روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

جموں میں مسلمانوں کا قتل عام: ایک نظر انداز شدہ نسل کشی کی تاریخ

جموں میں مسلمانوں کا قتل عام: ایک نظر انداز شدہ نسل کشی کی تاریخ

سنکھاسبھرا بسواس

(پہلگام واقعے کے بعد بھارت بھر میں اسلاموفوبیا اور کشمیری مسلمانوں کی کردار کشی کی نئی لہر اُٹھی ہے۔ اس تناظر میں تقسیم کے دور میں جموں میں مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق یہ مضمون بھارت میں ’الٹرنیٹوویوپوائنٹ‘ نے شائع کیا ہے، جسے اردو ترجمہ کر کے جدوجہد کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔)

تعارف: ایک نظر انداز شدہ نسل کشی

اگرچہ تقسیم ہند کے دوران پنجاب اور بنگال کے فسادات کو زیادہ یاد کیا جاتا ہے، لیکن ایک ایسا سانحہ بھی ہے جو اکثر نظرانداز کر دیا گیا، یہ 1947 میں جموں کے مسلمانوں کا قتلِ عام ہے۔ جب پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں تھا، تب ریاست جموں کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں مسلمانوں کے خلاف ایک سوچا سمجھا منصوبہ بند حملہ کیا گیا۔اگست سے نومبر 1947 کے دوران ہزاروں مسلمان قتل کیے گئے، انہیں بے دخل گیا، اور ان کی املاک لوٹی گئیں۔ یہ سب کچھ سرکاری فورسز، دائیں بازو کی تنظیموں، اور ڈوگرہ ہندو اشرافیہ کے ایک طبقے کی ملی بھگت سے ہوا۔

یہ کوئی اچانک بھڑک اٹھنے والا فساد نہیں تھا، بلکہ جموں کے آبادیاتی توازن (ڈیموگرافی)کو بدلنے کے لیے ایک منظم منصوبے کا حصہ تھا تاکہ ہندو اکثریتی شناخت کو پروان چڑھایا جا سکے۔ اس تمام صورتحال کے پیچھے جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کا سیاسی ایجنڈا بھی کارفرما تھا، جو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت سے سخت نفرت رکھتے تھے۔

شاہی ریاست اور فرقہ وارانہ توازن

1947 میں ریاست جموں کشمیر پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی، جو ایک ڈوگرہ ہندو راجہ تھے۔ ریاست میں مسلمان اکثریت میں تھے (تقریباً 77 فیصد)، مگر حکومت، انتظامیہ اور فوج میں زیادہ تر ہندو، خاص طور پر جموں کے ڈوگرہ شامل تھے۔یہ طبقاتی اور فرقہ وارانہ عدم توازن آنے والے خونی سانحے کی واضح علامت تھا۔

تقسیم کے وقت مہاراجہ کے پاس تین راستے تھے، بھارت سے الحاق، پاکستان سے الحاق یا خودمختار رہنا۔ مہاراجہ نے الحاق میں تاخیر کی، مگر جموں میں ہندو سیاسی قوت بڑھتی جا رہی تھی۔ریاست کے مغربی اضلاع، جو پاکستان کے قریب تھے، وہاں کے مسلمانوں پر شک کیا جانے لگا۔سوچ یہ تھی کہ اگر ریاست پاکستان سے الحاق کرتی ہے تو ہندو اشرافیہ کی حیثیت ختم ہو جائے گی، اور اگر بھارت سے الحاق ہوتا ہے تو مسلمانوں کی اکثریت سیاسی مطالبات اٹھائے گی۔ان دونوں امکانات سے بچنے کے لیے آبادی کو بدلنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

قتل عام کا آغاز: اکتوبر تا نومبر 1947

1947 کے خزاں میں جموں خوفناک حد تک عدم استحکام کا شکار تھا۔ مغربی پنجاب سے ہندو اور سکھ مہاجرین جموں پہنچے، جو اپنے ساتھ نفرت اور انتقام کی آگ لائے تھے۔یہ مہاجرین مقامی ڈوگرہ فوجیوں، آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا کے رضاکاروں اور مقامی مسلح گروہوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف منظم حملے کرنے لگے۔

صحافی وید بھسین اور محقق الیاس چٹھہ کی رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں کو زبردستی کیمپوں میں بھیجا گیا یا بسوں میں سوار کر کے پاکستان لے جانے کا جھانسا دیا گیا، مگر زیادہ تر بسوں کو راستے میں روک کر ان کے مسافروں کو قتل کر دیا گیا۔ ان واقعات کے عینی شاہد وید بھسین نے لکھا:

”ان دنوں کی اجتماعی جنونیت کو یاد کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک قاتل اور فرقہ پرست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان دنوں انسانیت نے فرقہ پرست جنونیوں کے ہاتھوں اذیت سہی۔“

کٹھوعہ، ادھم پور، ریاسی اور دیگر مقامات پر خونریز قتل عام ہوا۔عینی شاہدین نے خون آلود ندیوں، لاشوں سے بھرے کھڈوں اور انسانی جسموں سے اٹے کھیتوں کی تفصیل سنائی۔برطانوی حکام نے اندازہ لگایا کہ کم از کم 20ہزارمسلمان قتل کیے گئے، جبکہ دیگر تخمینے 1 لاکھ تک پہنچتے ہیں۔تقریباً 5 لاکھ مسلمان جموں سے نقل مکانی کر کے پاکستان (خصوصاً سیالکوٹ اور پنجاب) کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

یہ محض عوامی غصہ یا جذباتی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ یہ ریاست کی پشت پناہی سے ہونے والا قتل عام تھا۔متعدد رپورٹس کے مطابق مہاراجہ کی فوج نے ہتھیار فراہم کیے، نقل و حمل کے لیے سرکاری گاڑیاں دی گئیں، اور بعض مقامات پر فوجیوں نے یا تو خاموش تماشائی بن کر یا براہ راست شرکت کر کے مسلمانوں کے قتل عام کو ممکن بنایا۔

بے دخلی بطور حکمت عملی: زمین، جائیداد اور طاقت

جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کوئی محض فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک منصوبہ بند بے دخلی تھی۔مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت نے ہندو اور سکھ مہاجرین کو بے تحاشا جائیدادیں حاصل کرنے کا موقع دیا۔مسلمان زمینداروں اور کسانوں کی زمینیں، دکانیں، کاروبار اور گھر چھین لیے گئے اور نوواردوں کے حوالے کر دیے گئے۔یہ صرف آبادیاتی صفایا نہیں تھا، بلکہ معاشی صفایا بھی تھا۔اس قتل عام پر جو خاموشی اختیار کی گئی، وہ جنوبی ایشیا کی حالیہ تاریخ میں سب سے بڑی زمین ہتھیانے کی سازش پر پردہ ڈالنے کے لیے کی گئی۔

یہ قتل عام ہمیں بتاتا ہے کہ نوآبادیاتی آبادکاری (settler colonialism) کا مطلب کیا ہوتا ہے، اور بعد ازاں بھارت نے کشمیر سے کیسا سلوک روا رکھا۔جیسے بھارتی ریاست قوانین اور ادارہ جاتی طریقوں سے وادی کشمیر کی آبادی کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے، ویسے ہی جموں کو 1947 میں طاقت کے زور پر بدل دیا گیا۔جیسا کہ مورخ ارجن اپادورائی نے ایک بار کہا تھاکہ ”نسل کشی اکثر ریاست کی تشکیل کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔“جموں میں انتخابات اور مذاکرات کے ذریعے نہیں بلکہ تشدد کے ذریعے ریاست کو تشکیل دیا گیا۔

شیاما پرساد مکھرجی: اخراج کے نظریے کا علمبردار

اس تمام تشدد کے مرکز میں شیاما پرساد مکھرجی موجود تھے۔وہ نہرو کابینہ کے رکن تھے، بھارتیہ جن سنگھ کے بانی، اور ہندوتوا سیاست کے ابتدائی پرچارکوں میں شامل تھے۔دائیں بازو کے حلقے مکھرجی کی جموں کشمیر سے متعلق سرگرمیوں کو ’قوم پرستی‘کا درجہ دیتے ہیں،لیکن اگر ان کے اقدامات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان میں ایک انتہائی خطرناک منصوبہ جھلکتا ہے۔
مکھرجی آرٹیکل 370 اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کے شدید مخالف تھے، کیونکہ وہ اسے بھارت کی وحدت کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔وہ صرف قانون سازی میں نہیں، بلکہ خیالات کی تشکیل میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ان کی نظر میں ہندو اکثریتی بھارت میں مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے علاقے کی جداگانہ شناخت ناقابل قبول تھی۔ 1950 کی دہائی میں احتجاج کے دوران ان کے لگائے جانے والے نعرے ’ایک ودھان، ایک نشان، ایک پردھان‘ (ایک قانون، ایک پرچم، ایک رہنما) کا مقصدایک ایسا متحدہ تصور پیش کرنا تھا جو مسلمانوں کی سیاسی شناخت کو تسلیم نہ کرے۔

