سوشوان دھر
ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل کی فلسطین پر مسلط کی گئی جنگ غزہ میں تباہی اور انسانی المیے کا باعث بن رہی ہے، عرب بادشاہتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال اور اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کرنے میں مصروف رہیں۔ 13 سے 16 مئی کے درمیان ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پوپ کے جنازے میں شرکت کے بعد یہ ان کا پہلا سرکاری غیر ملکی دورہ تھا۔ صدر کا یہ دورہ اس وقت ہوا جب ایران کے ساتھ جاری ایٹمی مذاکرات، غزہ میں جاری نسل کشی، اور شام پر سے پابندیاں ہٹانے کے امکانات پر بات چیت جاری تھی۔
یہ دورہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ کے تجارتی محصولات (ٹیرف) بڑھانے کی کوشش ناکام ہو چکی تھی، جسے عالمی مخالفت، امریکی عوام کی اکثریت، اور بڑے سرمایہ داروں کے دباؤ پر واپس لے لیا گیا۔ ان کی ٹیرف پالیسی نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور مسلسل معاشی افراتفری کو جنم دیا۔ دی اکنامسٹ نے لکھاکہ ’’یہ حماقتوں کی فہرست امریکہ کو بلاوجہ نقصان پہنچائے گی۔ صارفین کو مہنگائی اور انتخاب کرنے کے لیے محدود آپشنز کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘یقینا بھارت کی حکمران اشرافیہ جیسے ان کے وفادار حامی اس یکطرفہ اقدام پر خاموش رہے اور آج بھی ہیں۔
ناراض عرب
عرب دنیا کے عوام ٹرمپ سے شدید ناراضی رکھتے ہیں۔ وہ امریکی حکومت کی اسرائیل کی غزہ میں جاری قتل و غارت میں شراکت کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ یہ المناک صورتحال 19 مہینوں سے جاری ہے، جس میں اسرائیل نے کم از کم 64ہزار فلسطینیوں کو ہلاک کیا، تمام اسپتالوں اور اسکولوں کو تباہ کیا، اور خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن سمیت انسانی امداد کو روک رکھا ہے۔ٹرمپ کو اس لیے بھی مسترد کیا جاتا ہے کہ وہ ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ یمن پر ان کے تباہ کن فضائی حملے، شام پر سخت پابندیاں، اور لبنان و شام میں اسرائیلی جارحیت کی حمایت ان کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
فی الحال ٹرمپ نے اپنی جارحانہ سامراجی شبیہ کو پس پشت ڈال کر خود کو’’امن ساز‘‘کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خود کو خطے میں بگڑتے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرنے والے کے طور پر پیش کیا۔ ظاہر ہے ان تمام اقدامات کا مقصد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قیام کے دوران ٹرمپ نے حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا۔نتیجے میں ایک امریکی نژاد اسرائیلی قیدی کی رہائی ممکن ہوئی، بدلے میں غزہ کے لیے انسانی امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی۔
2 مارچ سے اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد غزہ کے 5 لاکھ سے زائد شہری فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ’’غزہ میں قحط کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے کیونکہ انسانی امداد بشمول خوراک، جان بوجھ کر روکی جا رہی ہے۔غزہ کی پوری 21 لاکھ آبادی کو طویل مدتی غذائی قلت کا سامنا ہے، جن میں سے تقریباً 5 لاکھ افراد شدید بھوک، غذائی کمی، فاقہ کشی، بیماری اور موت کے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ دنیا کے بدترین بھوک کے بحرانوں میں سے ایک ہے، جو ہمارے سامنے رونما ہو رہا ہے۔‘‘
امریکہ نے ایران کے ساتھ عمان اور اٹلی میں چار دور کی بات چیت کی ہے، جس کا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے مغربی ایشیائی اتحادیوں ، یعنی لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں، اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں کوبات چیت میں شامل کرناہے۔جوابی طور پر امریکہ ایران پر سے کچھ پابندیاں ہٹانے اور براہ راست یا اسرائیل کے ذریعے کسی بھی عسکری کارروائی سے گریز کرنے پر تیار ہے۔ موجودہ مذاکرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب ہیں، جیسا کہ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں سے باز رہنے کی ہدایت سے ظاہر ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یمنی حوثیوں کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدہ طے کیاہے ، جس میں عمان کی حکومت نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ اس معاہدے کے بعد امریکہ نے یمن پر عسکری حملہ منسوخ کر دیا۔ یہ فوجی کارروائی حوثیوں کو شکست دینے کی بجائے انہیں کسی نمایاں حد تک کمزور کرنے میں ناکام رہی۔ حوثیوں نے اب تک 7 امریکی ڈرون مار گرائے ہیں، جن کی فی کس قیمت 3 کروڑ ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں 6 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے دو جنگی طیارے تباہ کیے۔ اس 50 روزہ حملے کی لاگت 1 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق اس ناکامی کے علاوہ یہ امریکی جارحیت ٹرمپ کے عرب دورے کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔ حوثیوں کے پاس نہ صرف خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے بلکہ وہ سعودی دارالحکومت ریاض پر بھی حملہ کر سکتے ہیں۔حوثیوں کے ساتھ ہونے والا معاہدہ امریکی مفادات پر حملوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ تاہم حوثی فی الحال اسرائیل کے حق میں کسی بھی قسم کی نرمی پر آمادہ نہیں۔ اسرائیلی اہداف پر ان کے حملے بدستور جاری ہیں۔
عام یمنی شہری البتہ ’اسرائیلی بمباری، امریکی پابندیوں اور حوثیوں کے درمیان ‘پس رہے ہیں۔
کروڑوں ڈالر کے معاہدے
ملکی اور عالمی سطح پر امریکی صدر کو اپنے ذاتی کاروباری مفادات کو سرکاری دورے کے ساتھ خلط ملط کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ قطری حکومت انہیں ایک بوئنگ747-8طیارہ ’تحفے‘ میں دے رہی ہے، جو نیا ’ایئر فورس ون‘ہوگا۔ مدت صدارت کے اختتام پر وہ اسے ذاتی استعمال میں رکھیں گے۔سعودی بادشاہت ایک ایسی رئیل اسٹیٹ کمپنی میں اکثریتی حصص رکھتی ہے جو ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ 6 معاہدے کر چکی ہے۔ یاد رہے اپنی پہلی صدارتی مدت (2017-2020) کے دوران ان کے کاروبار نے خوب ترقی کی۔ پہلے تین برسوں میں انہوں نے تقریباً 65 کروڑ ڈالر سالانہ کمائے۔ البتہ کووڈ19وبا کے باعث 2020 میں ان کی آمدنی صرف 45 کروڑ ڈالر رہی، کیونکہ عالمی معیشت سکڑ گئی تھی۔
ریاض میں ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک تاریخی اقتصادی اور عسکری معاہدے پر دستخط کیے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق’’سعودی عرب کی 600 ارب ڈالر کی امریکہ میں سرمایہ کاری کی کمٹمنٹ دونوں ممالک کے درمیان ایک دیرپا اقتصادی رشتہ قائم کرے گی۔ ان معاہدوں سے ہماری توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی اور اہم عالمی وسائل تک رسائی مضبوط ہوگی۔‘‘
ان معاہدوں میں سعودی عرب کو 142 ارب ڈالر کے اسلحہ کی فروخت،گوگل اور اوریکل کے مشترکہ منصوبے میں 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری،سعودی کمپنی ڈیٹا وولٹ کی جانب سے امریکی ڈیٹا سینٹرز میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری،سعودی کمپنی AviLeaseکی جانب سے بوئنگ طیاروں کی 4.8 ارب ڈالر مالیت کی خریداری،اورشامخIVسیلوشنز، ایل ایل سی کی جانب سے مشیگن میں 5.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے IV فلوئڈ کا بڑا پیداواری مرکز قائم کرنے جیسے شامل ہیں۔
سعودی بادشاہت نے ٹرمپ کا استقبال ایک شاہانہ تقریب سے کیا ،جس میں مخصوص ’لیوینڈر‘(ارغوانی)قالین بچھایا گیا۔ 2021 سے سعودی عرب سرخ کے بجائے ارغوانی رنگ استعمال کرتا ہے، جو ان کے بقول سعودی شاہی خاندان کی عظمت کی علامت ہے۔ٹرمپ کے دورے میں انہیں مختلف محلات میں لے جایا گیا اور پرتعیش نمائشوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس دوران ریاض سے محض دو ہزار کلومیٹر دور کے خطے میں تباہی، خوف اور انسانی المیہ جاری تھا۔
