روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

ثقافت کا مجاہد

ثقافت کا مجاہد

ٹونی عثمان

ناروے میں 42 ہزار سے زائد بسے ہوئے پاکستانیوں میں بیشتر 1970 کی دہائی میں روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔ اُن میں سے متعدد افراد یا تو خود یا اُن کی اگلی نسل اب ناروے کی سیاسی، سماجی، کاروباری اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم اس مقام پر پہنچنے کے لیے پانچ دہائیوں سے زائد لمبا اور پیچیدہ سفر طے کرنا آسان نہیں رہا۔ اس سفر میں ایک طرف پاکستانیوں کو ناروے کی زبان اور ثقافتی کوڈز سے لاعلمی کا مسئلہ تھا تو دوسری طرف نسل پرستی کی وجہ سے ثقافتوں کے درمیان انضمام کے سلسلے میں رکاوٹیں تھیں۔ اس کی وجہ سے کمیونٹی کے لیے معاشرتی اور نفسیاتی اُلجھنوں کا بڑھنا ایک فطری نتیجہ تھا۔ بہرحال نارویجن سماج اور پاکستانی کمیونٹی نے ثقافتی طور پر ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہوئے ہم آہنگی پیدا کی ہے اور معیارزندگی کو بلند کیاہے۔ بعض پاکستانیوں نے براہ راست یا بالواسطہ کمیونٹی کی رہنمائی کچھ اس طرح کی کہ اس سفر میں رکاوٹوں کو سمجھنا آسان ہوگیا اور سماج میں اپنا جائز مقام حاصل کرنے کی جدوجہد میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔

ایسے پاکستانیوں میں ایک اہم نام سینئر صحافی، مصنف اور مدیرسید مجاہد علی کا ہے۔ وہ ٹھیک 50برس پہلے ناروے آئے اور آنے کے دوسرے دن بعد ہی اُنہوں نے ایک فیکٹری میں مزدوری شروع کردی۔ پاکستان میں وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات اور ایم اے اردو کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے منسلک تھے اور روزنامہ جسارت اور روزنامہ مشرق کے لیے کام کرتے تھے۔ ناروے منتقل ہونے کے بعد صحافت اُن کے اندر سے ختم نہ ہوئی،لہٰذا اُنہوں نے اپنے قلم کا استعمال کرنا نہ چھوڑا۔ جلد ہی اُنہوں نے روزنامہ Arbeiderbladetکے لیے ایک ہفتہ وار کالم لکھنا شروع کیا۔یوں اُنہیں ناروے میں پہلے پاکستانی صحافی اور کمیونٹی کے لیے ایک اہم رول ماڈل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اُن دنوں پاکستانی تارکین وطن معاشی ضرورتوں کے اسیر تھے اور محدود وسائل کی وجہ سے روزمرہ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔ ایسے میں ایک رول ماڈل کا مل جانا اندھیرے میں روشنی کی کرن کی طرح تھا۔ اُن کا یہ کالم انگریزی اور نارویجن میں شائع ہوتا تھا اور اس میں وہ تارکین وطن کے مسائل کو اُجاگر کرتے تھے۔ آگے چل کر سنہ 1981 میں اُنہوں نے اوسلو سے اُردو میں ماہنامہ”کاروان“شروع کیا۔ اس میں بھی وہ تارکین وطن سے منسلک مختلف موضوعات پرکھل کرلکھتے رہے۔ یہ ماہنامہ اُن کی ادارت میں 15سال تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا۔ اس جریدے میں وہ”گفتگو“کے عنوان سے اداریے لکھتے تھے، جن میں وہ پاکستانی تارکین وطن کو ناروے کے متعلق اہم معلومات مہیا کرنے کے ساتھ دونوں ثقافتوں کے درمیان گفتگو کی اہمیت پر زور دیتے تھے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں ان کے لکھے ہوئے علامتی اداریے کتابی شکل میں ”گفتگو“کے نام سے سنہ 2023 میں شائع ہوئے۔

سنہ 1988 میں جب ناروے کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی Schibstedنے دارلحکومت کے اپنے مقامی اخبار کا تجرباتی آغاز روزنامہ Osloavisen سے کیا تو مجاہد علی اس صحافتی تجربے میں ساتھ تھے۔ اسی دوران وہ ناروے کے سرکاری ریڈیو کے لیے بطور پروگرام پروڈیوسر 10 سال تک کام کرتے رہے۔ وہ ریڈیو کی اُردو سروس سے منسلک تھے اور پروگرام”ملاقات“کی میزبانی کرتے تھے،جس میں وہ کمیونٹی کی مختلف شخصیات کی ملاقات سامعین سے کرواتے تھے۔ ساتھ ہی وہ ایک ادبی تنظیم کثیر الثقافتی ایکٹیویٹی سینٹر کے زیراہتمام شاندار مشاعرے اور معیاری ادبی تقریبات بھی منعقد کرتے رہے۔ تاہم اُنہوں نے ادبی سرگرمیوں کو ذریعہ معاش نہ بنایا اور انتہائی محدود وسائل ہونے کے باوجود جس طرح اُردو زبان اور پاکستانی ثقافت کو ناروے میں رو شناس کرایا اور پاکستانی کمیونٹی میں شناخت کے معاملے میں بیداری پیدا کی، وہ ایک ایسا کارنامہ ہے جسے ہر کوئی انجام نہیں دے سکتا۔

اُنہوں نے سنہ 2012 میں ”کاروان“کا آن لائن سلسلہ شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔ اس میں اُن کے لکھے ہوئے منفرد اداریے قلم کاری کی دُنیا کا بہترین شاہکار ہوتے ہیں۔ اُن کے یہ اداریے گزشتہ برس10 جلدوں پر مشتمل کتابی شکل میں شائع ہوئے۔

اُنہوں نے لکھنے کے معاملے میں کبھی کوئی سمجھوتہ یا مصلحت نہیں کی۔ مسئلہ چاہے ناروے میں نسل پرستی کا ہو، پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہو یا مشرق وسطیٰ میں جارحیت ہو رہی ہو، اُنہوں نے ہمیشہ ایمانداری اور اصولی موقف سے لکھا۔ اُن کی تحریروں سے تو آپ اختلاف کر سکتے ہیں مگر سوچنے کے جس عمل کو تحریریں شروع کرواتی ہیں، اُس سے آپ انحراف نہیں کر سکتے۔ اُن کی تحریریں جمہوری اور سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کثیرالثقافتی معاشرے کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ وہ ایک ایسے باشعور انسان ہیں جن کے پاس بہت زیادہ علم ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو فراخ دلی سے دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ اگر وہ 50برس پہلے ناروے آکر نہ بستے تو کمیونٹی اُن کے علم کے خزانے سے محروم رہتی۔ وہ واقعی ثقافت کے مجاہد ہیں۔

Toni Usman

ٹونی عثمان اداکار، ہدایت کار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ’جدوجہد‘ کے پرانے ساتھی ہیں اور’مزدور جدوجہد‘ کے ادارتی بورڈ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں