہ سیاسی مشاورت بھی شامل ہوتی ہے، جیسے کہ ڈس انفارمیشن کی مہمیں، مصنوعی احتجاج منظم کرنا، اور مختلف صنعتوں، خصوصاً سونے، معدنیات اور لکڑی میں منافع بخش اور استحصالی ٹھیکوں کا انتظام کرنا وغیرہ۔

اس کی ایک نمایاں مثال سنٹرل افریقن ریپبلک(سی اے آر) ہے۔ یہاں کے صدر فاسٹن آرکانج توادیرہ 2018 میں کھلے عام روسی پرائیویٹ ملٹری کمپنی(پی ایم سی) کو خوش آمدید کہنے والے پہلے افریقی رہنما تھے۔ بظاہر انہوں نے قومی فوج کی مقامی باغیوں کے خلاف لڑائی میں مدد کے لیے ”روسی انسٹرکٹرز“ کو مدعو کیا تھا۔حقیقت میں یہ روسی فورسز توادیرہ کی اپنی اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کی ضمانت بن گئیں۔مثال کے طور پر انہوں نے 2023 کے آئینی ریفرنڈم کی بھرپور حمایت کی، جس کے نتیجے میں صدر کو بغیر کسی مدت کی حد کے عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت مل گئی۔ آج سی اے آر میں یہ ”سیاسی مشیر“ ایک فارن ایجنٹ قانون کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ وہی جابرانہ قانون ہے جو کریملن نے گزشتہ 15 برس سے اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کیا اور جسے وہ زوال پذیر آمرانہ حکومتوں میں بھی برآمد کر رہا ہے۔روس نواز تنظیمیں سی اے آر میں سوشل میڈیا پر جارحانہ مہمات چلاتی ہیں، حکومتی ناقدین کو دھمکاتی ہیں، اور اے ایف پی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ روسی فورسز ڈرونز کے ذریعے صدر کے مخالفین پر نظر بھی رکھتی ہیں۔

دیگر ممالک کی رپورٹوں میں، جہاں روسی ”ملٹری انسٹرکٹرز“ تعینات رہے، شہریوں نے ان پر قتل، تشدد اور جنسی نوعیت کے تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سابق ویگنر ٹیلیگرام چینلوں میں باقاعدہ پھانسیاں دینے اور لاشوں کی بے حرمتی کی لاتعداد ویڈیوز موجود ہیں، خصوصاً مالی میں۔ روسی پروپیگنڈہ اسے ”انسانی روپ میں عسکری موجودگی“ کہتا ہے۔

اس سب کے علاوہ، تازہ رپورٹوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بہت سے افریقی نوجوان جو تعلیم یا اچھی تنخواہ والی سویلین نوکریوں کی تلاش میں روس جاتے ہیں، انہیں حقیقت میں یوکرین کی جنگ کے محاذ پر بھیج دیا جاتا ہے۔ ماسکو انہیں اپنی جنگی مشین کے لیے سستی افرادی قوت کے طور پر دیکھتا ہے۔اکثر ان نوجوانوں سے ایسی زبان میں معاہدے پر دستخط کروائے جاتے ہیں جسے وہ سمجھتے ہی نہیں۔ کم از کم 36 افریقی ممالک کے ہزاروں نوجوانوں کو جنگ کے صف اول میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

INPACT کی تحقیق میں اب تک 1400 سے زائد افریقیوں کی شناخت ہوئی ہے، تاہم دیگر رپورٹیں اس سے بھی زیادہ تعداد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ چند ہی مہینوں میں 300 سے زیادہ مارے جا چکے ہیں۔جو زندہ بچ جاتے ہیں انہیں اکثر کوئی معاوضہ نہیں ملتا، اپنے کمانڈروں کے نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور واپسی میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر کم نگرانی کی وجہ سے کریملن نے موثر طریقے سے ایک سرحد پار انسانی اسمگلنگ کا نظام قائم کر لیا ہے۔ یہ استحصال کا ایک پورا ڈھانچہ ہے، جو انہی لوگوں کی معاشی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے جنہیں وہ بظاہر اینٹی کلونیل جدوجہد میں مدد دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔

اینٹی کلونیل جذبات کی آڑ

ایسی ہائبرڈ کارروائیاں ماسکو کے پرانے اتحادی آمرانہ نظاموں اور ان نئی حکومتوں کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوتی ہیں جو اپنے ممکنہ شراکت داروں کے انتخاب میں محدود ہیں۔ مثال کے طور پر ساحل خطے کی فوجی حکومتیں، یعنی مالی، برکینا فاسو اور نائجر،اینٹی کلونیل جذبات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ جذبات عوام کی حقیقی شکایات سے جنم لیتے ہیں، جنہوں نے صدیوں کے استحصال اور خاص طور پر فرانس کی حالیہ برسوں تک جاری رہنے والی فوجی مداخلت کو سہا ہے۔یہ نئی حکومتیں اسی عدم مساوات اور ناانصافی کو بنیاد بناتے ہوئے سابق استعماری طاقتوں سے تعاون سے انکار کرتی ہیں، اور پھر بالآخر روس کی طرف رخ کر لیتی ہیں۔

کریملن سب سے پہلے اس موقع کو اپنی پسند کا تاثر قائم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کریملن کے پھیلائے گئے سازشی نظریات کے مطابق امریکہ پورے براعظم میں حیاتیاتی تجربہ گاہیں چلا رہا ہے اور مغربی کمپنیاں مہلک ویکسین تیار کرتی ہیں۔ کریملن برکس کو امریکی بالادستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے منصوبے کے طور پر پیش کرکے گلوبل ساؤتھ میں پذیرائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔پوتن مغربی کلونیل ازم کی تاریخ کو کھلے عام ”شرمناک“ قرار دیتا ہے اور مستقل طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔

متعدد پروپیگنڈا ذرائع ان بیانیوں کو پھیلانے میں کریملن کی مدد کرتے ہیں۔ اسپوتنک افریقہ، آر ٹی، تاس، اور حال ہی میں قائم ہونے والی خبر رساں ایجنسی افریقن انیشی ایٹوان پروپیگنڈہ ذرائع میں نمایاں ہیں۔ اس کے مواد کا ترجمہ افریقہ میں بولی جانے والی بڑی زبانوں میں کیا جاتا ہے۔ اس کے عملے میں سابق ویگنر نیٹ ورک کے افراد بھی شامل ہیں۔افریقن انیشی ایٹو کے سربراہ آرٹیم کوریف ہیں، اور رپورٹس کے مطابق وہ روسی داخلی خفیہ ایجنسی (ایف ایس بی) کے شعبہ خارجہ، ففتھ ڈائریکٹوریٹ، سے وابستہ ہیں۔

جن ممالک میں روسی اثر و رسوخ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، وہاں زمینی سطح پر عوامی رائے ہموار کرنے کی ذمہ داری مقامی تنظیموں اور رائے سازوں کو سونپ دی گئی ہے۔ دوسرے روس افریقہ فورم میں برکینا فاسو کے صدر ابراہیم تراورے نے افریقی خودمختاری کی حمایت پر ماسکو کی تعریف کی۔ حتیٰ کہ انہوں نے روس کی جدید تاریخ کو افریقی ممالک سے تشبیہ دیتے ہوئے دونوں کو ”دنیا کے بھلا دیے گئے لوگ“ کہا۔ذیلی سطح پر روس نواز آئیوورین این جی او سپورٹ فار ولادیمیر پوتن ان افریقہ (SOTOVPOA) نے پوتن کے نام پر ایک بین الاقوامی انعام بھی شروع کیا، جس میں اس کے بانی نے پوتن کے ”افریقہ کی آزادی کے لیے کیے گئے اقدام“ کو سراہا۔مزید برآں، افریقن انیشی ایٹو یوکرین کے زیر قبضہ علاقوں کے دوروں کا اہتمام کرتا ہے، جہاں ساحلی ممالک کے بلاگرز ”نئے علاقوں کی تعمیر نو“ پر مباحثے کرتے ہیں اور معلوماتی مہمات چلانے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

کیمپ ازم کے خلاف

جیساکہ اوپر واضح کیا گیا ہے، افریقہ میں روس کی موجودگی کا مقامی آبادی کی آزادی سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔ اس کا مقصد صرف اپنے اتحادی حکمرانوں کے اقتدار کو برقرار رکھنا ہے۔ جنگی جرائم، وسائل کی لوٹ مار، اور آمرانہ حکومتوں کو مضبوط بنانے جیسے عوامل کریملن کی براعظم افریقہ میں واپسی کے حقیقی محرکات کو ظاہر کرتے ہیں، اور یہ محرکات دیگر نوآبادیاتی طاقتوں سے کچھ زیادہ مختلف بھی نہیں۔

کئی سوالات اب بھی برقرار ہیں۔ کیا نوآبادیات مخالف ہونے کا روس کا یہ ڈھونگ واقعی کسی کو قائل کر رہا ہے، جسے پروپیگنڈہ اور ڈس انفارمیشن کی مہمات سہارا دیتی ہیں؟ روسی اور ویگنر کے جھنڈے اٹھائے عوامی مظاہرے کیا حقیقت ہیں یا من گھڑت؟ کیا زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ روس ان کی اپنی حکومتوں، انتخابات اور معیشتوں پر کتنا اثر انداز ہو رہا ہے؟

عمومی سماجی ڈیٹا اس حوالے سے محدود معلومات فراہم کرتا ہے۔ ایفرو بیرومیٹر کے تازہ ترین سروے میں مختلف ملکوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ مالی روس کا ایک نیا مگر اہم اتحادی ہے۔ اس میں روس کے سیاسی و معاشی اثر و رسوخ کی مثبت عوامی رائے 2019-2021 میں 56 فیصد تھی جو 2023-2025 میں بڑھ کر 88 فیصد ہو گئی۔اس کے برعکس گنی میں، جہاں روسی کاروباری سرگرمیاں برسوں سے جاری ہیں، وہاں روس کے بارے میں مثبت رائے انہی برسوں میں 63 فیصد سے گر کر 49 فیصد رہ گئی۔اسی دوران افریقہ میں روس کے بارے میں مجموعی مثبت تاثر (36 فیصد) ہے، جوچین (62 فیصد)، امریکہ (52 فیصد)، یورپی یونین (50 فیصد) اور بھارت (39 فیصد) سے نمایاں طور پر کم ہے۔

دل جیتنے اور ذہن بدلنے کی کریملن کی کوششوں کے نتائج غیر مستقل ضرور ہیں، مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ کچھ حلقے روس کی موجودگی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ماسکو اس خطے میں بڑی طاقتوں کی مسابقت کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، جس کا ثبوت روسی ہاؤسز جیسے ”سافٹ پاور“ اداروں کی بڑھتی تعداد، سکیورٹی ڈھانچوں کے پھیلاؤ، اور طویل المدتی انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری سے ملتا ہے۔

عالمی منظرنامے میں اینٹی کلونیل بیانیے کے روسی استحصال، خصوصاً افریقی معاشروں کی ”آزادی“ کے دعوے نے بائیں بازو کے کچھ حلقوں میں محدود مگر قابل غور اثر ضرور ڈالا ہے۔ کریملن سے منسلک پروپیگنڈہ نیٹ ورکس کے علاوہ یہ بیانیہ بعض سطحی، غیر علمی تبصرہ نگاروں، آن لائن انفلوئنسرز، اور یہاں تک کہ پوری سیاسی جماعتوں (مثلاً جرمن ڈی کے پی) میں بھی گونجتا ہے، جو مغربی سامراجیت کی مخالفت تو کرتے ہیں مگر اس کی ”حریف“ طاقتوں کے غیر جمہوری اور رجعتی کردار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ایسی سوچ میں افریقہ میں روسی سرگرمیوں کو اکثر ان موقفوں کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ منطق نہ صرف حد درجہ ویسٹرن سنٹرک (Western-centric)ہے،یعنی کیمپ ازم کے مطابق بڑے جرائم صرف مغرب ہی کر سکتا ہے، بلکہ نہایت خطرناک بھی ہے۔ یہ ان ترقی پسند جدوجہدوں کو نقصان پہنچاتی ہے جو ان حکومتوں کے خلاف ہوتی ہیں جو خود کو مغرب مخالف ظاہر کرتی ہیں، چاہے وہ روس ہو، ایران یا وینزویلا۔اسی دوران ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں سے تعلق رکھنے کے باوجود، روس اور امریکہ کی قدامت پسند اشرافیہ مشترکہ مفادات کے لیے میل جول بڑھاتی رہتی ہے، اور اپنے ”فاشسٹ انٹرنیشنل“ کے منصوبوں پر بات کرتی ہے اور الاسکا میں مصافحہ بھی کرتی ہے۔موجودہ عالمی نظام، جسے سرمایہ تشکیل دیتا ہے اور ریاستیں نافذ کرتی ہیں، میں حقیقی آزادی کا راستہ صرف وہ بین الاقوامی،اینٹی کلونیل تحریکیں فراہم کر سکتی ہیں جو دونوں ”کیمپوں“ کے عام لوگوں کے ساتھ یکساں یکجہتی پر مبنی ہوں، اور جو استحصال کا شکار طبقات کے لیے حقیقی نجات کا راستہ پیش کریں۔

(بشکریہ: ’لنکس‘، ترجمہ: حارث قدیر)

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں