لاہور(جدوجہد رپورٹ)ہلک ہوگن کے نام سے شہرت پانے والے معروف امریکی ریسلر ٹیری جین بولیا24جولائی 2025کو دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ وہ امریکی پروفیشنل ریسلنگ کا ایک بڑا نام تھے، جنہیں کئی لوگ 1980 کی دہائی سے جانتے تھے، جب ’ہلک مینیا‘نے ڈبلیو ڈبلیو ای کو ایک بین الاقوامی تفریحی صنعت میں بدل دیا۔تاہم ہوگن کی میراث صرف رنگ کے اندر جیتے گئے مقابلوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے نسل پرست، جوٹ اور مزدور دشمنی کی ایک مکمل داستان چھپی ہوئی تھی۔
جیکوبن کے مطابق ہوگن ایک ایسا افسانوی چہرہ تھے جنہوں نے خود کو عوام کے سامنے ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا، مگر وہ مسلسل جھوٹ بولتے رہے۔ وہ اکثر دعویٰ کرتے کہ انہوں نے ایک سال میں 400 شوز کیے، یا کہ مشہور فلمی کرداروں کے لیے انہیں پیشکشیں ہوئیں جو انہوں نے مسترد کر دیں، حالانکہ یہ باتیں سراسر من گھڑت تھیں۔ ہوگن کی شخصیت ایک ’compulsive liar‘ کی تھی جو اتنی بار جھوٹ بولتے کہ آخر کار وہی جھوٹ ان کی پہچان بن گئے۔ تاہم یہ محض تفریح یا مبالغہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی تھی جو خود کو قانون، سچ اور جواب دہی سے بالاتر سمجھتی تھی۔
اسی ذہنیت نے ہوگن کو اس وقت بھی بے رحم بنایا جب ریسلنگ انڈسٹری کے مزدور اپنے لیے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 1980 کی دہائی میں جب ایک یونین بنانے کی کوشش ہو رہی تھی، توہوگن نے اس منصوبے کی مخبری کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یونین سازی کا وہ واحد بڑا موقع ختم ہو گیا۔جیکوبن کے مطابق ہوگن نے اس انڈسٹری میں کارپوریٹ مفادات کو محنت کشوں کے استحصال پر فوقیت دی اور ایک ایسی ثقافت کو جنم دیا جہاں انشورنس، پنشن یا مستقل روزگار جیسی سہولیات آج بھی دستیاب نہیں۔
ہوگن کی نسل پرستی کا پردہ بھی 2015 میں چاک ہوا جب ایک لیکڈ ویڈیو میں وہ سیاہ فام افراد کے لیے نازیبا اور نفرت انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے پائے گئے۔ انہوں نے نہ صرف نسلی گالیاں دیں بلکہ اپنی بیٹی کے ایک سیاہ فام مرد سے تعلق پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ اس بیان پر ڈبلیو ڈبلیو ای نے وقتی طور پر انہیں برطرف کر دیا، مگر چند برسوں بعد اسی ادارے نے اسے دوبارہ خوش آمدید کہا۔ گویاہوگن کی شہرت اور طاقت ان کی نفرت انگیز زبان سے زیادہ قیمتی تھی۔ یہ رجحان سفید فام مردوں کے لیے انسٹیٹیوشنل معافی کا کلچر ہے، جہاں طاقتور ہمیں بخش دیے جاتے ہیں۔
ہوگن کا سیاسی جھکاؤ بھی رجعتی بیانیے کا حصہ تھا۔ 2024میں وہ کھلے عام ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی کے طور پر ریپبلکن نیشنل کنونشن میں سٹیج پر آئے۔ انہوں نے ٹرمپ کی ’فیک نیوز‘ کے خلاف نام نہاد مہم کو سراہا اور امریکی دائیں بازو کے بیانیے کو مکمل طور پر قبول کیا۔ ٹرمپ نے انہیں ’اے گریٹ فرینڈ‘ قرار دیا۔ یہ محض سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی اور نظریاتی اتحاد تھا، ایک ایسا گٹھ جوڑ جو سفید فام قوم پرستی، طاقت کے رومان اور استحصال پر مبنی معیشت کو فروغ دیتا ہے۔
ہوگن کی موت پر دنیا بھر میں افسوس کا اظہار کیا گیا، لیکن یہ ایک ایسے شخص کی موت کا سوگ تھا، جو محض ریسلنگ کا ستارہ نہیں، بلکہ استحصالی طاقت کا محافظ تھا۔ اس نے نہ صرف جھوٹ بولے بلکہ محنت کشوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کیا، نسلی نفرت پھیلائی اور اس سب کے باوجود ہیرو بنا رہا۔ ایسے شخص کی میراث اس کے مداحوں کے لیے شاید ایک رومانوی یاد ہو، لیکن مزدوروں، اقلیتوں اور سچ کے لیے یہ ایک زخم ہے، جو آج بھی ریسلنگ انڈسٹری کے جسم پر تازہ ہے۔