اکتوبر 1947 میں انہوں نے کہا تھا کہ ”ہندو برادری کو خود کو منوانا ہوگا۔ اسے بھارت میں کسی اور مذہب کی بالادستی قبول نہیں کرنی چاہیے۔“

اگرچہ انہوں نے براہِ راست قتل عام کی ترغیب نہیں دی، مگر ہندو بالادستی پر مبنی ان کے خیالات نے جموں کے قتل عام کو نظریاتی جواز فراہم کیا۔انہوں نے قتل و غارت کی کھل کر مذمت نہیں کی، اور مسلمانوں کی جبری بے دخلی پر خاموشی اختیار کی، جو بہت اہم ہے۔ان حملوں میں براہ راست ملوث ہندو مہاسبھا سے ان کی وابستگی ان کے ’آئینی شہری‘ہونے کے دعوؤں پر سوال اٹھاتی ہے۔

مکھرجی محض تماشائی نہیں تھے۔ وہ اس وسیع سیاسی منصوبے کا حصہ تھے جس کا مقصد بھارت کی قومی تشکیل سے مسلم شناخت کو خارج کرنا تھا۔ان کی پاکستان دشمنی کسی سیکولر قومی خیال پر مبنی نہیں تھی، بلکہ بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کے واضح عقیدے سے جڑی ہوئی تھی۔

جموں قتل عام کا طویل سایہ

1947 میں جموں کے قتل عام کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔جموں کی آبادیاتی ساخت ناقابل واپسی طور پر بدل چکی ہے۔تقسیم سے پہلے یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، مگر اب ایک بڑی ہندو آبادی موجود ہے، جو بے دخلی اور آبادکاری کے ذریعے قائم کی گئی۔یہی تبدیلی بھارتی حکومت کو جموں کو’وفادار‘علاقہ اور وادی کو ’باغی‘کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔جموں میں 1947 سے جو آبادی کو بدلنے کا منصوبہ شروع ہوا تھا، وہ آج زیادہ رسمی طریقوں، یعنی زمین کے نئے قوانین، سکونتی سرٹیفکیٹس اور غیر مسلموں کی آبادکاری کی صورت میں میں واپس آ چکا ہے۔

یہ قتل عام برادریوں کے مابین نئی سرحدیں قائم کرنے کا سبب بھی بنا،جنہوں نے بھارتی سیاست کو آئندہ کئی دہائیوں کے لیے متاثر کیا۔جن سنگھ اور بعد میں بی جے پی نے مسلمانوں کی ’غداری‘، اقلیتوں کی ’چاپلوسی‘، اور ہندوؤں کی ’مظلومیت‘کے بیانیے کو جموں میں آزمایا، اور پھر اسے قومی سطح پر پھیلایا۔

مکھرجی کی موت 1953میں قید کے دوران دل کے عارضے سے ہوئی تھی۔ تاہم ان کی موت کو ہندوتوا حلقے سازش قرار دیتے ہیں اور الزام نہرو پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کی جموں میں مسلمانوں کو زمین سے محروم کرنے میں جو سرگرم شراکت تھی، اس پر شاید ہی کوئی سوال اٹھاتا ہے۔

تاریخ نویسی اور فراموشی پر ریاست کی خاموشی

جموں میں ہونے والے قتل عام کو وہ یادداشت اور توجہ نہیں ملی جو پنجاب کے فسادات کو حاصل ہوئی۔پنجاب کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر جموں کے بارے میں بھارتی ریاست نے اس سچائی کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔نصاب کی کتب میں اس کا شاید ہی کوئی ذکر ملتا ہے۔نہ کوئی سرکاری تحقیقات ہوئیں، نہ متاثرین کو معاوضہ دیا گیا، نہ کوئی یادگار تعمیر ہوئی۔ریاست کی پالیسی تھی کہ بھول جاؤ۔

یہ خاموشی کیوں؟کیونکہ اگر جموں میں قتل عام کو تسلیم کیا جائے، تو بھارتی سیکولر قوم پرستی کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔یہ انکشاف ہو جائے گا کہ نسل کشی صرف پاکستانی ’جرم‘ نہیں تھا،بلکہ اس میں بھارتی ریاستی اہلکار، ہندو قوم پرست تنظیمیں، اور حکومت کے افراد بھی شریک تھے۔یہ سب کشمیر کے بھارت سے آزادانہ مرضی سے الحاق کی فرضی کہانی سے متصادم ہو جائے گا، اور یہ بھی سامنے آ جائے گا کہ بھارت کے ریاستی ڈھانچے میں ہندو اکثریتی کنٹرول کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔

بچ جانے والوں کی گواہیاں: تاریخ کی زبانی

جموں میں قتل عام کے زندہ بچ جانے والوں کے بیانات اس خونی المیے کی ہولناکی اور شدت کو نمایاں کرتے ہیں۔حسین گجر اب سیالکوٹ کے تارو والی محلہ میں مقیم ہیں۔1947 میں جب وہ 18 برس کے تھے، ان کا خاندان جموں کے نواکوٹ علاقے میں مارا گیا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ”ڈوگرہ فوجی ایک رات ہمارے گھر آئے اور میرے والد، والدہ، بہن اور دو چھوٹے بھائیوں کو قتل کر دیا۔خوش قسمتی سے میں اس رات کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔صبح واپس آیا تو ان کی لاشیں جگہ جگہ بکھری ہوئی تھیں۔مہاراجہ کے فوجیوں نے ہمارے گھر کا سارا سامان لوٹ لیا۔میں صرف ایک ہینڈ بیگ کے ساتھ نواکوٹ سے سیالکوٹ تک پیدل چل کر آیا۔“

ظفر بٹ بھی 1947 کے آخری مہینوں میں جموں سے سیالکوٹ فرار ہوئے۔ان کے تمام اہل خانہ نواکوٹ میں قتل کر دیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ”میرا پورا خاندان نواکوٹ میں ڈوگرہ سپاہیوں نے قتل کر دیا تھا۔“ (یہ 6 نومبر 1947 کا قتل عام تھا جس نے جموں شہر کی نصف مسلم آبادی کو ختم کر دیا۔)

ضرار حسین اب سیالکوٹ چھاؤنی میں مقیم ہیں اور مرکزی حکومت کے ملازم ہیں، وہ بھی بچپن میں جموں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ ”مہاراجہ کی ریاستی افواج جموں شہر میں مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل عام کر رہی تھیں۔میرے والد جموں کی عدالت میں معروف وکیل تھے۔ہمیں جموں چھوڑ کر سیالکوٹ ہجرت کرنا پڑی۔“

ہاجرہ نے ادھم پور میں اپنے 17 رشتہ دار کھو دیے تھے۔وہ یاد کرتی ہیں کہ انہیں اپنی جان بچانے کے لیے کیا کچھ سہنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ”میں بچوں کو بچانے کے لیے دوڑی اور ریاسی نامی ایک چھوٹے گاؤں میں پناہ لی۔قتل عام سے ایک دن پہلے میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔کٹھن راستوں پر سفر کے دوران مجھے پتہ چلا کہ میری گود میں جو بچہ تھا، وہ سرد ہو چکا ہے۔ وہ مر چکا تھا۔پھر بھوک اور بے گھر ہونے کے باعث اگلے چند ہفتوں میں میرے دو اور بچے بھی جان سے گئے۔“

اختتامیہ: تاریخ کی فراموشی کے خلاف یاددوں کی مزاحمت

جموں کا 1947 کا قتل عام صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں ہے۔یہ جدید بھارت کی تخلیق کا ایک سچّا اور تلخ لمحہ ہے۔یہ اس بات کو آشکار کرتا ہے کہ سیکولرازم کے دعوے کھوکھلے تھے،قوم پرستی کے نعروں کے پیچھے تشدد چھپا تھا،اوراقتدار کی ہوس میں سیاسی رہنما کس حد تک جا سکتے تھے۔

جموں کے مسلمان صرف تقسیم کے بے گناہ متاثرین نہیں تھے۔ وہ ایک سیاسی منصوبے کے شکار تھے،جس کا مقصد علاقے کو ہندو بھارت کی شناخت میں ڈھالنا تھا۔جموں کو یاد رکھنا صرف ماضی کی یاد نہیں۔ یہ موجودہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت ہے۔یہ ان جھوٹے بیانیوں کو چیلنج کرنا ہے جن پر ریاستی سچائیوں کی عمارت کھڑی ہے،اور یہ شیاما برساد مکھرجی جیسی شخصیات کی اصلیت کو بے نقاب کرنا ہے،جن کی میراث وحدت نہیں، تقسیم پر مبنی ہے۔

فیض احمد فیض نے کہا تھا:

”ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں روئی کی طرح اُڑ جائیں گے۔۔۔“
اور جب تک وہ دن نہ آئے، جموں کے سچ کو صرف یاد نہیں کرنا، بلکہ مزاحمت کے طور پر بلند آواز میں دہرانا ہو گا۔

(بشکریہ: ’الٹرنیٹو ویوپوائنٹ‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Sankhasabhra Biswas
ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں