لاہور(جدوجہد رپورٹ)چلی کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سوشلسٹ امیدوار خانیئت جارا نے معمولی برتری کے ساتھ سب کو حیران کر دیا ہے۔ تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جارا 27 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہیں، جبکہ انتہائی دائیں بازو کے امیدوار ہوزے انتونیو کاسٹ نے 24 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی کوئی شخصیت صدارتی انتخاب کے فائنل مرحلے تک پہنچی ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق انتخابات کے نتائج ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چلی شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ اب 14 دسمبر کو ہونے والا رن آف دو بالکل متضاد نظریاتی سمتوں کے درمیان فیصلہ کن مقابلہ ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جارا کی کارکردگی اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے سخت مقابلے میں ایک ایسے امیدوار کو پیچھے چھوڑا جو خطے میں بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی لہر کا مرکزی چہرہ سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں جن ترقی پسند اصلاحات پر زور تھا، اس بار بڑے طبقے نے سکیورٹی، جرائم اور تارکین وطن کے مسئلے کو فوقیت دی۔ تاہم اس کے باوجود جارا کا پہلے نمبر پر آنا بائیں بازو کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابات میں ایک اور بڑا اپ سیٹ فرانکو پریسی کا تیسری پوزیشن پر آنا تھا، جنہوں نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے شمالی سرحد پر بارودی سرنگوں کی تجویز تک دے ڈالی تھی۔ ان کی حمایت زیادہ تر شمالی چلی کے کان کنی کے علاقوں میں محنت کش مردوں سے آئی، جو روایتی سیاست سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ اب دوسرے مرحلے میں بڑی حد تک کاسٹ کی طرف جا سکتے ہیں۔
سیاسی ماہر کلاڈیو فنٹیس کے مطابق اگر کاسٹ جیتتے ہیں تو چلی خطے کی دائیں بازو حکومتوں کے قریب تر ہو جائے گا۔ تاہم ابھی کی صورتحال یہ بتا رہی ہے کہ لیفٹ امیدوار خانیئت جارا نہ صرف مقابلے میں مضبوط ہیں بلکہ اپنے لیے ایک نئی سیاسی جگہ بھی بنا رہی ہیں، ایک ایسا موقع جو چلی کی سیاست کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
تاہم رن آف میں جارا کے لیے چیلنج یہ ہو گا کہ دائیں بازو کا تمام ووٹ کاسٹ کے حق میں جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے ون آن ون مقابلے میں جارا کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