امریکی حمایت یافتہ اسرائیلی بمباری غزہ میں انسانی تاریخ کے بڑے جرائم میں سے ایک بن چکی ہے۔ لبنان، شام اور یمن کے عام شہری بھی اسی نوعیت کی جارحیت کا شکار ہیں۔ اسرائیل نے ایران پر بھی حملے کیے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے عمان میں ایران سے مذاکرات شروع کیے ہیں تاکہ ’ملائیت پر مبنی حکومت‘ کے ایٹمی پروگرام کو ختم یا محدود کیا جا سکے۔
ٹرمپ اور عرب بورژوازی کاروباری معاہدوں میں مصروف تھے اور دوسری جانب غزہ کی تباہی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ امریکی صدر کے مغربی ایشیا کے دورے کے دوران اسرائیلی بمباری میں شدت آئی۔ 15 مئی کو ’نکبہ ڈے‘ کے موقع پر 100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے۔یہ واضح ہے کہ امریکی پشت پناہی کے بغیر اسرائیل ایسی جارحیت جاری نہیں رکھ سکتا۔
اسی دوران ٹرمپ کے ہمسفر اور ارب پتی ایلون مسک اس قتل عام پر محض خاموش نہیں رہے، بلکہ اس کی حمایت کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ’’حماس کو ختم کر کے غزہ کے ساتھ ویسا سلوک کیا جائے جیسا امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان کے ساتھ کیا تھا۔‘‘عرب بادشاہوں کا ان مظالم کے حامیوں سے میل جول نہ صرف فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک ہے بلکہ عرب دنیا کے عام شہریوں کی بھی توہین ہے۔
قطر میں امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے موجودہ امریکی صدر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت قطر 100 ارب امریکی ڈالر کے عوض 210 طیارے خریدے گا۔ دستخط کے موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ بوئنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا طیاروں کا آرڈر ہے۔ یہ بہت اچھا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ
’’تو یہ ایک نیا ریکارڈ ہے، کیلی اور بوئنگ کو مبارکباد ہو۔‘‘
دوحہ کے امیر نے امریکہ کے العدید فوجی اڈے کی تزئین و آرائش کے لیے 38 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا، جہاں تقریباً 8ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ منصوبہ امریکی دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے فائدہ مند ہوگا، جو اسرائیل کو اسلحہ فروخت کر کے بڑی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ایک سفارتی اشارے کے طور پر امیر قطر نے امریکی صدر کو ایک بوئنگ 747-8طیارہ تحفے میں دیا، جسے کچھ لوگ رشوت بھی سمجھتے ہیں۔ سیاسی و اخلاقی اعتراضات کے باوجود امریکی صدر نے یہ تحفہ بخوشی قبول کر لیا۔
اپنے دورے کے اختتام پر انہوں نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ 200 ارب ڈالر کے معاہدے کا اعلان کیا، جس میں وہاں ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مرکز قائم کرنا اور امریکہ میں ہائیڈروکاربن صنعت میں سرمایہ کاری شامل ہے۔
احمد الشرع سے ملاقات
ریاض میں امریکی صدر نے شام کے عبوری صدر اور ’ہیت تحریر الشام‘کے سربراہ احمد الشرع سے ملاقات کی، جو چند ماہ پہلے تک ناقابل تصور سمجھی جاتی تھی۔ یہ ملاقات اگرچہ مختصر (37 منٹ) رہی، لیکن اس کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ ٹرمپ نے گفتگو کے بعد کہا کہ’’مجھے لگتا ہے کہ اس میں صلاحیت ہے۔‘‘
یہ وہی احمد الشرع ہیں جن پر پہلے دہشت گرد ہونے کا لیبل لگا تھا اور جن کے سر کی قیمت 1 کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی، اور دسمبر میں ہی واپس لی گئی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے الشرع پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدے پر دستخط کریں،غیر ملکی اور فلسطینی جنگجوؤں کو ملک بدر کریں،دوبارہ ابھرنے والی داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون کریں اور چند سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔
یہ اقدامات امریکہ کی جانب سے شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے سے مشروط ہیں۔ اگرچہ دورے سے قبل ہی ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ وہ ان پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ اس ملاقات کی علاقائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی ٹیلیفون کے ذریعے گفتگو میں شرکت کی۔ ترکی شام میں اسلامی بنیاد پرست حکومت کا زبردست حمایتی ہے۔
یہ سابق جہادی اب امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیتاب دکھائی دیتا ہے۔ اس نے ٹرمپ کو ایک تجویز دی کہ شام کے تیل اور گیس کو گروی رکھ کر دمشق میں ایک ’ٹرمپ ٹاور‘(شاپنگ مال) تعمیر کیا جائے۔ بظاہر شامی صدر یوکرین اور امریکہ کے درمیان ہونے والے نیم نوآبادیاتی معاہدے کی طرز پر کچھ منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ الشرع نے 1974 میں آمر حافظ الاسد اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھنے کا وعدہ بھی کیا، اور شام میں مقیم فلسطینی اسلامی جہاد کے دو اراکین کو گرفتار بھی کر لیا۔
چین سے مقابلہ
جس وقت سعودی اور ترک اتحادی شام پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے تھے، چین کے ساتھ شام کے ممکنہ تجارتی و سیاسی روابط نے بھی وائٹ ہاؤس کو فکرمند کر دیا۔حال ہی میں چین نے خطے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ وہ کئی ریاستوں، بشمول اسرائیل، کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے اور سعودی عرب و ایران کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
چین نے خلیج فارس میں ایک وسیع اسٹریٹجک موجودگی قائم کر لی ہے اور وہ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر مغربی ایشیا، ایشیا اور یورپ کو جوڑنے والے زمینی و بحری راستوں کا مرکز ہے، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے لیے اہم ہیں ۔ یہ ایک اربوں ڈالر کا عالمی اثر و رسوخ قائم کرنے والا منصوبہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے پیغام میں بہت واضح تھے کہ خلیج اب چین کا کھیل کا میدان نہیں ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو
ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا حالیہ دورہ، جس میں انہوں نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا، اس قیاس آرائی کو جنم دے رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور تل ابیب کے درمیان تعلقات میں ممکنہ تنزلی آ چکی ہے۔ اب تک ٹرمپ نے جاری عسکری کارروائیوں کی غیر مشروط حمایت تو کی ہے، لیکن غزہ کے حوالے سے ان کے مؤقف میں مختلف تضادات دیکھنے کو ملے ہیں۔
صدر بننے سے قبل انہوں نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ بندی پر راضی ہو جائیں تاکہ وہ اقتدار سنبھالتے وقت پیچیدہ مسائل کے وارث نہ بنیں۔تاہم اس کے فوراً بعد خود ٹرمپ نے جنوری کی جنگ بندی پر سوال اٹھاتے ہوئے حماس سے قیدیوں کی رہائی کے لیے الٹی میٹم جاری کیا اور متنازعہ طور پر یہ تجویز بھی پیش کی کہ غزہ کے باشندوں کو نکال کر وہاں پر لگژری ریزورٹس تعمیر کیے جائیں۔
اپنے دورے کی تیاری کے دوران ٹرمپ نے حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں آخری امریکی قیدی ، اسرائیلی فوجی ایڈن الیگزینڈر ، کی رہائی ممکن ہوئی، جو ان کی آمد سے بالکل پہلے عمل میں آئی۔
نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کی تین بڑی وجوہات ہیں۔اول، وائٹ ہاؤس اور ایران کے درمیان جاری بات چیت تل ابیب کے لیے ناقابل قبول ہے، کیونکہ اسرائیل ایران کے خلاف مکمل عسکری حملہ چاہتا تھا۔دوم مئی کے اوائل میں امریکہ اور یمنی حوثیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے یمن پر بمباری روکنے کا وعدہ کیا، بشرطیکہ حوثی بحیرہ احمر میں امریکی تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دیں۔ حوثی فلسطینیوں کے قریبی حامی تصور کیے جاتے ہیں۔سوم، امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد پابندیاں اور محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ بھی اسرائیل کو سخت ناگوار گزرا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزارتِ خارجہ امریکہ ایران معاہدے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ اپنی پرانی شرائط پر قائم ہے، جن میں ایران کا ایٹمی پروگرام بند کرنا،اور حزب اللہ کی حمایت ترک کرناشامل ہیں۔یہ اقدامات تہران کے علاقائی اثرورسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں، لیکن ایران کے لیے پابندیوں کا خاتمہ سب سے زیادہ اہم ہے۔بہر حال’امن ساز‘ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملہ کر سکتے ہیں۔
جہاں تک یمن کا تعلق ہے، وائٹ ہاؤس بظاہر حوثیوں کے ساتھ اپنے طور پر ایک معاہدے پر پہنچ چکا ہے۔ حالانکہ حوثی اب بھی اسرائیل پر میزائل فائر کر رہے ہیں، مگر اس کے برعکس تل ابیب باقاعدگی سے یمن میں اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔
نیتن یاہو کے پاس شام پر سے پابندیاں ہٹانے کی مخالفت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ تل ابیب نے 2024 میں بشار الاسد کے زوال کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی شام، خصوصاً گولان کی پہاڑیوں میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط کیا، جن پر وہ 1967 سے قابض ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک تل ابیب نے شامی صدارتی رہائش گاہ کے قریب بظاہر درزی اقلیت کے تحفظ کے نام پرتقریباً 750 فضائی حملے کیے ہیں ۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ تل ابیب اور نئی شامی حکومت کے درمیان غیر رسمی بات چیت جاری ہے، حالانکہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جس سے اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو کوئی خطرہ لاحق ہو۔
MAGAکے ہیرونے امریکی سامراجی مفادات کے تعاقب میں کوئی کمی نہیں آنے دی، خواہ اس کے کتنے ہی سنگین نتائج کیوں نہ ہوں۔ وہ اپنے دیرینہ اتحادیوں کی فکر نہیں کرتا، جنہیں وقتی طور پر امریکی ترجیحات کی خاطر پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا فریب پھیلانے والے اس سرمایہ دار نے اپنے حالیہ دورے کے دوران غزہ کے باسیوں کو نکالنے کا مؤقف دہرایاہے۔
اب مزید نسل کشی نہیں!
عرب بورژوازی اور امریکہ غزہ کے حوالے سے ایک سمجھوتہ مسلط کرنے کی کوشش میں دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا ناٹک کر رہے ہیں۔ تاہم غزہ کے بدقسمت باسیوں کو اس معاہدے سے کوئی راحت ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ مصر اس منصوبے کی قیادت کر رہا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کے انتہائی سنگین حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی شرط یہ ہے کہ حماس کو اقتدار سے ہٹایا جائے اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کی جائے، تب جا کر غزہ کی برباد بستی کی بحالی ممکن ہوگی۔
تاہم یہ مصری تجویز ٹرمپ کی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور نیتن یاہو کے فلسطین کے مکمل خاتمے کے منصوبے کے مقابلے میں کم خطرناک دکھائی دیتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی یقینا اس مصری مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔
ہمیں عرب بورژوازی کے موقع پرستانہ منصوبوں اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔قتل عام فوری ختم ہونا چاہیے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج فوری طور پر غزہ، لبنان اور شام سے دستبردار ہو،یمن پر مزید حملے بند کیے جائیں،مشرق وسطیٰ میں سامراجیت کا خاتمہ کیا جائے۔فلسطینی عوام اور اس خطے کے تمام انسان جینا چاہتے ہیں!
(بشکریہ:’آلٹرنیٹو ویوپوائنٹ‘، ترجمہ : حارث قدیر)