لاہور(جدوجہد رپورٹ) حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 2025 کے دوران مزدور یونینوں کی مجموعی رکنیت 10 فیصد پر برقرار رہی، جو بظاہر ایک مثبت اشارہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 کے مقابلے میں مزید 4لاکھ63 ہزار ورکرز یونین نمائندگی میں شامل ہوئے، جن میں نصف سرکاری اور نصف نجی شعبے سے تھے۔ مجموعی طور پر 14.7 ملین ورکرز یونین کے باقاعدہ رکن تھے،جبکہ 1.8 ملین ایسے کارکن تھے جو یونین کی نمائندگی میں تو تھے مگر رکن نہیں تھے۔
’جیکوبن‘ کے مطابق محنت کش حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل صورت حال کو مکمل ظاہر نہیں کرتے کیونکہ مارچ 2025 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک متنازع ایگزیکٹو آرڈر نے تقریباً 10 لاکھ وفاقی ملازمین کے اجتماعی مذاکرات کے حقوق معطل کر دیے تھے۔ اس اقدام کو امریکی تاریخ میں یونین مخالف سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یونینوں کی بڑھتی طاقت کے باوجود وفاقی ادارے اب بھی بڑی حد تک یونین معاہدوں کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں، جس سے کارکنوں کو بے یقینی کا سامنا ہے۔ اسی دوران سال کے آخری مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عوامی پروگراموں پر شدید کٹوتیوں کے نتیجے میں مزید دو لاکھ وفاقی ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑنے یا جبری برطرفی پر مجبور ہوئے۔
2025 میں نجی شعبے میں سب سے زیادہ ترقی کنسٹرکشن اور ہیلتھ کیئر یونینز میں ہوئی، تعمیراتی شعبے میں 84ہزار کارکنوں کا اضافہ ہوا، جبکہ ہیلتھ کیئر کے شعبے میں 78ہزار کارکنوں کا اضافہ ہوا۔
تعمیراتی شعبے میں یہ پیش رفت ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں غیر معمولی سرمایہ کاری اور حکومتی انفراسٹرکچر منصوبوں کے باعث ہوئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر یونینز غیر یونین کنٹریکٹرز کو منظم نہ کر سکیں تو یہ فائدہ عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
ٹرانسپورٹ و ویئر ہاؤسنگ میں ایک لاکھ یونین ورکرز کم ہوئے۔ غیر یونین ایمیزون اور نجی شپنگ کمپنیوں کی توسیع کی وجہ سے یونینوں کو نقصان ہوا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے بھی 34ہزار یونین ملازمتیں ختم ہوئیں۔ ماہرین ٹرمپ کی ’میڈ ان امریکہ‘ مہم کو یونین توڑ پالیسی قرار دے رہے ہیں۔
کان کنی اور ڈرلنگ کے شعبے میں صورتحال مزید خراب رہی، جہاں یونین رکنیت ایک سال میں ایک تہائی کم ہوگئی۔
2023 اور 2024 میں NLRB کے ذریعے یونین سازی کی درخواستوں میں تاریخی اضافہ ہوا تھا، مگر 2025 میں یہ تعداد 42 فیصد کم ہو کر 82ہزار625 رہ گئی، جو شدید دباؤ اور حکومتی مزاحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
ریاستی ملازمین کی تعداد میں 2لاکھ59 ہزار کا اضافہ ہوا، جن میں 180 ہزار یونین نمائندگی میں شامل ہوئے۔تاہم معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مستقل نہیں، کیونکہ 2026 میں وفاقی سطح پر میڈیکیڈ، فوڈ اسٹیمپ، ٹرانزٹ اور دیگر سماجی پروگراموں میں شدید بجٹ کٹوتیاں متوقع ہیں، جس سے ریاستی محکموں میں بڑے پیمانے پر چھانٹی ہوسکتی ہے۔
اگرچہ یونین رکنیت کی تعداد گزشتہ ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وفاقی ملازمین کے حقوق منجمد ہیں، یونین معاہدے نظرانداز کیے جارہے ہیں، لاکھوں محنت کش غیر یقینی کیفیت میں ہیں،اوریونین بنانے کی کوششیں کمزور پڑ رہی ہیں۔
لیبر تنظیموں کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ اعداد و شمار کے اس معمولی اضافے کو حقیقی مزدور طاقت میں کیسے تبدیل کیا جائے۔