روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

کارپوریٹ فارمنگ، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف اور گندم کی کم از کم امدادی قیمت کیلئے ملک گیر احتجاج

کارپوریٹ فارمنگ، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف اور گندم کی کم از کم امدادی قیمت کیلئے ملک گیر احتجاج

لاہور(پ ر)پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی اپیل پر اس کی ممبر تنظیموں نے پاکستان کے 30 شہروں بشمول اسلام آباد، لاہور، بہاولپور، راجن پور، جھنگ، کچا کھوہ (خانیوال)، بھکر، جتوئی، شکارپور، لاڑکانہ، سکھر، بدین، مردان، جتوئی، اپر دیر، مالاکنڈ، لکھی مروت اور دیگر شہروں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور حقوق خلق پارٹی نے 13 اپریل کو کارپوریٹ فارمنگ، دریائے سندھ سے چھ نہروں کی تعمیر کے خلاف، اور گندم کی کم از کم قیمت کے سرکاری تعین کے لئے ملک گیر مہم چلانے کی اپیل کی تھی۔

اس موقع پر پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق نے کچا کھوہ خانیوال میں ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان پہلے ہی کم از کم 1.7 ملین ایکڑ زرعی زمین کارپوریٹ اداروں کو لیز پر دے چکی ہے، جس میں وہ زمین بھی شامل ہے جو ایک صدی سے زائد عرصے سے مزارعین کاشت کر رہے ہیں۔ یہ اقدام چھوٹے کسانوں کو بے گھر کرنے، مقامی خوراک کے نظام کو ختم کرنے اور پائیداری، انصاف اور سماجی بہبود پر منافع کو ترجیح دینے کی ایک کھلی کوشش ہے۔جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور اس عمل کو فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مزارعین کو بے دخل کرنے کی ہر کوشش کے خلاف زبردست پرامن مزاحمت کی جائے گی۔

فاروق طارق نے کہا ہم ملک گیر مقبول اور جامع زرعی اصلاحات اور بے زمین کسانوں اور ھاریوں کے لیے زمین کے مالکانہ حقوق کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم کسانوں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے دوسرے لوگوں کے حقوق (UNDROP) پر اقوام متحدہ کے اعلامیہ کے فریم ورک میں زمین کے ضابطے اور دوبارہ تقسیم کی پالیسیاں اور قوانین بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بہاول پور میں پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں رضیہ خان اور فاروق احمد خان نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ کرنے کے لیے دریائے سندھ سے 6 نہریں کھودنے کے حکومتی منصوبے کو بھی ہم رد کرتے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف ہزاروں کسان خاندانوں کو بے گھر کرے گا بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ اس سے چولستان کے کسانوں کو کو ئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور ہم سندھ کے عوام کی تحریک سے مکمل یک جہتی کا اعلان کرتے ہیں۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی مرکزی رہنما صائمہ ضیاء نے لاہور میں شملہ پہاڑی پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان نہروں کی تعمیر سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔ نہریں سیلابی پانی کی دستیابی کے ناقابل اعتماد مفروضے پر مبنی ہیں، جس سے سندھ میں پانی کی موجودہ قلت میں اضافہ ہوگا۔ نہریں سندھ سے پانی کا رخ موڑ دیں گی، جس سے 1991 کے آبی تقسیم کے معاہدے کے تحت صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم کردیا جائے گا۔ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی انڈس ڈیلٹا کو نقصان پہنچائے گی، جس سے زراعت، ماہی گیری اور ماحولیاتی نظام متاثر ہوں گے۔ نہوں نے پاسکو کی نج کاری کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ پاسکو نجکاری فوری ختم کی جائے۔ اس موقع پر پاسکو ورکرز یونین کے درجنوں کارکنان بھی مظاہرہ میں شریک تھے۔

علی کھوسو نے شکارپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے سندھ کی زراعت اور آبادی پر طویل مدتی اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے پانی کی دستیابی کے مشکوک سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں، جس کو ہم چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کی 6 نہروں کے خلاف تاریخی جدوجہد میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ پنجاب کے کسان اب سندھ کے عوام کی تحریک کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی رہنما رفعت مقصود نے خانیوال میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی، ایسی قیمت جس پر حکومت کسانوں سے فصلوں کی خریداری کی ضمانت دیتی ہے)، پبلک اسٹاک ہولڈنگز اور پبلک پروکیورمنٹ کو یقینی بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ گندم کی کم از کم قیمت 4000 روپے فی من مقرر کی جائے۔

کم از کم امدادی قیمت کسانوں کو غیر متوقع بیرونی قوتوں سے بچاتی ہے۔ یہ برابری کی قیمتوں اور غیر منصفانہ مسابقت، پیداواری لاگت کو کمزور کرنے اور رعایتی درآمدات کی آمد کے خلاف ایک لڑائی ہے۔ یہ جدوجہد ایک مشترکہ مطالبہ کا اشتراک کرتی ہے۔ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور غذائی نظام کے ذریعہ جاری غیر یقینی صورتحال سے تحفظ دیتی ہے۔

حقوق خلق پارٹی کے نائب صدر حیدر بٹ نے کچا کھوہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم زراعت اور خوراک کی تجارت میں ڈبلیو ٹی او کی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے (FTAs) اور ایگریمنٹ آف ایگریکلچر (AOA) کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم آئی ایم ایف کی قیادت کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او کی قیادت میں نیو لبرل اور کسان مخالف اوپن مارکیٹ پالیسیوں کو ختم کیا جائے اور کسانوں کی پیداوار کی مناسب قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے مارکیٹ کو ریگولیٹ کیا جائے۔ ہم اناج کی درآمد اور ڈمپنگ میں نجی شعبے کی شمولیت کے خلاف ہیں جس سے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسانوں کی تحریک کا بھرپور ساتھ دیں گے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ ہمارے مطالبات پورے کرے۔

حقوق خلق پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن محبہ احمد نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ، سکس کینال پروجیکٹ اور ایم ایس پی کے مسائل پاکستان میں کسانوں کے ذریعہ معاش اور زراعت کے استحکام کے لئے اہم ہیں۔ کسان اور تحریکیں زراعت کے لئے زیادہ منصفانہ اور پائیدار نقطہ نظر کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو چھوٹے کسانوں اور مقامی برادریوں کے حقوق اور مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ ہم کسانوں کے حقوق کے تحفظ، اور ملک کے لئے خوراک کی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی ممبر تنظیم انجمن مزارعین پنجاب نے کچا کھوہ میں تاریخی اجتماع کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کسان اتحاد کے صدر ذولفقار اعوان نے کہا کہ مزارعین کو بے دخل نہیں ہونے دیں گے ان کو دیئے گئے بوتا واپس لئے جائیں۔ جو بھی ٹھیکیدار یا نیا الاٹی ہماری زمینوں پر قبضہ کرنے آئے گا اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا۔ ہماری کسان عورتین اس تحریک کی قیادت کر رھی ہیں۔ وہ کسی صورت اپنے زمینیں نئے الاٹیوں کے حوالے نہیں کریں گی۔

مہر غلام عباس صدر انجمن مزارعین پنجاب نے کہا کہ ہم نے کوٹ ادو، عارف والا، حاصل پور مین پرامن مزاحمت سے اپنی زمینوں کو بچایا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ میاں شہباز شریف کی مزارعین مسائل کے لئے بنائے گئی کمیٹی کو فوری بحال کریں اور ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔

خطاب کرنے والے دیگر کسان رہنماوں میں اخلاق احمد، طارق محمود، کامران ظفر بھٹی، نثار شاہ ایڈووکیٹ، گلزار خان، نور خان بلوچ، بابا لطیف انصاری، مدبر علی، ضیغم عباس، رضیہ خان، فاروق احمد خان، علی کھوسہ، عاشق ڈومکی عرش چوہان، اور دیگر شامل تھے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں