لاہور(جدوجہد رپورٹ) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی وسیع پیمانے پر شہری املاک کی تباہی کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے ان کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق انسانی حقوق کی اس تنظیم نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دھماکہ خیز مواد اور بلڈوزرز کے ذریعے 24 میونسپلٹیوں میں گھروں، مساجد، قبرستانوں، سڑکوں، پارکوں اور فٹ بال کے میدانوں سمیت شہری ڈھانچوں کو منظم طریقے سے تباہ کیا۔
ایمنسٹی کی سینئر ڈائریکٹر ایرکا گیوارا روساس نے کہا کہ ’’اس تباہی نے پورے علاقوں کو غیر آباد بنا دیا ہے اور بے شمار زندگیاں برباد کر دی ہیں۔‘‘
نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری جھڑپوں اور دو ماہ کی کھلی جنگ کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ایمنسٹی کے مطابق یکم اکتوبر 2024 سے جنوری 2025 کے آخر تک اسرائیل کی کارروائیوں میں 10 ہزار سے زائد ڈھانچے تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اس تباہی کا بڑا حصہ جنگ بندی کے بعد 27 نومبر سے ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ ویڈیوز میں فوجی خود تباہی پر خوشیاں مناتے، گاتے اور جشن مناتے دکھائی دیے۔ تنظیم کے مطابق یہ سب کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون اور ’’فوجی ضرورت‘‘ کے تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
ایمنسٹی نے اسرائیلی حکام سے اس سلسلے میں سوالات بھیجے لیکن تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ’’جنوبی لبنان کے بے شمار باشندوں کے پاس اب واپس جانے کو کچھ نہیں بچا۔ اسرائیلی حکام کو چاہیے کہ متاثرہ افراد اور کمیونٹیز کو فوری اور مکمل معاوضہ فراہم کریں۔‘‘
تنظیم نے دنیا بھر کی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی امداد کی ترسیل بند کریں۔
ہیومن رائٹس واچ کے الزامات
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بھی اسرائیل پر لبنان میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں ایچ آر ڈبلیو نے کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنانی طبی عملے کو نشانہ بنایا، جبکہ اپریل 2025 میں اس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے شہریوں پر اندھا دھند حملے کیے۔
اکتوبر 2023 سے جنگ بندی سے ایک دن پہلے تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں تقریباً 4 ہزار افراد مارے گئے، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔
لبنان کی معیشت پر اثرات اور حزب اللہ کی مخالفت
عالمی بینک کے مطابق اس جنگ سے لبنان کو 14 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس میں 6.8 ارب ڈالر کا نقصان صرف ڈھانچوں کی تباہی سے ہوا۔
نومبر کے معاہدے کے تحت حزب اللہ کو سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹنا تھا، جبکہ لبنانی فوج کو جنوبی علاقوں میں تعینات کر کے حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنا تھا۔ نئی لبنانی حکومت اس عمل کو شروع کر چکی ہے۔
اسی ماہ لبنان نے امریکہ کی حمایت یافتہ ایک منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت رواں سال کے آخر تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔ بدلے میں اسرائیل نے فوجی حملے روکنے اور لبنان سے انخلا پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم اسرائیل نے تاحال فوجی انخلا نہیں کیا اور حزب اللہ نے بھی غیر مسلح ہونے سے انکار کر دیا ہے۔