روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سعودی عرب: ٹرمپ کے لیے لیونڈر کارپٹ، غزہ میں نسل کشی

سعودی عرب: ٹرمپ کے لیے لیونڈر کارپٹ، غزہ میں نسل کشی

روبن تزانوف

جب فلسطین اسرائیلی محاصرے میں لہو لہان ہے، عرب بادشاہتیں ٹرمپ کا شاندار استقبال کر رہی ہیں اور کروڑوں ڈالر کے معاہدے کر رہی ہیں۔ آمریت پسند سرمایہ داروں کے درمیان بننے والے یہ اتحاد جان بوجھ کر فلسطینی عوام کی اذیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ نہ ٹرمپ، نہ بادشاہ، نہ قبضہ! مشرقِ وسطیٰ کو سوشلسٹ انقلاب کی ضرورت ہے۔

حماس کی جانب سے ایک اور یرغمالی کی رہائی

12 مئی کو حماس نے امریکہ اور دیگر ثالث ممالک سے بات چیت کے بعد 21 سالہ ایڈن الیگزینڈر کو رہا کر دیا، جسے ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا۔ یہ کارروائی حماس، امریکہ، مصر اور قطر کے درمیان ہم آہنگی سے انجام دی گئی۔ اسرائیلی امریکی سپاہی کی رہائی کو حماس کی طرف سے نئی امریکی انتظامیہ کے لیے ایک اشارے اور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ’جنگ بندی حاصل کی جائے، سرحدی راستے کھولے جائیں اور غزہ میں انسانی امداد فراہم کی جائے‘،وہ غزہ جو اسرائیلی محاصرے کی زد میں ہے۔

سیاست اور نجی کاروبار

13 مئی کو ڈونلڈ ٹرمپ ارب پتی تاجروں کے ہمراہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر روانہ ہوئے۔ یہ دورہ 16 مئی کو مکمل ہوگا اور جنوری 2025 میں دوسرا صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد پوپ کے جنازے میں شرکت کے علاوہ یہ ان کا پہلا غیر ملکی سرکاری دورہ ہے۔

ٹرمپ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے سرکاری ایجنڈے کو اپنے خاندانی کاروبار سے جوڑ رکھا ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اعلان کیا کہ قطر حکومت کی طرف سے انہیں بوئنگ 747-8 طیارہ تحفے میں دیا جا رہا ہے، جو ان کی صدارت کے بعد ذاتی استعمال کے لیے ’نیو ایئر فورس ون‘ بنے گا۔ اسی طرح سعودی عرب میں ان کے خاندان کے 6 معاہدے ایک ریئل اسٹیٹ کمپنی کے ساتھ زیر التوا ہیں جس میں سعودی ولی عہد کی اکثریتی شراکت داری ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے بعد ان کی کمپنیوں کی مالیت میں کم از کم 2.4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔

کروڑوں ڈالر کے تجارتی معاہدے

دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور طے پانے والے معاہدوں نے اس دورے کے دائرہ کار اور مقاصد کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کی تصدیق کر دی ہے۔

ریاض میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ایک تاریخی 600 ارب ڈالر کے معاشی و عسکری شراکت داری معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے میں شامل اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • 142 ارب ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیاروں کی سعودی عرب کو فروخت
  • امریکی کمپنیوں گوگل اور اوریکل کی جانب سے مشترکہ منصوبوں میں 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ
  • سعودی کمپنی ڈیٹا وولٹ (DataVolt) کی جانب سے امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
  • 4.8 ارب ڈالر مالیت کے بوئنگ طیاروں کی فروخت
  • 5.8 ارب ڈالر کی لاگت سے امریکی ریاست مشی گن میں ایک صنعتی پلانٹ کی تعمیر

احمد الشرع سے ملاقات

اس کے علاوہ ریاض میں ٹرمپ نے شام کی تنظیم برائے آزادی شام (ہیت تحریر الشام/HTS) کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق ٹرمپ نے الشرع پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدے پر دستخط کریں، غیر ملکی اور فلسطینی ’دہشت گردوں‘کو ملک بدر کریں، داعش کے خلاف امریکہ سے تعاون کریں، اور کچھ سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔یہ تمام اقدامات شام پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قیمت کے طور پر رکھے گئے، جنہیں ٹرمپ کے بقول وہ پہلے ہی ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

اس ملاقات کی علاقائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں محمد بن سلمان کے ساتھ ساتھ ترک صدر رجب طیب اردگان بھی بذریعہ ٹیلی فون شریک تھے، جو شام کی اسلام پسند حکومت کے سرپرست سمجھے جاتے ہیں۔

توہین آمیز اور شرمناک تضاد

رجعت پسند سعودی بادشاہت نے ڈونلڈ ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا۔ ایک پُرتعیش تقریب منعقد کی گئی اور لیونڈر رنگ کی قالین بچھا ئی گئی۔ اس طرح ایک ایسے دورے کا آغاز ہوا جس کے تمام مراحل محلات اور آسائشوں میں گزریں گے،اور دوسری طرف خطے میں تباہی، دہشت اور بدحالی کا راج ہے۔

ریاض، دوحہ اور ابوظہبی کے دارالحکومتوں میں عرب بادشاہتیں انتہائی دائیں بازو کے صدر کو ’ریڈ کارپٹ‘پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہہ رہی ہیں، جن سے ٹرمپ کا اشتراک صرف آمرانہ طرزِ حکومت کا نہیں بلکہ ایسے منافع بخش کاروباروں کا بھی ہے جن سے اربوں کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

محض چند ہزار کلومیٹر دور فلسطین ہے، جہاں اسرائیلی ریاست نسل کشی میں مصروف ہے۔ اس کے آس پاس لبنان، شام اور یمن ہیں، جو صہیونی جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ایران بھی ہے، جس کے بنیاد پرست حکمران طبقے سے سامراجی طاقتوں نے گزشتہ ہفتے عمان میں مذاکرات کا آغاز کیا ہے، جن کا مقصد اس کے ایٹمی پروگرام کو محدود یا ختم کرنا ہے۔

سامراجی اور نوآبادیاتی قوتیں باہر نکل جائیں!
ہم ٹرمپ کی موجودگی اور امریکی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ وہی مداخلت ہے جو اسرائیلی ریاست کی سب سے بڑی پشت پناہی ہے!
ہم مشرق وسطیٰ میں سامراجی اور نوآبادیاتی طاقتوں کی موجودگی کے خلاف ہیں!
ہم اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے قتل عام اور دیگر عرب اقوام پر جارحیت کے دوران سامراجی رہنماؤں کو دوست اور شراکت دار کے طور پر خوش آمدید کہا جائے!
غزہ میں نسل کشی بند کی جائے،اور لبنان اور دیگر ممالک پر حملے روکے جائیں!

ان مظالم کا سامنا کرنے کے لیے تحریک اور تنظیم سازی ہی واحد راستہ ہے، تاکہ مغرب اور مشرق وسطیٰ کے جابروں کو شکست دی جا سکے، اور ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو پائیدار اور منصفانہ امن، سماجی و جمہوری حقوق کی ضمانت دے۔ یہ راستہ سوشلسٹ انقلاب کا راستہ ہے۔

(بشکریہ: ’آئی ایس ایل‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Ruben Tzanoff
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں