روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

اعجاز ملک: شاعری، موسیقی اور ڈیزائن کا امتزاج

اعجاز ملک: شاعری، موسیقی اور ڈیزائن کا امتزاج

ظفر مسعود

یورپ، کینیڈا یا امریکہ میں جا کر بس جانے والے بہت سے مصوروں اور مجسمہ سازوں کے برعکس، فرانسیسی شہریت رکھنے والے اعجاز ملک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے لیے پاکستان واپس آنا ایک ذمہ داری تھی، کیونکہ ان کی تمام فنکارانہ تحریکیں اسی ملک سے ہی ملتی ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے۔

وہ 1984 میں کم عمری میں پیرس انٹیریئر ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم کے طور پرفرانس آئے۔ ان کی کامیابیوں کا سفر بہت تیز تھا۔ پہلے 1986 میں وہاں سے ڈپلومہ حاصل کیا، پھر دو سال بعد کالج آف کونٹیمپرری فرنیچر ڈیزائن سے ایک اور ڈپلومہ لیا۔ 1994 تک وہ بیل وی اکیڈمی آف آرکیٹیکچر سے ڈگری بھی حاصل کر چکے تھے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ اس زمانے میں زندگی بہت تیز رفتاری سے گزر رہی تھی۔”میں پیرس ڈیزائننگ اور آرکیٹیکچر پڑھنے آیا تھا، مگر یہ علم نہیں تھا کہ میں نہ صرف اپنے ویک اینڈز بلکہ اپنی تمام گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات بھی میوزیمز میں گزاردیا کروں گا۔ میں ایک تاریخی اور عظیم الشان جگہ سے دوسری تاریخ اور عظیم جگہ گھومتا رہتا تھا، ہاتھ میں اسکیچ بک ہوتی تھی۔ میں میوزیم لوؤر(louvre)، میوزیم آف ماڈرن آرٹ(Modern Art)، پومپیدو سینٹر(Pompidou)، گران پالے(Grand Palais)، پتی پالے(Petit Palais)، زادکین میوزیم(Zadkine) اورسے میوزیم(Orsay)کے شاہکار فن پاروں کے خاکے بنانے میں مصروف رہتا تھا۔“

اعجاز ملک کی فنکارانہ زندگی کا ایک اور اہم موڑ ونسینٹ فان خاخ (Vincent Van Gogh)کے بھائی تھیو (Theo)کو لکھے گئے خطوط کا مطالعہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان خطوط کو پڑھتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ وہ جذباتی طور پرفان خاخ کے بہت قریب ہیں۔

اعجازملک کے مطابق”فان خاخ ایسی شخصیت تھے جو صرف سورج مکھی کے کھیت، درخت اور پرندے ہی نہیں بناتے تھے، بلکہ ہوا کی لہروں اور تاروں بھری راتوں کے مناظر کو بھی اپنے کینوس پر منتقل کر دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر زندگی میں بہت تکلیفیں برداشت کیں اور اپنے خیالات اپنے بھائی کے ساتھ شیئر کیے، جس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔میں جن دیگر لوگوں سے متاثر ہوا ان میں سیزان(Cezanne)، پکاسو(Picasso)، براک(Braque)، اور بعد میں مارسل دُوشاں (Marcel Duchamp) شامل ہیں، جن کے پیچیدہ اور اکثر اکسانے والے کاموں نے مجھے بہت متاثر کیا۔“

جلد ہی اعجاز ملک نے لوؤر سکول (Louvre School) میں داخلہ لے لیا تاکہ مصوری کی تکنیک اور فنون لطیفہ کی تاریخ کا باقاعدہ مطالعہ کر سکیں۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ”میں کس قدر خوش قسمت تھا۔۔۔لوؤر کے طالب علم کارڈ کے ساتھ میں پورے یورپ کے میوزیمز میں مفت جا سکتا تھا۔ میں نے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔بسوں اور ٹرینوں میں سفر کیا، بعض اوقات لفٹ لے کر لندن، روم، نیپلز، ایمسٹرڈیم، میڈرڈ اور فرانس کے بے شمار شہروں تک پہنچ جاتا۔ صرف اس لیے کہ ان کلاسیکی آئل پینٹنگز، واٹر کلرز، کندہ کاریوں اور مجسموں کے سامنے کھڑا ہو سکوں جنہیں اپنی زندگی میں دیکھنے کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔“

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعجازملک نے فرانس کی ایک آرکیٹیکچر فرم میں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا۔ تاہم 1996 میں پیرس میں ایک اتفاقیہ ملاقات نے ان کی قسمت کا رخ مستقل طور پر بدل دیا۔یہ ملاقات پروفیسر سلیمہ ہاشمی سے ہوئی، جو اس وقت نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کی پرنسپل تھیں۔ ان کی دعوت پر اعجازملک اگلے سال لاہور منتقل ہوگئے تاکہ این سی اے میں انٹیریئر ڈیزائن پڑھا سکیں۔یہ شعبہ کالج کی تاریخ میں پہلی بار متعارف ہوا تھا۔ وہ 2001 تک اس کے بانی اور سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔

اگرچہ آنے والے برسوں میں ان کی تدریسی ذمہ داریاں مختلف بھی ہوتی رہیں اور بڑھتی بھی گئیں، مگر اعجاز ملک کبھی اپنے تخلیقی شوق ترک کرنے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے اپنے اوپر لازم کر لیا تھا کہ مصوری کے لیے وقت ضرور نکالیں گے۔

انہیں مجسمہ سازی بھی بے حد عزیز تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”جس طرح روایتی چینی مصور پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کو کئی کئی دن تک دیکھتے رہتے تھے، ان پر غور کرتے تھے اور پھر اپنی تخلیقات میں ان مناظر کو منتقل کرتے تھے،اسی طرح میں نے غالب، ٹیگور، فیض، منٹو اور ڈاکٹر مبارک علی کی تحریریں پڑھنا شروع کیں۔ میں پٹھانے خان کی گائی ہوئی دھنیں بار بار سنتا تھا اور صادقین کی پینٹنگز کی باریکیاں اپنی آنکھوں میں سموتا تھا۔ اس طرح پیدا ہونے والی تحریک نے مجھے ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کر دیا اور مجھے نئی جہتیں دیں جن کے ذریعے میں ان سب کے تاثر کو اپنی تخلیقات میں ڈھال سکتا تھا۔“

اعجازملک مزید بتاتے ہیں کہ انہیں اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب ان کی پینٹنگز کو معروف ماہرین نے سراہا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب میرے ایک ٹرپٹیک (تین حصوں پر مشتمل فن پارے،tryptych) کو اسلام آباد کی نیشنل گیلری نے اپنی مستقل کلیکشن کا حصہ بنانے کے لیے منتخب کیا۔ یہ کتنی بڑی فخر کی بات ہے کہ انسان کے کام کو پاکستان کے عظیم مصوروں کے شاہکاروں کے ساتھ رکھا جائے۔“

اس فنکار کو البتہٰ افسوس اس بات کاہے کہ آج پاکستان کی زیادہ تر گیلریاں فن کے فروغ اور نئے، غیر معروف فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے تصور کو یکسر نظر انداز کر رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”علی امام جیسے لوگ اب نہیں رہے، اور جو لوگ اس شعبے میں موجود ہیں ان کا بنیادی محرک پیسہ کمانے کی خواہش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بہت سے امیر لوگ پینٹنگز صرف اس لیے خریدتے ہیں کہ ان کے رنگوں کا امتزاج ان کے ڈرائنگ رومز کے صوفوں اور قالینوں سے میل کھاتا ہے،نہ کہ ان فن پاروں کی تخلیقی خوبیوں کی وجہ سے۔“

اعجاز ملک کا پختہ یقین ہے کہ تمام تخلیقی سرگرمیاں دراصل مصوری اور مجسمہ سازی ہی کا امتزاج نہیں ہوتیں بلکہ ان میں موسیقی، ادب اور فن تعمیر بھی گھل مل کر شامل ہوتے ہیں۔

وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ”اگر میں مثال کے طور پر نورجہاں یا اقبال بانو کا مجسمہ بنا رہا ہوں تو صرف یہ کافی نہیں کہ میں ان کی تصویریں دیکھ لوں۔ میں لازماً ان کی فلمیں بھی دیکھوں گا، ان کے گیت بھی سنوں گا، اور ان کے انٹرویوز بھی پڑھوں گا تاکہ ان کی شخصیت کو پوری گہرائی کے ساتھ محسوس کر سکوں۔“

(بشکریہ: ڈان۔ ترجمہ: حارث قدیر)

Zafar Masood
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں