روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الخميس, 30 جولائی 2026

گلگت بلتستان میں ہزاروں افراد سراپا احتجاج: مائنز اینڈ منرلز بل مقامی وسائل پر قبضہ کی کوشش قرار

گلگت بلتستان میں ہزاروں افراد سراپا احتجاج: مائنز اینڈ منرلز بل مقامی وسائل پر قبضہ کی کوشش قرار

لاہور(جدوجہد رپورٹ) گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں اتوار کے روز ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مائنز اینڈ منرلز بل کو مقامی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ضلع شگر کے آس پاس کے علاقوں سے سینکڑوں افراد پر مشتمل ریلیاں اتوار کے روز شگر کے ضلعی ہیڈکوارٹر کے حسینی چوک میں جمع ہوا۔ احتجاج کی یہ کال کے ٹو ایکشن کمیٹی نے دے رکھی تھی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کی ملکیت کو تسلیم کیا جائے اور ان وسائل کی حفاظت کی جائے۔ ان کا اصرار تھا کہ مقامی وسائل سے متعلق کوئی پالیسی عوامی مشاورت کے بغیر تیار نہیں کی جانی چاہیے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ کسی بھی یکطرفہ فیصلے کی شدید مخالفت کی جائے گی۔

مظاہرے کا مرکز گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں منصوبہ بند کان کنی کی سرگرمیوں پر تشویش تھی، جسے مقامی کمیونٹیز اپنے حقوق کی خلاف ورزی اور اپنی قدرتی دولت کے استحصال کے طور پر دیکھتے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ان وسائل کے صحیح محافظ ہیں اور ان کی رضامندی کے بغیر ان کو نکالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار شگر کے صدر مہدی علی نے کہا کہ احتجاج ریاست کے خلاف نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کے خلاف ہے۔پورا گلگت بلتستان مسائل میں گھرا ہوا ہے، یہاں کا کوئی خطہ خوشحال نہیں کہلا سکتا، پھر بھی حکام کو صرف ہمارے وسائل میں دلچسپی نظر آتی ہے، انہیں ہمارے مسائل کیوں نظر نہیں آتے؟

ایڈووکیٹ حسن شگری نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام ارضیاتی وسائل، جنگلات اور پہاڑ یہاں کے عوام کی اجتماعی ملکیت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں تمام طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے کسی قانون سازی کے تحت ہمیں ہمارے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی تو گلگت بلتستان کے عوام آپ کے اور ہمارے وسائل کے درمیان پہاڑ کی طرح کھڑے ہوں گے۔

انکا کہنا تھا کہ ”یہ پہاڑ ہمارے تھے، یہ زمین ہماری تھی، یہ دریا ہمارے تھے، اور یہ قیامت تک ہمارے ہی رہیں گے۔“
انہوں نے خبردار کیاکیا کہ ”جس طرح ہمارے آباؤ اجداد نے ڈوگروں کو لاٹھیوں اور پتھروں سے بھگا دیا، اسی طرح ہم بھی کسی بھی جدید تجاوز کے خلاف اپنے حقوق کا دفاع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔“

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں