روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

طلبہ یونین جے این یو کے انتخابات میں بائیں بازو کے اتحاد کا کلین سویپ، آدتی مشرا صدر منتخب

طلبہ یونین جے این یو کے انتخابات میں بائیں بازو کے اتحاد کا کلین سویپ، آدتی مشرا صدر منتخب

لاہور(جدوجہد رپورٹ)جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) دہلی کے طلبہ یونین کے انتخابات میں بائیں بازو کے اتحاد نے کلین سویپ کرتے ہوئے چاروں عہدے جیت لیے ہیں۔ آدتی مشرا یونین کی نئی صدر منتخب ہو گئی ہیں، جبکہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی زیرسرپرستی کام کرنے والی ہندو قوم پرست تنظیم اے بی وی پی کو تمام نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کل 9540 ووٹرز میں سے تقریباً 6390 طلبہ نے ووٹ کاسٹ کیے، جس کے مطابق ووٹنگ کا تناسب تقریباً 67 فیصد رہا۔ صدرکے عہدے پر لیفٹ الائنس کی امیدوار آدتی مشرا نے 1861 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل اے بی وی پی کے وکاس پٹیل کو 1447 ووٹ ملے۔ اس طرح بائیں اتحاد کی امیدوار کو 414 ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی۔

نائب صدر کے عہدے پر کے گوپیکا بابو نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ انہیں 2966 ووٹ ملے، جب کہ ان کی حریف تنیا کماری (اے بی وی پی) نے 1730 ووٹ حاصل کیے۔ یہ اس انتخاب کا سب سے بڑا مارجن تھا۔

جنرل سیکریٹری کی نشست پر سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ سنیل یادو (لیفٹ الائنس) نے 1915 ووٹ حاصل کیے جبکہ راجیشور کانت دوبے (اے بی وی پی) نے 1841 ووٹ لیے۔ مارجن محض 74 ووٹوں کا رہا، جو اس الیکشن کا سب سے قریبی نتیجہ تھا۔

جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لیے دانش علی (لیفٹ الائنس) نے 1991 ووٹ حاصل کیے اور انو ج دمارا (اے بی وی پی) کو 1762 ووٹ ملے۔ اس طرح بائیں اتحاد نے آخری نشست بھی اپنے نام کر لی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس سال ووٹنگ کا تناسب گزشتہ برس کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی اس بات کی علامت ہے کہ طلبہ میں انتخابی جوش و خروش پہلے جیسا نہیں رہا، یا پھر پولنگ کے عمل میں مشکلات پیش آئیں۔

انتخابات سے قبل لیفٹ الائنس نے اپنی مہم میں ہاسٹل کے مسائل، فیسوں میں اضافے، طلبہ کے حقوق، اور یونیورسٹی کے جمہوری ماحول کو مرکزی نکتہ بنایا تھا۔ ان کے امیدواروں نے کہا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں تعلیم کے حق، مساوات، اور طلبہ کی آواز کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کا اعادہ ہیں کہ جے این یو بدستور بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کا مضبوط مرکز ہے۔ تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا نئی قیادت اب اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا پائے گی یا یہ جیت صرف علامتی ثابت ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اے بی وی پی کے لیے یہ نتیجہ ایک جھٹکا ہے، مگر لیفٹ الائنس کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے نظریاتی موقف کو عملی سطح پر کس طرح ثابت کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں نئے منتخب نمائندوں کے اقدامات سے یہ واضح ہوگا کہ جے این یو کی طلبہ سیاست کس سمت جا رہی ہے، اورکیا یہ اب بھی مزاحمت اور فکری آزادی کی روایت کو آگے بڑھائے گی یا محض رسمی سیاست تک محدود رہے گی۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں