روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

سیاسی کارکنوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات کا سلسلہ بند کیا جائے: این ایس ایف

سیاسی کارکنوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات کا سلسلہ بند کیا جائے: این ایس ایف

راولاکوٹ(پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا مرکزی اجلاس 2اگست، بروز ہفتہ مرکزی سیکرٹیریٹ راولاکوٹ میں منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت مرکزی صدر کامریڈ خلیل بابر نے کی جبکہ مرکزی کابینہ کے ممبران سمیت ضلعی عہدیداران، تعلیمی اداروں کے نمائندگان و دیگر نے اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔

اجلاس میں خصوصی طور پر 20ستمبر کو راولاکوٹ کے مقام پر این ایس ایف کے بائیسویں مرکزی کنونشن کے انعقاد کے حوالہ سے عملی اقدامات کی منصوبہ بندی کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ بائیسویں مرکزی کنونشن کو ”عزم انقلاب کنونشن“ کے نام سے منسوب کرنے اور اس سے قبل طلبہ مسائل کے حوالہ سے ”طلبہ کاروان“ کے نام سے مرکزی احتجاجی ریلی کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 20 ستمبر کو ہونے والے اس کنونشن کے مرکزی جلسہ میں ”جموں کشمیر کامسئلہ اور اس کا انقلابی حل“ کے موضوع کو زیر بحث لایا جائے گا۔ عزم انقلاب کنونشن کے انعقاد کے لئے انتظامی کمیٹیوں اور بیوروز کی تشکیل کے ساتھ ہی باضابطہ طور پر کنونشن کی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مہم کے سلسلہ میں نئی رکنیت سازی، پرانی رکنیت کی تجدید کے ذریعے ریکارڈ مرتب کرنے، تعلیمی اداروں میں کنونشن مہم کیمپوں، ضلعی ہیڈکوارٹروں و تعلیمی اداروں سمیت دیگر ذیلی یونٹوں کے اجلاسوں، سٹڈی سرکلز، بنیادوں یونٹوں کی ازسر نو تشکیل، لیفلٹ، پوسٹرز، سٹیکرزاور دیگر لٹریچر کی اشاعت،وال چاکنگ سمیت دیگر اہداف کا تعین بھی اس اجلاس میں کر لیا گیا ہے۔

راولاکوٹ میں منعقدہ اجلاس سے مرکزی صدر کامریڈ خلیل بابر کے علاوہ سابق صدور راشد شیخ اور بشارت علی خان نے بھی خصوصی خطاب کیا۔جبکہ ان کے علاوہ اجلاس کے شرکاء سے مرکزی ایڈیٹر عزم بدر رفیق، ڈپٹی چیف آرگنائزر ارسلان شانی، چیئرمین سٹڈی سرکل ڈاکٹر سعد الحسن، چیئرمین مالیاتی بورڈ دانش یعقوب، چیئرمین ضلع پونچھ مجیب خان،احسان ذاکر، عادل فاروق، علیزہ اسلم، فیضان عزیز،، مریم شعیب، عبد الوہاب، دانش فدا، فیضان طارق، قدوس خان، سالک راشد، حارث فیضی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اجلاس کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں این ایس ایف کے مرکزی ڈپٹی چیف آرگنائزر ارسلان شانی و دیگر پر قائم کردہ بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی کارکنان پر قائم کئے جانے والے جھوٹے مقدمات کو فی الفور واپس لئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس اعلامیہ میں گزشتہ دنوں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ریاستی دہشت گردی کے واقعہ کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جامعات سمیت تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کی بدمعاشیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں کی مداخلت و دھونس کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر و دیگر کا کہنا تھا کہ این ایس ایف کا یہ کنونشن تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر منعقد کیا جارہا ہے۔ سامراجیت اپنے عروج پر ہے اور عالمی سطح پر جموں کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر منظرنامے پر موجود ہے۔ سامراجی حکمران ایک بار پھر کوشش کر رہے ہیں کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی و منشاء کے بغیر سامراجی مقاصد و مفادات کے تابع کیا جائے۔

یہ کنونشن جہاں اس خطے میں طلبہ کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے اور طلبہ و نوجوانوں کو انقلابی سیاست و نظریات کی جانب راغب کرنے کا باعث بنے گا، وہیں جموں کشمیر کے قومی مسئلے کی درست وضاحت کرنے اور نوآبادیاتی خطوں میں بسنے والے انسانوں کی آزادی کی جدوجہد کا حقیقی روڈ میپ بھی فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اس خطے میں عوام لمبے عرصے سے ایک تحریک میں موجود ہیں۔ یہ تحریک نوآبادیاتی ڈھانچے اور نیو لبرل پالیسیوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ تاہم معاشی مطالبات کو سیاسی پروگرام کے ساتھ جوڑنے اور واضح پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت اب ناگزیر ہوچکی ہے۔ نوآبادیاتی خطوں میں حق حکمرانی اور حق ملکیت کے سوالات ابھارنے کے بعد ان کے حصول کا روڈ میپ درکار ہوتا ہے۔ آج کے عہد میں یہ روڈ میپ اور پروگرام صرف مارکسزم کے سائنسی نظریات کی بنیاد پر وضع کیا جا سکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی نشستیں اس اسمبلی پر سامراجی تسلط کو برقرار رکھنے، حکومتیں بنانے اور ان پر بالواسطہ کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے مسلط کی گئی ہیں۔ ان نشستوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم لمبے عرصے سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ حقیقی حق حکمرانی اور حق ملکیت کی عوام کو منتقلی کے لیے ابتدائی طور پر جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو آئین سازی اور قانون سازی کے اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔ جب تک نوآبادیاتی ایکٹ کے تحت ایک ٹوتھ لیس اسمبلی کے ذریعے اس خطے کا انتظام چلایا جاتا رہے گا، تب تک حق حکمرانی کی جانب ایک قدم آگے نہیں بڑھا جاتا۔ انکا کہنا تھا کہ آج تک جموں کشمیر کے باسی سبجیکٹس کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ آج کے عہد میں بھی ہمیں انسان تصور نہیں کیا جارہا، نہ ہی آزاد شہری تصور کیا جا رہا ہے۔

برصغیر میں بسنے والے انسان برطانوی سامراج کے زیر سایہ سبجیکٹس کے طور پر طویل عرصہ غیر انسانی حالات میں زندہ رہے ہیں۔ تاہم غلامی کی یہ سیاہ رات جموں کشمیر کے لوگوں کے لیے آج بھی جاری ہے۔ تب تاج برطانیہ کے ساتھ وابستگی کا حلف دیے بغیر زندہ رہنا اور کوئی ریاستی سروس حاصل کرنا محال تھا۔ تاہم جموں کشمیر کے لوگوں کے لیے یہ صورتحال ہر تین اطراف آج بھی ویسی ہی ہے۔ سفر اور دیگر ضروریات کے لیے ہر دو ملکوں کی شناختی دستاویزات استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اب ناگزیر ہے کہ رعایہ والی زندگی سے شہری اور آزاد انسان والی زندگی کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ جموں کشمیر این ایس ایف اس جدوجہد کو حتمی منزل سوشلسٹ انقلاب کے حصول تک جاری رکھے گی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں