روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

افغانوں کی ایران سے بے دخلی: مہاجرین کے مسئلے پر ملا اور ٹرمپ ایک پیج پر

افغانوں کی ایران سے بے دخلی: مہاجرین کے مسئلے پر ملا اور ٹرمپ ایک پیج پر

لاہور(جدوجہد رپورٹ) سال2025کے ابتدائی6ماہ کے دوران ایران کی حکومت نے 10لاکھ افغان مہاجرین کو بے دخل کیا ہے۔ ایران کی سرکردہ مزدور یونینوں’آزاد ایرانی ورکرز یونین‘ اور ’تہران بس ورکرز سنڈیکیٹ‘ نے ملک سے افغان مہاجرین کی اجتماعی بے دخلی کو ’غیر انسانی کارروائی‘ اور ’سیاسی پردہ پوشی ‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

’دی فائر نیکسٹ ٹائم‘ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بے دخل ہونے والوں کی تعداد3لاکھ80ہزار سے زائد ہے، جنہیں خراسان رضوی میں دوغارون بارڈر کے ذریعے نکالا گیا۔

آزاد ایرانی ورکرز یونین نے اس بے دخلی کو ’منظم جرم‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’3لاکھ 80ہزار افراد کی بے دخلی صرف اعداد نہیں، بلکہ یہ جنگ سے بھاگ کر آئے لوگوں کے خلاف ایک منظم اور غیر انسانی جرم کی عکاسی ہے۔ ‘

یونین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مہاجرین کو قبل از وقت استعمال کر کے اب انہیں مسائل کا شکار بنا رہی ہے، تاکہ ملکی ناکامیوں میں اسے ایک سہارا مل سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی سیاسی قیدیوں کی تذلیل کا ایک سلسلہ ہے، جنہیں ملک سے نکالا جا رہا ہے۔ یونین نے ایرانی اور افغان عوام کی مشترکہ جدوجہد کا مطالبہ کیا۔

تہران بس ورکرز سنڈیکیٹ نے اس بے دخلی کو’انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی‘اور’عالمی مزدور یکجہتی کے لیے خطرہ‘قرار دیا۔بیان میں کہا گیا کہ مہاجرین کو جرائم پیشہ قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے طبقاتی اتحاد کمزور ہوتا ہے۔ بیان میں جاسوسی کے بے بنیاد الزامات کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ سنٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران( سی ایچ آر آئی )کے مطابق رواں سال یکم جون سے اب تک کم از کم 6لاکھ افغان شہریوں کو بے دخل کیا گیا ہے، جن میں سے 70فیصد کو جبری طورپر واپس بھیجا گیا۔

اقوام متحدہ کے ادارے آئی او ایم کے مطابق صرف ماہ جون کے دوران4لاکھ50ہزار افغان اپنی مرضی یا دباؤ کے تحت افغانستان واپس بھیجے گئے ہیں۔

وکی پیڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 24جون سے 9جولائی کے درمیان 5لاکھ 8ہزار426افراد بے دخل کیے گئے اور سال2025کے ابتدائی 6ماہ اور 9دن کے دوران 10لاکھ سے زائد لوگوں کو بے دخل کیا گیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے قانونی عمل اور حفاظتی اقدامات کے بغیر بے دخلی کو عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، اور حقوق کی پامالی کی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے سرکاری طور پر افغان مہاجرین پر’جاسوسی‘کے الزامات عائد کیے، جن کا مقصد داخلی حمایت بحال کرنا اور بحرانوں میں مہاجرین کو مورد الزام ٹھہرانا ہے۔اقتصادی مشکلات، بیرونی دباؤ اور اسرائیل ایران جنگ نے سرکاری حکمت عملی کو مزید سخت کر دیا۔

ایران افغان سرحد پر ہزاروں افراد شدید گرمی میں حفاظتی اقدامات سے محروم پھنستے جا رہے ہیں اور بعض افراد کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

ایرانی مزدور تنظیمیں اس ایک رخے اور بے ضابطہ ردعمل کو انسانی وقار اور مزدوری کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طبقاتی اتحاداور انسانی حقوق کا تحفظ تبھی ممکن ہے جب ملک کی سیاست مہاجرین کونشانہ بنانے کی بجائے انہیں سہارا دینے پر مبنی ہو۔ انسانی و سماجی انصاف کے لیے یہ مطالبے تقاضا کرتے ہیں کہ داخلی پالیسیاں پناہ گزینوں کا تحفظ، قانونی شفافیت، اور بین الاقوامی اخلاقی معیارات کے مطابق ہوں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں