قمرالزماں خاں
جنگوں میں دو طرح کی تباہی ہوتی ہے۔ ایک طرف محاذِ جنگ پر لڑنے والے سپاہی مارے جاتے ہیں اور تباہی کی زد میں آنے والی عام آبادی جانی و مالی نقصان اٹھاتی ہے۔ دوسری طرف جنگ کے باعث بیروزگاری، کساد بازاری، تجارت میں تعطل، آسٹیریٹی (سرکاری طور پر کی جانے والی کٹوتیاں) اور چھوٹے بڑے کاروباروں کی بندش وغیرہ کے اثرات بھی محنت کش طبقے پر پڑتے ہیں۔
ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ کے الارم بجتے ہی سب سے بڑی آفت دنیا بھر کے محنت کش طبقات پر آن پڑی ہے۔ یوں ایک اور (طبقاتی) جنگ، جو اس بین الاقوامی تنازعے کے پس منظر میں جاری تھی، مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ چالیس روزہ جنگ کے نتیجے میں دسیوں لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی (عالمی ادارہ برائے ترقی) کے مطابق صرف مشرق وسطیٰ میں 36 لاکھ افراد روزگار سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ ان ممالک کی معیشتیں 3.7 سے 6 فیصد تک سکڑ سکتی ہیں جبکہ بیروزگاری کی شرح میں 4 فیصدی پوائنٹس تک اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر 3 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے گر جائیں گے۔ یہ تخمینے جنگ کی موجودہ کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے گئے ہیں۔ اگر یہ جنگ مزید شدت، طوالت یا وسعت اختیار کرتی ہے تو یہ معاشی بربادی کئی گنا بڑھ کر ایسی خوفناک شکل اختیار کر سکتی ہے جو باقاعدہ قحط سے مماثل ہو گی۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پہلے سے بے قابو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مزید برآں غریب جنوب ایشیائی ممالک کے کروڑوں محنت کش خلیجی ممالک میں مزدوری کرتے ہیں۔ جنہیں اگر برطرفیوں یا چھانٹیوں کا سامنا کرتا پڑتا ہے تو نہ صرف ان ممالک میں بیروزگاری کئی گنا بڑھ جائے گی بلکہ ترسیلاتِ زر کی بندش سے ان کی پہلے سے بحران زدہ معیشتوں کا بھٹہ بالکل ہی بیٹھ جائے گا۔
لیکن خود ایران میں اس جنگ نے کیا ستم ڈھائے ہیں؟ اگرچہ موجودہ حالات میں صورتحال بالکل واضح نہیں ہے لیکن اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے 17 ہزار حملوں میں استعمال ہونے والے ہزاروں لاکھوں بموں اور میزائلوں نے کتنے گھروں، فیکٹریوں، سکولوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں اور روٹی و روزگار کے دیگر ذرائع کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہو گا۔ یوں جنگ کے سامراجی مقاصد کچھ بھی ہوں‘ اس کا اصل ہدف محنت کش طبقہ ہی بنتا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی جنگوں سے معیشتوں کی جو تباہی ہوتی ہے اس کا ازالہ ہمیشہ محنت کش عوام پر لگائی جانے والی کٹوتیوں اور برطرفیوں سے کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے حملے مزدوروں کی تنخواہوں اور مراعات پر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ افتاد یہیں ختم نہیں ہوتی۔ قلت اور مہنگائی سے محنت کشوں کو پہلے سے حاصل اجرتوں کی قوت خرید بھی گر جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ جنگ میں بھی ہو رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ہر شے کو مہنگا کر دیا ہے اور اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باعث محنت کش خاندانوں کی غربت مزید گہری ہو گئی ہے۔
ٹرانسپورٹ کی بندش اور لاک ڈاؤن وغیرہ کا اثر اگرچہ سب پر پڑتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے زیادہ بوجھ ایک بار پھر محنت کش طبقے کی مختلف پرتیں ہی اٹھا رہی ہیں۔ جنگ بالفرض آج بند ہو جاتی ہے تو بھی اس کے مذکورہ عسکری و معاشی اثرات طویل عرصے تک نظر آتے رہیں گے۔ علاوہ ازیں حالت ’’امن‘‘ میں بھی دنیا بھر میں فوجی بجٹ بڑھیں گے۔ اسلحہ سازی کے اس جنون کے لئے درکار سرمایہ بھی محنت کے استحصال کو مزید تیز کر کے حاصل کیا جائے گا۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سرمایہ داری بطور نظام ایک طویل عرصے سے بحران کا شکار ہے۔ 1973ء سے شروع ہونے والے اس بحران نے محنت کش طبقے سے وہ تمام حقوق، مراعات اور سہولیات چھیننے کی کوشش کی ہے جو اس نے ماضی کی طبقاتی جدوجہد اور انقلابی تحریکوں کے ذریعے حاصل کی تھیں۔ آج دنیا کے بیشتر خطوں میں مزدور کے حالات ماضی کی نسبت بہتری کی بجائے مسلسل ابتری کی طرف گامزن ہیں۔ ان میں ترقی یافتہ مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ جس سے ہمارے جیسے پسماندہ اور ازل سے بحران زدہ معاشروں کی حالت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
مستقل ملازمتیں، گریجویٹی اور پنشن جیسی مراعات اب ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ نہ صرف 1886ء (جب شکاگو کے محنت کشوں نے اوقات کار میں کمی کے لئے تاریخی قربانی دی تھی) بلکہ 1986ء سے بھی بالکل مختلف دنیا وجود میں آ رہی ہے۔ اِس سرمایہ دارانہ نظام میں جدید پیداواری طریقوں، خودکار مشینوں اور مصنوعی ذہانت وغیرہ کو انسان کی بہتری، آسودگی، اوقات کار میں کمی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی بجائے محنت کشوں کے استحصال کو مزید گہرا اور شدید کرنے کے لئے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ جبکہ ایک عالمگیر اور عمومی معاشی بحران کی کیفیت میں کچے اور جزوی روزگار کی غیر صنعتی اور انفارمل معیشت پھیل رہی ہے۔
پچھلی چند دہائیوں میں سروسز سیکٹر نے صنعت اور زراعت کے مقابلے میں بہت زیادہ وسعت اختیار کی ہے۔ زیادہ تر معیشتوں میں سروسز سب سے بڑا شعبہ بن چکا ہے جس سے اکثریتی مزدور وابستہ ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں یہ کل لیبر فورس کا تقریباً 80 فیصد ہیں۔ جبکہ چین، بھارت اور پاکستان میں تقریباً 40 فیصد۔ پاکستان میں روزگار کے حوالے سے یہ زراعت کے بعد دوسرا بڑا شعبہ ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر محنت کشوں کی تقریباً نصف تعداد اب سروسز سیکٹر سے وابستہ ہے۔
پاکستان میں سروسز سیکٹر میں یونین سازی زیادہ تر پبلک سیکٹر (سرکاری اداروں) تک ہی محدود ہے۔ محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے سروسز کے زمرے میں آنے والے نئے معاشی شعبہ جات عملاً قانون سے ماورا ہیں۔ اگرچہ ایک طبقاتی سماج میں قانون خود بھی طبقاتی ہوتا ہے۔ لیکن جو حقوق اور مراعات قانون میں موجود ہیں‘ ان پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اوقاتِ کار، اجرت، اوور ٹائم کے ضوابط کو نظر انداز کر کے مزدوروں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔
ریاستی حملوں، مزدور دشمن قانون سازی اور داخلی نظریاتی و تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے بیشتر صورتوں میں ٹریڈ یونین کا ادارہ محض علامتی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ٹریڈ یونین فیڈریشنوں کی تعداد دو سو کے قریب ہو چکی ہے۔ لیکن ان کی فعالیت اور دائرہ اثر سکڑ ہی رہا ہے۔ وہ مخصوص شعبوں تک محدود ہیں اور ایک نئی ابھرتی ہوئی مزدور دنیا ان کے لئے اجنبی بن چکی ہے۔ یہی خلا دراصل مزدور تحریک کے انقلابی عناصر اور مارکسی قوتوں کو ایک نیا میدانِ عمل فراہم کرتا ہے۔
کورونا کی عالمی وبا نے کام کے طریقہ کار کو مزید بدل دیا اور ’’گھر سے کام‘‘ کا رجحان بڑھا۔ لاکھوں مزدور سماجی جڑت اور طبقاتی یکجہتی سے محروم ہو گئے اور اس تنہائی اور بیگانگی کے ماحول میں ان کے استحصال میں مزید اضافہ ہوا۔ کئی کمپنیوں نے اجرتوں میں پچاس فیصد تک کٹوتیاں کیں۔ لیکن اسی دوران موبائل ایپس سے جڑی ٹیکسی اور ہوم ڈیلیوری سروسز اور آن لائن فری لانس اور ڈیجیٹل کام جیسے نئے شعبے بھی ابھرے۔ جن میں پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں بھی اب دسیوں لاکھ افراد کام کر رہے ہیں۔ یہ سب شدید استحصال کا شکار ہیں۔ لیکن باہمی روابط کی کمی کے باعث منظم جدوجہد میں داخل نہیں ہو پا رہے (اگرچہ گزشتہ سالوں میں ان کے محدود پیمانے کے احتجاج اور ہڑتالیں دیکھنے کو ملی ہیں)۔ اسی طرح گزشتہ دہائیوں میں نجی شعبے کے مزدور کئی مواقع پر پبلک سیکٹر کی نسبت زیادہ متحرک نظر آئے ہیں۔ لیکن روایتی نجی صنعت اور سروسز میں کام کرنے والے کروڑوں محنت کش بھی غیر منظم ہونے کے باعث بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ اگر غور کریں تو یہاں بھی ٹریڈ یونین عملاً ناپید ہے۔ آج کا انقلابی فریضہ ہے کہ ان شعبہ جات کے محنت کشوں کو منظم اور متحرک کیا جائے۔
اسی طرح حالیہ برسوں میں کلرکوں، اساتذہ، شعبہ صحت کے محنت کشوں اور دیگر سرکاری ملازمین کی تحریکیں نمایاں رہی ہیں۔ لیکن ان کی بڑی کمزوری ان کا غیر نظریاتی اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہونا ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے ٹھوس نظرئیے، لائحہ عمل اور نصب العین کے بغیر یہ تحریکیں محدود مطالبات یا جوڈیشل ایکٹوزم ( یعنی عدالتی بھول بھلیوں) کی نذر ہو جاتی ہیں۔ مظلوم طبقات کی کوئی بھی تحریک جو خود کو غیر سیاسی قرار دیتی ہے‘ لازماً دشمن استحصالی طبقے کی سیاست کا شکار بن جاتی ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ گزشتہ عرصے میں حکمرانوں کو پی آئی اے اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن جیسے اداروں کی نجکاری میں کامیابیاں ملی ہے۔ بلکہ موخرالذکر کو تو ویسے ہی تحلیل کر دیا گیا ہے جس سے 11 ہزار محنت کش بیروزگار ہوئے ہیں۔ یہ واقعات محنت کش طبقے اور مزدور تحریک کی بڑی پسپائی کے مترادف ہیں۔
2026ء کا یومِ مئی ایسے ہی کٹھن حالات میں آ رہا ہے۔ 1886ء کے مزدوروں کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے اہم سبق یہ ہے کہ مزدور کو اپنا ’’وقت‘‘ واپس لینا ہو گا۔ وہ وقت جو غیر متعین اوقاتِ کار نے چھین لیا ہے۔ آج 140 سال بعد اوقاتِ کار کا مسئلہ ایک بار پھر بنیادی مطالبات میں شامل ہو چکا ہے۔ لیکن آج یہ مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بھی ہو گیا ہے۔ آن لائن اور انفارمل (غیر دستاویزی) معیشت اور کچی نوکریوں کے مزدور عملاً غیر محدود و غیر معینہ وقت کے لئے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں صرف محنت کش طبقے کی غریب اور غیر مراعت یافتہ یا ’بلیو کالر‘ پرتیں ہی نہیں بلکہ بینکوں اور آئی ٹی کمپنیوں وغیرہ میں کام کرنے والے وائٹ کالر مزدور بھی شامل ہیں۔ جنہیں ای میل اور موبائل فون کے ذریعے چوبیس چوبیس گھنٹے ’آن ڈیوٹی‘ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک نئی قسم کی غلامی ہے۔
یہ سب بطور طبقہ‘ محنت کشوں میں جڑت کے فقدان اور مزدور و ٹریڈ یونین تحریک کی گہری زوال پذیری کا نتیجہ ہے۔ آج مزدوروں کے مسائل اور جدوجہد کو طبقاتی کشمکش کے سائنسی انقلابی نظرئیے کے بغیر نہ سمجھا جا سکتا ہے‘ نہ لڑا جا سکتا ہے۔ اس نظام میں مصنوعی ذہانت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت نے محنت کشوں کی زندگی کو آسان کرنے کی بجائے طبقاتی جبر و استحصال کو بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ سرمایہ داری کا مطمع نظر انسانی ضروریات کی تکمیل اور فلاح نہیں بلکہ منافع خوری ہے۔ بیروزگاری، قلیل اجرت اور پست و روبہ زوال معیارِ زندگی جیسے مسائل آج بھی اربوں انسانوں کو جکڑے ہوئے ہیں۔ ان ذلتوں سے نجات کے لئے استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ عہد حاضر کا یہ بنیادی اور اہم ترین فریضہ محنت کش طبقے کو ہی ادا کرنا ہے۔ تاکہ انسان روٹی روزی کی نہ ختم ہونے والی فکر سے آزاد ہو کے امن، آسودگی، اور بہتات کے ضامن حقیقی انسانی سماج کی تعمیر کر سکے۔