کوٹلی(ارسلان شانی)پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں طلبہ ایکشن کمیٹی(جموں کشمیر) کی کال پر گزشتہ روز 22 اپریل کو ریاست بھر کی جامعات اور کالجز میں پُرامن احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دھرنے منعقد کیے گئے، جن میں طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ یہ مظاہرے نہ صرف طلبہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا ذریعہ بنے بلکہ ایک منظم، سنجیدہ اور باشعور تحریک کی صورت اختیار کر گئے۔ طلبہ نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے حقِ نمائندگی، تعلیمی مسائل اور جمہوری روایات کی بحالی کے لیے متحد اور پُرعزم ہیں۔
جامعہ کوٹلی میں صبح 7 بجے سے شام 4 بجے تک یونیورسٹی گیٹ کے سامنے ایک تاریخی دھرنا دیا گیا، جسے ایک احتجاجی مظاہرے سے بڑھا کر شعوری مکالمے، فکری نشست اور انقلابی جذبے کا مرکز بنا دیا گیا۔ دھرنے کا آغاز عمر جمیل نے کیاجبکہ نظامت کے فرائض کور ممبر ارسلان شانی نے انجام دیے۔ ابتدائی خطاب میں انیس مجید نے طلبہ کے مطالبات اور کمیٹی کے اغراض و مقاصد واضح انداز میں پیش کیے۔ اس موقع پر کور ممبران کاشف راجہ، محمد آکاش، اظہر کیانی، عمر جمیل، حسنات اور دیگر مقررین خطاب کیا۔ رضوان جانی کی پرجوش نظم نے شرکاء کا لہو گرمایا، جب کہ حماد السلام اور فرحان شاہ نے پوٹھوہاری زبان میں مزاح، فکر اور شاعری کا ایسا امتزاج پیش کیا جو سامعین کو محظوظ کرتا رہا۔ اختتامی کلام میں جواد قیوم نے کہا کہ طلبہ ایکشن کمیٹی جموں کشمیر اب ایک ناقابلِ فراموش آواز بن چکی ہے اور اس کا اتحاد ہی وہ طاقت ہے جس سے ہر تعلیمی مسئلے کا حل ممکن ہے۔
جامعہ مسٹ میں بھی ایک بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے احتجاج میں شرکت کی۔ جامعہ سے شروع ہونے والی یہ ریلی چوک شہیداں پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس دوران کور کمیٹی کے اراکین نے نہ صرف قرارداد پیش کی بلکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا۔ شرکاء نے اپنے عزم کا اظہار کیا کہ وہ طلبہ یونین کی بحالی سمیت دیگر مطالبات کی تکمیل تک مؤثر جدوجہد جاری رکھیں گے۔
جامعہ کشمیر (چتر کلاس) مظفرآبادمیں طلبہ نے چھٹی کے باوجود سنٹرل پلیٹ سے اپر اڈہ لال چوک تک احتجاجی ریلی نکالی جو بعد ازاں ایک اجتماع میں تبدیل ہو گئی۔ اس موقع پر کور ممبران عاقب عظیم چوہدری، راجہ احسان خورشید، فہیم بھیا، حذیفہ راجہ، اسمان ثانی اور دیگر رہنماؤں نے طلبہ سے خطاب کیا اور یہ پیغام دیا کہ جب تک طلبہ یونین انتخابات کا شیڈول جاری نہیں ہوتا، جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ ایکشن کمیٹی کو مضبوط بنایا جائے گا۔
تحصیل ہجیرہ میں طلبہ ایکشن کمیٹی نے بوائز ڈگری کالج گراؤنڈ سے احتجاجی ریلی کا آغاز کیا، جو شہیر کا چکر لگاتے ہوئے پنڈی اڈہ چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ جلسے سے صائم گل، زین نسیم، سعود ارشاد، سیف اللہ، انس فیضی، ریحان مصطفائی، ادیب شفاعت اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ طلبہ ایکشن کمیٹی(جموں کشمیر) کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اپنے حقوق کی جدوجہد آخری سانس تک جاری رکھیں گے۔
جامعہ پونچھ تراڑ کیمپس اور کہوٹہ کیمپس میں بھی پُرامن احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ تراڑ کیمپس میں امن حبیب نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔ علیزہ اسلم، دانیال فیضی، اسامہ نواز، عمر رزاق، خواجہ حسان علی، خرم محمود، انعام اور فیصل جواد میر نے جبکہ کہوٹہ کیمپس میں خواجہ عدیل، عدیل گیلانی، زبیر اور گوہر شریف میر نے فلسطین، کوٹلی اور مظفرآباد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے تعلیمی و جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
نکیال اور کریلہ مجہان میں بھی طلبہ ایکشن کمیٹی نکیال کے زیر اہتمام احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ریلی پڑواہ چوک سے شروع ہو کر میلاد چوک سے واپس پڑواہ چوک پر آ کر احتجاج کی صورت اختیار کر گئی۔ کریلہ مجہان سے محمد بشارت زین، محمد علی چوہدری اور سمیر صاحب نے خطاب کیا، جبکہ نکیال سے مہتاب الیاس چوہدری اور عمر عاشق جنجوعہ نے طلبہ کی ترجمانی کی۔ وکلاء کی نمائندگی شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ نے کی، انجمن تاجران کی جانب سے سردار شکور خان نے شرکت کی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے چچا شفیق نے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔ اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام عبدالمعیظ عالم نے کیا۔
طلبہ ایکشن کمیٹی(جموں کشمیر) کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کمیٹی تمام طلبہ کو مبارکباد پیش کرتی ہے جنہوں نے پرامن، باشعور اور منظم انداز میں یہ احتجاج ریکارڈ کروایا۔ یہ صرف ایک دن کا احتجاج نہیں بلکہ ایک طویل، مسلسل اور ناقابلِ مفاہمت تحریک کا آغاز ہے جو طلبہ یونین کی بحالی، تعلیمی اصلاحات اور جمہوری اقدار کی واپسی تک جاری رہے گی۔