روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

لداخ میں ریاستی درجے کے لیے احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا، کم از کم 4 ہلاک، درجنوں زخمی

لداخ میں ریاستی درجے کے لیے احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا، کم از کم 4 ہلاک، درجنوں زخمی

لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے تقسیم شدہ علاقے لداخ کے دارالحکومت لیہ میں بدھ کو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والا احتجاج پرتشدد کیفیت میں تبدیل ہوگیا۔مظاہرین نے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر کو آگ لگا دی گئی، متعدد افراد زخمی ہوئے، اور انتظامیہ نے مظاہرے پر پابندی عائد کی۔

لداخ کو 2019 میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر سے الگ کر کے ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ (Union Territory) قرار دیا گیا تھا، مگر اس سے وہ پورے اختیارات اور سیاسی نمائندگی نہیں پا سکا۔

گزشتہ چار سال سے مقامی مطالبات، تحفظ ملکی شناخت، اور خودمختاری کے حقوق کے لیے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ اس بار احتجاج کا فیصلہ لیہ ایپیکس باڈی کی نوجوان شاخ نے کیا، جس نے پہلے سے 35 روزہ بھوک ہڑتال چلا رکھی تھی۔

مظاہرین کی یکجہتی چار اہم مطالبات پر مرکوز ہے۔لداخ کو ریاست کا درجہ (Statehood) دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ یونین ٹیریٹری کی حیثیت نے مقامی خود ارادیت کو محدود کیا ہے۔

اسی طرح بھارتی آئین کے شیڈول 6کے اطلاق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاکہ قبائلی علاقوں کی طرح قوانین، زمین اور جانشینی کے معاملات مقامی کونسلوں کے ہاتھ میں ہوں۔ لداخ پبلک سروس کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، تاکہ نوکریوں میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے اور خود مختار بھرتیاں ہو سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دو پارلیمانی نشستوں کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس وقت لداخ صرف ایک نشست رکھتا ہے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس پر اضافہ ہونا چاہیے تاکہ مرکز میں نمائندگی بہتر ہو۔

حکومت نے فی الحال صرف دو معاملات یعنی پبلک سروس کمیشن اور دو نشستوں پر بات کرنے کی پیشکش کی ہے، اور ریاستی درجہ و سکستھ شیڈول پر آگے مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔

بدھ کے روزکارکنان نے لیہ شہر میں شٹ ڈاؤن کال دی اور سڑکوں پر نکلے، نعرے بازی کی، اور بی جے پی دفتر کو آگ لگا دی۔ اس دوران پولیس پر پتھر پھینکے گئے، اور پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات ہیں کہ کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

مقامی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کرتے ہوئے لیہ ضلع میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔ اس دوران لداخ کی سالانہ تقریب لداخ فیسٹیول کی آخری دن کی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔

سونم وانگ چک پہلے سے اس تحریک کے ساتھ منسلک تھے اور بھوک ہڑتال کا حصہ تھے۔ جب احتجاج میں تشدد پھیلا، انہوں نے اپنی ہڑتال روک دی اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ تشدد بند کیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ ”میرا پرامن راستہ ناکام ہوا ہے۔ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ یہ فضول کام بند کریں۔ یہ ہمارے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔“

وانگ چک نے کہا کہ احتجاج میں شرکت کرنے والے سب لوگ اس کی قیادت کا حصہ نہیں رہے، بلکہ یہ نوجوانوں کی غصے کی عکاسی ہے، جنہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس کے بعض رہنما احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں، مگر وانگ چک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ مقامی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مرکز کے ساتھ مذاکرات 6 اکتوبر کی بجائے جلد کرے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں